لاہور قلندر کا ڈھول


 

adnan Kakar

پاکستان سپر لیگ کا اعلان ہوا تو ہم لاہوری ہونے کی حیثیت سے لاہور قلندر کی ٹیم کے حامی بن گئے۔ لیکن سو فیصد میچوں میں شکست کے بعد مسلسل بے عزتی کے ہاتھوں مجبور ہر کر ہم ٹیم کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ہم لاہور قلندر کی انتظامیہ کے ایک اہم رکن قلندر بٹ سے ملے جو ہمیں لے کر سیدھے ٹیم کے ڈریسنگ روم میں پہنچ گئے۔ وہاں ایک طرف ڈھول کو گود میں رکھ کر عمر اکمل صاحب تشریف فرما تھا۔ ان کے پاس کرس گیل فرش پر ہی نیم دراز تھے۔ اظہر علی سبز لباس پہنے، عصا پکڑے، پگڑی باندھے، گم سم بیٹھے سوچ بچار میں مشغول تھے۔ اور ٹیم کے چند ارکان مالائیں پکڑے منکے گھما رہے تھے۔

ہم نے قلندر بٹ صاحب سے پوچھا: قلندر صاحب، آپ نے ٹیم کے لئے کرس گیل کا انتخاب کیوں کیا تھا؟
قلندر: دیکھیں جی، ہم نے سب سے پہلے تمام کرکٹروں کی تصویریں لیں، اور پیر پرچی شریف صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میچ کے نتائج پر پیر صاحب سے زیادہ کسی دوسرے کی نظر نہیں ہے۔ ان کی پیش گوئی مشکل سے ہی غلط ہوتی ہے۔ ان کی نظر کرم سے بے شمار لوگ لاکھوں میں تر گئے ہیں اور ان کو ناراض کرنے والے لاکھوں لٹا بیٹھے ہیں۔ تو انہوں نے تصویریں دیکھتے ہی کرس گیل پر انگلی رکھ دی اور کہا کہ یہ کالوں کے کسی قلندری سلسلے کا کوئی بڑا ملنگ لگتا ہے۔ اسے کوئی اور نہ لے جانے پائے۔
qalandarsہم: اچھا ان لاہوری قلندروں کو آپ نے دبئی میں ہی رکھا ہوا ہے یا لاہور بھی دکھایا ہے؟
قلندر: ان کو ٹیم میں بھرتی کرتے ہی ہم لاہور کے درباروں پر حاضری دلوانے لے گئے تھے۔ ایک دربار پر ٹیم کو عرس مبارک میں بھی شرکت کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ اب تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے کسی اور ٹیم کے لئے کھیلنا ہی نہیں۔ کرس گیل تو کہتا ہے کہ ملنگوں کی دھمال کے سامنے گنگنم سٹائل تو کچھ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہاں سے یہ یہ مالائیں بھی لے آئے ہیں اور ہرے چوغے بھی۔ بری مشکل سے انہیں راضی کیا ہے کہ ٹیم کا یونیفارم پہنیں، ورنہ یہ تو پورے ملنگ بن کر میچ کھیلنا چاہتے تھے۔ ان کا جذبہ دیکھ کر ٹیم کے پاکستانی لڑکے بھی مزید قلندر ہو گئے ہیں۔

ہم: اچھا یہ بتائیں کہ آپ کی ٹیم دونوں میچ کیوں ہاری ہے؟
قلندر: دیکھیں ایک تو شہباز شریف صاحب نے بھی کہا تھا کہ ہم پہلے ہی سارا بجٹ لاہور پر لگا رہے ہیں اور دوسرے لوگ اسے نظروں میں رکھے ہوئے ہیں۔ تو ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ ہمارے شہر کو نظر لگ جائے۔ اسی چکر میں انہوں نے کرس گیل کے ساتھ ڈوین براوو اور کیون کوپر کو بھی نظر بٹو کے طور پر رکھوایا ہے کہ شالا نظر نہ لگے۔

ہم: تو بس یہی وجہ ہے میچ ہارنے کی؟
قلندر: اصل میں عرس پر ہمارے قلندر، درباری ملنگوں کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ انہوں نے انہیں بھنگ، بھنگڑے اور دھمال پر لگا دیا ہے۔ اوپر سے گیل کی فرمائش پر میاں صاحب نے دو مٹکے بھنگ کی باداموں والی سردائی کے بھی بھجوا دیے ہیں۔ ایک پر تو اکیلے گیل نے ہی قبضہ کر لیا ہے، اور دوسرا باقی قلندروں کے ولولے میں اضافے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کا سائیڈ افیکٹ ہو گیا ہے۔ اب یہ میچ نہیں کھیلتے، بلکہ حال کھیلتے ہیں۔
dhols2ہم: گیل نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ دونوں میچوں میں ناکام رہا ہے۔
قلندر: تھک گیا ہے بچارہ۔ جب بھی دو گھڑی کو کمر سیدھی کرنے لیٹتا ہے تو یہ عمر اکمل ڈھول پر تھاپ لگا دیتا ہے۔ سارے قلندر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مست ہو کر ناچنے لگتے ہیں۔ یہ اکمل برادران کافی شریر ہیں۔ ہر وقت ہنگامہ چاہتے ہیں۔ پتہ نہیں کون کم بخت یہ ڈھول یہاں رکھ گیا ہے۔ مجھے تو یہ پشاور زلمی کے کپتان شاہد آفریدی کا ظلم لگتا ہے۔ اب ہم ڈھول کو چھوڑتے ہیں، لیکن ہمارے قلندر ڈھول کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہیں۔
ہم: یہ آپ کا کیمرون ڈیلپورٹ دونوں میچوں میں رن آؤٹ ہوا ہے۔ اس کی کیا کہانی ہے؟
قلندر: اس سے بڑی توقعات ہیں جی۔ یہ تو جی پاکستان کے سب سے بہترین بیٹسمین انضمام الحق سے بھی اچھا کھلاڑی نکل رہا ہے۔ انضی تو بس آدھے
میچوں میں رن آؤٹ ہوتا تھا، یہ ساروں میں ہوتا ہے۔
ہم: اسے کوچ نے کچھ سمجھایا بجھایا نہیں ہے؟
قلندر: کوچ کی سنتا کون ہے؟ یہ منحوس ڈھول ہمیں مروا رہا ہے۔ ڈیلپورٹ رن لینے کے لئے دوڑ لگاتا ہے تو سٹیڈیم میں کھڑے ڈھولچی اپنے ڈھول بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ وہیں پچ کے درمیان کھڑے ہو کر دھمال ڈالنے لگتا ہے اور دوسری ٹیم اسے رن آؤٹ کر دیتی ہے۔ یہ گورا پورا ملنگ ہے۔
ہم: ویسے ہم نے دیکھا ہے کہ یہ میچ والے ڈھولچی اپنے شاہد آفریدی کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ وہ بھی ان کا بڑا خیال کرتا ہے۔ آپ سے میچ جیت کر اس نے بڑے نوٹ وارے تھے ڈھولچیوں کے سر پر۔
قلندر: واقعی؟ اوئے یہ ڈھولچی کہیں آفریدی نے تو کھڑے نہیں کئے ہوئے ہیں ہمارے قلندر خراب کرنے کو؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar