اوم پوری:یہ کون چل دیا کہ گلستاں اداس ہے


\"\"ہر اداکار کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ بھارتی سنیما میں تو اداکاروں کا اپنا اپنا میدان رہا ہے۔ کوئی مزاحیہ اداکاری کے لئے شہرت رکھتا ہے، کسی کو رومانی کردار ادا کرنے کے لئے جانا جاتا ہے اور کسی کو ایکشن کے لئے پسند کیا جاتا ہے۔ دلیپ کمار شہنشاہ جذبات کے طور پر مشہور ہوئے، شاہ رخ خان رومانی کردار ادا کرنے کے سبب آنکھوں کا تارہ بنے اور پاریش راول کو مزاحیہ اداکاری کے لئے جانا گیا۔ ایسے میں اگر کوئی اداکار بیک وقت الگ الگ نوعیت کے کردار کامیابی سے ادا بھی کرے اور مقبول بھی ہو تو یقیناً اس اداکار کو اوم پوری کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ اوم پوری نے دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈرامہ سے تھیٹر کی باریکیاں سیکھیں، پونے کے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ سے اداکاری کی تعلیم حاصل کی اور پھر ہندی فلموں کے بھول بھلیاں میں اپنے لئے راستہ کھوجنے نکلے۔

طالب علمی کے دور میں ہی نصیر الدین شاہ جیسا رفیق مل گیا تھا جو وقت کی دھوپ چھاؤں اور حالات و حوادث کے تھپیڑوں میں ہمیشہ شریک بنا رہا۔ نصیر اور اوم پوری دونوں ہی اس چاکلیٹی چہرے سے محروم تھے جسے ہیرو بننے کے لئے جزو لازم سمجھ لیا گیا تھا۔ کچھ لوگوں نے تو کہا بھی کہ دو بہت بد شکل لوگ ہیرو بننے آئے ہیں۔ نصیر اور اوم پوری نے فلمی دنیا میں کامیابی کے لئے برسوں سے روندی جا رہی راہ پر چلنا پسند نہیں کیا اور اپنی الگ راہ بنائی۔ آرٹ فلموں کی شکل میں بھارتی ناظرین کو وہ فلمیں دیکھنے کا موقع ملا جس میں ان کے خواب کی نہیں بلکہ ان کے آس پاس کی حقیقی زندگی کا عکس زیادہ تھا۔ ان فلموں میں اوم پوری کا کردار ایسا رچ بس گیا کہ ایک زمانے میں آرٹ فلم بنانے والا نصیر الدین شاہ، اوم پوری، شبانہ اعظمی اور سمیتا پاٹل میں سے کسی کو سائن کرنے کی تاک میں رہتا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  کوئٹہ میں ہنہ جھیل خشک، ہزاروں مچھلیاں ہلاک

\"\"

اوم پوری نے اپنی فلموں میں دو چیزوں کو آواز دی۔ پہلا عام انسانی زندگی کے مسائل اور دوسرا نظام کی خرابیوں کے خلاف عوام کا غصہ۔ چاہے وہ اردھ ستیہ کا فرض شناس پولیس افسر یا پھر مرچ مصالحہ کا چوکیدار، یہ کردار وہ تھے جن میں عام بھارتی اپنا عکس دیکھتا تھا۔ متوازی سنیما کی دنیا پر طویل عرصے تک گہرے نقوش ثبت کرنے کے بعد اوم پوری نے تفریحی سنیما میں بھی کامیاب اور طویل دور گزارا۔ یہ اعزاز دنیا میں بہت کم کے حصے میں آیا ہے کہ کوئی اداکار بیک وقت متوازی سنیما اور تفریحی سنیما دونوں میں یکساں طور پر مقبول ہوا ہو۔

اب اوم پوری کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو دیکھئے۔ اردھ ستیہ کے اس فرض شناس پولیس والے کو یاد کیجئے جس کے چہرے پر نظام کی خرابیوں کا غصہ ہے اور پھر چپ چپ کے کے اس گجراتی دولت مند کو یاد کیجئے جس کی ایک ایک ادا میں مزاح اور موج کا رنگ ہے۔ ڈرٹی پالیٹیکس کے رنگیلے بوڑھے سیاست داں کو یاد کیجئے اور پھر قربان کے اس ادھیڑ کو جس کے سر پر جہاد کا بھوت سوار ہے۔ آن کے پولیس کمشنر کو یاد کیجئے جس میں سنجیدگی اور تحمل ہے اور پھر بلو باربر کے اس مالدار دیہاتی کو یاد کیجئے جو اپنی دولت کے سبب بڑے سوپر اسٹار سے ملنے کا متمنی ہے۔ ہر جگہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اوم پوری اسی کردار کو سب سے بہتر طریقے سے نبھا رہے ہیں۔

اوم پوری نے بھارتی سنیما کے بارے میں پہلے سے چلی آ رہی کچھ آراء کو توڑا۔ پہلا یہ کہ فلمی دنیا میں کامیاب اداکاری کے لئے چہرہ مہرہ اور ظاہری خوبصورتی معنی رکھتی ہے۔ دوسرا یہ کہ یا تو کوئی آرٹ فلموں میں کامیاب ہو سکتا ہے یا پھر تفریحی فلموں میں۔ تیسرا یہ کہ آرٹ فلموں کے ہیرو کا فلمی سفر چند ایک فلموں کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ اوم پوری نے ایک کے بعد ایک کامیاب آرٹ فلمیں دیں، اس کے بعد تفریحی فلموں میں ایک طویل باری کھیلی۔ پہلے سنجیدہ کردار ادا کئے، پھر دیگر کردار اور پھر مزاحیہ اداکار کے طور پر مقبولیت پائی۔ اوم پوری کے جانے سے دو مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ تھیئٹر اور آرٹ سنیما کی دنیا کے نشیب و فراز پار کرکے تفریحی فلموں کی دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والی نسل کے وہ آخری فرزندوں میں تھے۔ ان کے بعد شاید ہی اب کوئی نیا چہرہ ہمیں آرٹ فلموں کی پگڈنڈی عبور کرکے ہندی فلم انڈسٹری میں جگہ بناتا نظر آئے۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ہماری فلموں میں پھر سے ہیرو کے لئے چاکلیٹی چہرے والی فکر جگہ بنانے لگی ہے۔ ایسے میں وہ ان باصلاحیت اداکاروں کے لئے زندہ مثال تھے جن کے پاس گوری کھال نہیں لیکن اداکاری کا ہنر ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ فلم سازی ایک بڑا سنجیدہ کام ہے اور فلمیں سماج کی آواز ہونی چاہئیں ایسے میں اس اداکار کا چلے جانا جو ہمارے درمیان کا بلکہ خود ہمارا عکس لگتا ہو، ہمارا اپنا نقصان ہے۔

اسی بارے میں: ۔  اے نیئر: اور تان ٹوٹ گئی

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 41 posts and counting.See all posts by malik-ashter