ہم سب کے چند ساحروں پر ایک شوخ نظر


\"\"

گزشتہ مضمون میں ہم سب کے رنگا رنگ ساحروں کا ذکر ہوا تھا، آج ان کے سحر کا حال بیان کرتے ہیں۔ ہم سب پر لکھنے والوں کی ایک کہکشاں آباد ہے۔ ساڑھے سات سو سے زیادہ مصنفین کے اپنے نام سے تحریر شائع کی جا چکی ہے۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جن کی تحریر ایک مشترکہ اکاؤنٹ، ’میری نگاہ میں‘ سے شائع کی جاتی ہے اور اندازہ ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ افراد کی تحریریں ’ہم سب‘ پر شائع کی جا چکی ہیں۔ آئیے ان میں سے چند ایک کا تعارف ہی کراتے ہیں جو کہ ہمارے حق بیان کرنے پر ناراض نہیں ہوتے ہیں  اور ناحق ہم سے ایسی باتیں سنتے رہتے ہیں۔

لیکن ہو بھی جائیں تو کیا ہے۔ وجاہت صاحب سے لڑتے رہیں گے کہ آپ کیسی تحریریں شائع کر دیتے ہیں۔

وصی بابا\"\"

بابا صاحب ایک نہایت کنفیوز رائٹر ہیں۔ آج تک وہ یہ فیصلہ نہیں کر پائے کے ان کے قلمی نام کی املا وصی ہے یا وسی۔ اپنا تعلق بیک وقت وزیرستان، پشاور، سندھ اور پنجاب سے جوڑ لیتے ہیں۔ تن و توش ایسا ہے کہ ان کو کھانے کی دعوت دینے سے پہلے میزبان کو سوچنا پڑتا ہے کہ کیا دس لوگوں کے کھانے کے پیسے اس کی جیب میں موجود ہیں یا نہیں۔ ایسے تن و توش کے لوگ عموماً ہنسوڑ ہوتے ہیں کیونکہ سنجیدہ بات کا سنجیدہ تر ردعمل آ جائے تو دوڑ لگانا ان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ وصی بابا کا مزاح عام طور پر ایک مظلوم بھینس کے گرد گھومتا ہے جس میں ان کے کزن یا دوست وغیرہ  ثانوی کردار کے طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔

فرنود عالم\"\"

یہ حضرت کسی مدرسے کے تعلیم یافتہ ہیں جس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی میں داخل ہو کر دو تین ایم اے بھی کر ڈالے۔ یعنی ہم ان کی فکری گمراہی کا الزام مدرسے یا جدید تعلیم میں سے کسی ایک کو نہیں دے سکتے ہیں۔ فرنود نہایت ہی غور و فکر کر کے لکھنے کے عادی ہیں۔ عام طور پر دو ہفتے تک سوچتے رہتے ہیں اور اس کے بعد تحریر لکھ ڈالتے ہیں۔ ان کی تحریر پڑھ کر گمان ہوتا ہے کہ ان چودہ دنوں میں سے کوئی بارہ دن تو وہ لغت کے مطالعے میں صرف کرتے ہوں گے تاکہ مسجع و مقفع عبارت لکھ پائیں۔ اگر اقبال اپنی شاعری نثر میں کرتے تو ان کا انداز تحریر ایسا ہی ہوتا۔ ’نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں‘ قسم کی تحریریں لکھتے ہیں۔

ظفر اللہ خان\"\"

ید بیضا تخلص کرتے ہیں، یعنی سفید ہاتھوں والا۔ غالباً یہ جتانا چاہتے ہیں کہ ان کا صابن دس سیکنڈ میں ہاتھ کی صفائی دکھا جاتا ہے اور باقی ساری دنیا کا صابن سلو ہے۔ ان کا تعلق پشین سے ہے جس کے نواح میں کوئٹہ اور چمن آباد ہیں۔ پہلے ادھر کے سندر خانی انگور اور قندھاری جہادی مشہور ہوا کرتے تھے مگر اب ید بیضا کے منظر عام پر آنے کے بعد سے وہ اتنے مشہور نہیں رہے ہیں۔

ان کے ذہن میں خیالات تو بہت ہیں اور بہت زیادہ لکھ سکتے ہیں مگر بدقسمتی سے ان کا تخلص ان کو لڑ گیا ہے، یعنی اپنے ہاتھ صاف شفاف رکھنے میں یہ جتنا وقت صرف کرتے ہیں، اس کے بعد نتیجے میں ان کی ٹائپنگ کی رفتار بہت کم ہو گئی ہے۔ غالباً ہر جملہ ٹائپ کرنے کے بعد یہ ہاتھ دھونے چلے جاتے ہیں۔ اسی لئے یہ بھِی دو ہفتے میں ایک مضمون لکھ پاتے ہیں۔

وقار ملک\"\"

کسی درویش نے ان صاحب کو ملک الجبال کا خطاب دیا تھا۔ شمالی علاقوں کی محبت میں گرفتار ہیں اور ہر سال ادھر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم انہیں بتا بھی چکے ہیں کہ سلاجیت کی ڈیمانڈ اب نہیں رہی ہے اور انگریزی ادویات نے اس کی جگہ لے لی ہے، مگر ان کے قافلے ادھر پہاڑوں کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ پارس پتھر کی تلاش میں جاتے ہوں جس کے بارے میں مشہور ہے کہ لوہے کو چھو جائے تو اسے سونا بنا دیتا ہے۔

پہاڑوں کے علاوہ ان کا دوسرا محبوب موضوع ان کا گاؤں ہے جو ادھر چکوال کے آس پاس کہیں واقع ہے۔ ان کی کہانیاں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ چکوال کے نواحی دیہات کے بچوں کی اتنی سخت ذہنی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ بڑے ہو کر وقار ملک بن جاتے ہیں۔ ایک روایت ان سے ہی پتہ چلی کہ بچے کو غور و فکر کا عادی بنانے کے لئے اس کے سامنے ایک لکیر کھینچ دی جاتی ہے اور ساتھ ایک سحر پڑھا جاتا ہے جسے بچے ختم نہیں کر سکتے۔ کوئی بڑا آ کر اس حصار کو مٹائے تو پھر ہی بچہ اس سے باہر نکل سکتا ہے، ورنہ صبح سے شام تک اسے وہیں بیٹھ کر ارض و سما کے مسائل پر غور کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مرشد وسی بابے کا خیال ہے کہ اگر وہ لکھنو میں پیدا ہوتے تو میر انیس و دبیر کی ٹکر کے مرثیہ نگار ہوتے۔

عثمان قاضی\"\"

قاضی صاحب کے بارے میں پہلے پہل ہمیں غلط فہمی تھی کہ وہ کوئی بین الاقوامی قسم کے کنسلٹنٹ ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی بحری قزاقی کے عالمی مرکز صومالیہ میں تصاویر شائع ہوئیں تو ہمیں علم ہوا کہ یہ المشہور پائریٹس آف دا کریبئین کے کپتان جان سپیرو کی ٹکر کے بحری قزاق ہیں۔ ان کی یاد داشت کمال کی ہے۔ ادھر اسلام آباد کے ایک گوشے میں ایک سالم مکان لے کر اس میں اپنی ذاتی لائبریری بنا چکے ہیں۔ چھے ماہ سمندر میں گزارنے کے بعد جب واپس آتے ہیں تو بقیہ چھے ماہ اس کتب خانے میں بیٹھ کر میر و غالب سے لے کر فکر تونسوی تک کو حفظ کرتے ہیں۔ آپ منشی نولکشور کی شائع کردہ کسی کتاب کا اقتباس بھی دہرا دیں تو یہ فٹ سے بتا دیتے ہیں کہ کس کتاب کا ہے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ان کو کئی زبانوں کی گرائمر یاد ہے۔ ہم تو آج تک اردو کی گرائمر بھی سیکھ نہ پائے، مگر یہ تو ہفت خواں ہیں۔

عاصم بخشی\"\"

یہ حضرت ہم سب کے فلسفی ہیں۔ ان کا مشغلہ ایسی اردو لکھنا ہے جسے پڑھ کر سب سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ’ہیں، اردو اتنی ظالم زبان ہے کیا؟‘ فارغ وقت میں مختلف فلسفیوں اور فلسفی نما ادیبوں کے مضامین کے ترجمے کرتے رہتے ہیں۔

ان کا سب پر رعب ایسا ہے کہ ان سے بحث کی کوئی بھی جرات نہیں کرتا ہے کہ خدانخواستہ انہوں نے بھنا کر مضمون لکھ دیا تو اسے کہاں سے پڑھواتے پھریں گے۔

حسنین جمال \"\"

اگر آپ کو آواگون کے نظریے پر یقین نہیں ہے تو حسنین جمال سے ملاقات کر لیں۔ ان کو دیکھ کر یقین ہونے لگتا ہے کہ یہ ادھر قدیم یونان کے کسی فلسفی کا نیا جنم ہے۔ یا کم از کم ان کا حجام ادھر قدیم یونان کے کسی حجام کا نیا جنم ہے۔ ان کے رخ روشن پر ویسی ہی سی داڑھی اور مونچھیں بہار دکھاتی ہیں جو سقراط بقراط وغیرہ رکھا کرتے تھے اور غالباً ہر یونانی فلسفی کے لئے رکھنا لازم تھا۔

یہ نہایت سلیس اردو لکھتے ہیں جو پچھلی صدی کے لکھنو کا ہر خاص و عام شخص بہ آسانی سمجھ سکتا تھا۔ تحریر میں بھی وہیں کا اثر ہے اور اکثر رنجیدہ رہتے ہیں۔ لیکن اس رنجیدگی پر ان کو الزام نہیں دینا چاہیے کہ کسب معاش کی خاطر ڈرگ ڈیلری کرتے ہیں۔ نہ انہوں نے کبھی بتایا کہ وہ کس قسم کی ڈرگز بیچتے ہیں اور نہ ہم نے خود پوچھنے کی جسارت کی، مگر جس اہتمام سے سگریٹ پیتے ہیں اور سرور میں آتے ہیں، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے مہنگی والی ہی ہوتی ہوں گی جس کی ایک پڑیا ہی غریب لوگ سارے دن میں افورڈ کرتے ہیں اور بعض مجبور تو اس کی خاطر ادھر ادھر نلکے وغیرہ بھی چوری کرنے کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔


ہم سب کی چند ساحرائیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “ہم سب کے چند ساحروں پر ایک شوخ نظر

Comments are closed.