تین بوتلوں کے استعارے سے مردانہ اخلاقی تربیت


\"\"

بائیں طرف وہ بوتل ہے جو بالکل خالی ہے اور بے کار ہے۔ اس کے سر پر کچھ نہیں ہے۔ درمیان میں وہ بوتل ہے جس میں آدھا مشروب ہے مگر اس کے سر پر بھی کچھ نہیں ہے۔ یہ آدھی خراب ہے اور آدھی ٹھیک۔ یعنی اگر آپ جلد بازی میں اسے پی لیں تو اسے ٹھس اور بد مزا پائیں گے۔ اور دائیں طرف جو بوتل پڑی ہے جس کے سر پر کراؤن کیپ ہے وہ وہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس بوتل میں پورا مشروب بھرا ہوا ہے اور یہ نہایت میٹھی اور ذائقے دار ہے۔

اب اگر تمہیں ان تینوں میں سے ایک بوتل کا انتخاب کرنا ہو تو تم کسے اٹھاؤ گے؟ پہلی بوتل تو کوڑے والا ہی لے گا۔ اس کے سر پر نہ تو کراؤن کیپ ہے اور نہ اس میں مشروب کا ایک قطرہ ہے۔ یہ خود کو ضائع کر چکی ہے۔

دوسری بوتل میں مشروب تو ہے لیکن اسے اٹھاتے ہوئے تم سو بار سوچو گے۔ اسے پتہ نہیں کس نے پیا ہو گا۔ اگر تم نے ایک دن پہلے خود ہی یہ بوتل آدھی پی کر رکھی ہو تو تم پھر بھی یہ سوچو گے کہ اس کی گیس نکل چکی ہے اور اسے پینے کا کوئی لطف نہیں آئے گا۔ تم خوف کھاؤ گے کہ کھلے منہ سے اس میں نہ جانے کیا کیا گند بلا اور حشرات اندر گر چکے ہوں گے۔

تیسری بوتل کو تم بے ساختہ ہاتھ بڑھا کر اٹھا لو گے اور اس کا خوب لطف اٹھاؤ گے۔ کراؤن کیپ نے اس کے اندر موجود بخارات کو محفوظ رکھا ہے اور اس کے ذائقے میں فرق نہیں آنے دیا۔

ان تینوں بوتلوں میں کیا فرق ہے؟ صرف ایک کراؤن کیپ کا! مگر تم دیکھو کہ دو بوتلیں کراؤن کیپ نہ ہونے کی وجہ سے کچرے والے کے قابل ٹھہریں اور تیسری کراؤن کیپ ہونے کی وجہ سے بیش قیمت قرار پائی۔

میرے بھائیو۔ یہی مثال ایک گھبرو مرد اور اس کے سر پر موجود پگڑی کی ہے۔ تم اب اس صورت حال کو خود پر منطبق کرو۔ تمہارے سر پر پگڑی ہو گی تو تمہارے ذہن میں بھی معصیت کے مسموم بخارات نہیں چڑھیں گے بلکہ وہ اس بوتل کی گیس کی مانند تمہارے بدن کے اندر ہی قید رہیں گے۔ یہ بخارات توانائی بن کر تمہارے رگ و جان میں دوڑتے رہیں گے اور تمہیں بڑے بڑے کارنامے کرنے پر اکسائیں گے۔ تم بھی سب سے دائیں طرف والی بوتل کی مانند خوبصورت اور پرکشش دکھائی دو گے اور ہر کوئی تمہاری مردانگی اور وجاہت سے متاثر ہو گا۔ جسم میں مقید ان بخارات سے تمہارے ذہن میں بھی مزید اچھوتے خیالات اور نادر استعارے پیدا ہوتے رہیں گے

تم پگڑی کو سر سے اتار دو گے تو نہ صرف یہ کہ شدید سردی میں زکام اور گرمی میں لو لگنے کے باعث سرسام کا شکار ہو جاؤِ گے، بلکہ اپنی تمام تخلیقی صلاحیتیں بھی کھو بیٹھو گے۔

اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ تم نے ان تینوں میں سے کون سی بوتل بننا ہے۔

لنڈے کے لبرل بھی سوچ لیں کہ ان کے آقا بھی سر پر ہیٹ پہن کر ہی معزز قرار پاتے ہیں۔ ہماری بات نہیں ماننی تو ان سے ہی سبق سیکھ لیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 664 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “تین بوتلوں کے استعارے سے مردانہ اخلاقی تربیت

  • 08-01-2017 at 1:47 pm
    Permalink

    ھا ھا ھا سچ کہا آپ نے آپ کی تحریریں جاندار ھوتی ھیں. اور ان میں ادب بھی پایا جاتا ھے. ورنہ تو آج کل جسے دیکھو عمران خان کی طرح آگے آپ سمجھ تو گئے ھوں گے.

Comments are closed.