آپ کی ڈیٹ آپ کو مبارک


 \"\"میں یہ جان چکی ہوں کہ میں انتہائی فرسودہ خیالات کی لڑکی ہوں، اور مجھے یہ سب ہم سب پر بلاگ لکھنے کے بعد ہی علم ہوا، اور مجھے بہت خوشی بھی ہوئی کہ آج کل کے دور میں میری جیسی فرسودہ خیالات کی لڑکیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ میرا خیال ہے میں اہرام مصر کے دور کی کوئی ممی ہوں، جس پر مسالہ لگا کر اسے محفوظ رکھنے کی کوشش تو کامیاب رہی لیکن لوگ اس مسالے کی دریافت میں کشمکش کا شکار ہیں کہ آخر ممی صحیح سالم کیسے ہے۔ اگر مجھے اپنے کیمیکل کمپاونڈ کا علم ہوتا تو یقین کریں اپنا کیمیکل فارمولا بتا دیتی تاکہ آپ کو دلوں کو اطمینان آ جاتا۔

آپ چاہیں تو مجھے کسی میوزیم میں رکھوا دیں۔ لوگ مجھے آکر دیکھا کریں گے، تحقیق و تجربے کی جستجو جاگے گی، آپ میری جیسی اور ممیوں پر تحقیق کا آغاز کریں گے، علم کی نئی راہ ہموار ہوگی اور میری ممی کو بھی اپنی اہمیت کا علم ہوسکے گا اور عالم ارواح سے میں اپنے اوپر ہونے والے نئے نئے تبصروں اور ملنے والے تمغات پر جشن منانے آیا کروں گی۔

میری سوچ مختلف ہے آپ سے تو میں کیا کروں؟ یقیناً میں فرسودہ خیالات کی مالک ہوسکتی ہوں اور آپ روشن خیالات کے مالک ہوسکتے ہیں، اگر آپ کسی پر کوئی سوال اٹھانا چاہتے ہیں تو پہلے مکمل تجزیہ درکار ہوتا ہے۔ شعیب محمد صاحب آپ کا تجزیہ نامکمل ہے۔

آپ میری فکر پر کم اور انداز تحریر ہر زیادہ دھیان دے رہے ہیں۔ آپ کی اپنی رائے ہے لیکن، مسلط کرنے کا جملہ میں نے جس زمرے میں استعمال کیا آپ اس کی شناخت کرنے سے ہی قاصر ہیں تو میرا کوئی قصور نہیں، اور نہ ہی میں سمجھا سکوں گی کیونکہ آپ رائے اور تنقید کےفرق میں تمیز نہیں کر پا رہے ہیں۔

میں مکمل تحریر پڑھ کر تجزیہ دیتی ہوں، اور جذباتیت کا تو آپ کو سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اگر لڑکی جذباتی نہیں ہوگی تو کیا مرد کو جذباتی ہونا چاہئے؟ لڑکیاں فطرتاً جذباتی ہوتی ہیں، یہ تحقیق ہے اور میں یہ چاہتی بھی نہیں کہ آپ مجھے غیرجذباتی سمجھ بیٹھیں۔ آپ کے لئے میری تحریر کو سمجھنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ آپ سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ آپ ایک انتہائی حساس اور جذباتی لڑکی کی تحریر پڑھ رہے ہیں تاکہ آپ کو میری تحریر کی نیت پر شک نہ ہو۔

اسی بارے میں: ۔  ایسے ہوجائے مگر کیسے ہوجائے؟

آپ نے میری تحریر پر جو سوالات کھڑے کئے ہیں اس پر سب سے پہلے یہ جاننا چاہوں گی:

کیا کوئی مصنف یا مصنفہ اپنی تحریر میں یہ لکھتی ہے یا لکھتا ہے کہ میری جوابی تحریر کا مقصد آپ کی تحریر سے اختلاف یا رضامندی کا مظاہرہ کرنا ہے۔

دوسری بات یہ کہ، کیا رائے مسلط کہہ کر کی جاتی ہے کہ ہاں میں تم پر اپنی رائے یا سوچ مسلط کرنا چاہتا ہوں یا چاہتی ہوں؟

انسان اپنے انداز بیان سے کسی کی سوچ و فکر کو یا تو سراہتا ہے یا پھر اس کی نفی کرتا ہے، میری فرسودہ سوچ ہے؟ کیسے وضاحت کریں گے آپ اس جملے کی؟

میری تحریر لڑکیوں کو عزت کے نام پر قتل کروانے کا باعث ہوگی؟ ذرا اس جملے کی بھی وضاحت کیجئے گا تاکہ میری بھی کچھ رہنمائی ہوسکے۔

لعنت ملامت کا مقصد گالم گلوچ نہیں ہوتا شعیب محمد صاحب، اگر ہم بیزاری و کوفت کا اظہار کرنا چاہیں تو بہت سے اور انداز ہوا کرتے ہیں۔

آپ کی باتوں سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں خواتین کے حقوق سلب کرنے پر تلی ہوئی ہوں۔

لوگ میری فکر و سوچ کو اپنی زبان کے غبار سے آلودہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ مجھے یہ تو کہہ دیں کہ میں عورتوں کے اختیار میں کمی کی خواہشمند ہوں، ان کی آزادی کے خلاف ہوں، ان کی محبت کے خلاف ہوں، گھریلو ناچاقیوں سے ناواقف ہوں، ایک دوسرے سے ملنے کو جرم قرار دے رہی ہوں، لیکن اگر میں یہ کہہ دوں کہ آپ میری سوچ کو سمجھنے سے قاصر ہیں، میری نیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں، اپنی ذمےداریوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں تو میں تو عورت دشمن قرار پا گئی اور آپ کو یہی اعتراض ستائے جا رہا ہے کہ مجھے اعتراض کیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  معاملہ روز مرہ کے شہری شعور کا ہے

سلام ہے شعیب صاحب آپ پر، آپ کی معصومیت پر اور آپ کے تجزیے پر۔ ویسے آپ کی رہنمائی کرنا چاہوں گی کہ آپ اور میں جس معاشرے میں جی رہے ہیں یہ مرد حضرات کا معاشرہ ہے۔ خواتین کو بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے یہاں۔

مرد کو بہت آزادی ہے ہمارے معاشرے میں، مرد کو معاشرہ بادشاہ سمجھتا ہے، اور عورت کو غلام، ہم کتنے ہی پڑھ لکھ کیوں نا جائیں ہمارے ہاں خواتین کو عزت و تکریم کے جس سانچے میں دیکھا جاتا ہے اس میں اگر ہم ڈیٹس منانا شروع کردیں تو ہم خود اپنی پیر پر سب سے بڑی کلہاڑی ماریں گے۔

ڈیٹ کا لفظ ہی بہت مشکوک سمجھا جاتا ہے، اچھے معنوں مین نہیں لیا جاتا، ڈیٹ ہمارے معاشرے میں کسی دوست کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا نام نہیں ہے شعیب صاحب، اس شخص کے ساتھ وقت گزرانے کا نام ہے جس کو ہم پسند کرتے ہوں ۔

بہت سے خاندانوں میں یہ کوئی معیوب بات نہیں ہوگی لیکن مڈل کلاس جسے آپ درمیانہ طبقہ کہتے ہیں، اس میں گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔ آپ معاشرے کی ناہمواریوں کو مد نظر رکھ کر میری تحریر کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ وہ ہی بچے اپنی ڈیٹ انجوائے کرسکتے ہیں جن کے ماں باپ نے اپنی ڈیٹ بھی کسی زمانے میں انجوائے کی ہو۔ ورنہ صرف ذلت و رسوائی نصیب میں آتی ہے اور لڑکی کی اپنی مرضی سے شادی کر کے ماں باپ شکر کا سانس لیتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔