تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاﺅ گے


\"\" وہ حبیب جالب نہیں تھے، جس نے للکارا:

ایسے دستور کو، صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

وہ فیض بھی نہیں تھے، جس نے نعرہ مستانہ بلند کیا:

ہم نے ان پہ کیا حرفِ حق سنگ زنی

جن کی ہیبت سے دنیا لرزتی رہی

وہ جسٹس آر ایم کیانی جیسے جرات مند اور بڑے منصب دار بھی نہیں تھے۔ وہ تو بس ایک معمولی سرکاری اہلکار تھے۔انہوں نے تو فقط کھلی کچہری کے جلسہ عام میں، ہزاروں لوگوں کے رو برو، اعلیٰ سول اور فوجی حکام کے سامنے، ملکی و غیر ملکی صحافیوں کی موجودگی میں، مائیک پر آ کر، گرجدار آواز میں یہ کہا تھا، جو آج بھی ایجنسیوں کے ریکارڈ پر ہے، جس کے درجنوں چشم دید گواہ ابھی زندہ ہیں کہ ….”میں شاہ نواز خان پٹواری حلقہ خانپور چھوٹا چور ہوں اور اس ملک کا صدر ایوب خان بڑا چور ہے “

اس واقعہ کی تفصیل آئندہ کے کسی کالم پر اٹھارکھتے ہیں۔ آج مختصر بات کہ اس سے قبل انچارج انٹی کرپشن ٹیم بریگیڈیئر مظفر نے پٹواریوں کے خلاف شکایات پرانہیں بدترین چور قرار دیا تو یہ نوجوان پٹواری کھڑا ہو گیا اورکرپشن کے خلاف اپنی ایک شکایت پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ ”کس کے خلاف ؟ “ ….”صدر مملکت کے خلاف “….زمین دہل گئی۔ جس کے مطلق العنان اقتدارکا سورج نصف النہار پر ہے، کیا وہ کرپٹ ہے؟ کہا ” ہاں ! وہ بارہ مرتبہ یہاں چکوال شکار کے لیے آئے ہیں مگر شکار کے انتظامات اور کھانے کا بل نہیں دیتے، میں رئیس زادہ نہیں کہ اتنے اخراجات اپنی جیب سے ادا کر سکوں، لوگوں سے لیتا ہوں اور صدر کو کھلاتا ہوں، یہی اس ملک کے قانون کا اصل چہرہ ہے “

وہ حب الوطنی کا شعلہ زن پیکر نہیں تھے۔ مسلمانوں کی اسلام سے دوری پر دل گرفتہ بھی نہیں تھے۔ انہیں معاشرے کو سدھارنے کا جنوں نہیں تھا۔ مغربی کلچرکے فروغ کا رنج بھی نہیں تھا۔ البتہ اپنی چالیس سالہ سروس کے دوران وہ ہزاروں مرتبہ بے کسوں، بیواﺅں، یتیموں کی جائیداد پر ناجائز قابضین اور اپنے کرپٹ افسران کی منافقت کے سامنے تن تنہا، تن کر کھڑے ہو گئے۔ بہت پہلے جب وہ کلرکہار میں پٹواری تعینات تھے تو درازریش ڈپٹی کمشنر ضلع فیملی اور دوستوں کے نو رکنی وفد کے ہمراہ ذاتی دورے پر وہاں تشریف لائے۔ ریسٹ ہاﺅس پہنچتے ہی انہوں نے ڈنر کے لیے مینیو اور جملہ ضروریات اور لوازمات کی لسٹ پٹواری کے حوالے کی۔ ہر ممبر کے لیے سالم روسٹ دیسی مرغ، کئی بکروں کی بھنی ہوئی کلیجی، مٹن بریانی، مٹن قورمہ، حلوہ، اعلیٰ نسبی تاش کے دو پیکٹ اور بہت کچھ، اوربہت کچھ۔صبح ناشتے اور لنچ کے مینیو کی لسٹ بھی اسی وقت عنایت کردی گئی۔ پٹواری نے شرفائے دیہہ کوبلایااورکاموں کومرغ اوربکرے اکھٹے کرنے کو دوڑایا، تب جا کر بھاری بھرکم پیٹوں کے جہنم بھرے۔ دوسرے دن لنچ کے بعد پولیس کے جلو میں تزک و احتشام سے یہ قافلہ واپس روانگی کے لیے گاڑیوں میں بیٹھنے لگا تو ڈپٹی کمشنر نے چونک کر کہا کہ ٹھہرو میں نماز پڑھ لوں، ورنہ ظہر کا وقت نکل جائے گا۔ عجلت میں پوچھا کہ قبلہ کس طرف ہے؟ پٹواری نے بے ساختہ کہا ” کچن کی طرف “ صاحب بہادر بپھر گئے ” بد تمیز پٹواری ! میں تمہارا طنز سمجھ گیا ہوں، تمہیں سیدھا کردیا جائے گا“ اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افسران نے بھی اس گستاخی پر انہیں مطعون کیا۔ لعن طعن حد سے بڑھی اورمعذرت سے بھی بات نہ بنی، حتیٰ کہ ڈپٹی کمشنرنے گالی دی۔ تب دفعتاً پٹواری نے پینترا بدلا اوراس سے بھی بڑی گالی دے کردہاڑتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے یہ کہا ”کچھ شرم کرو، کل سے حرام کھا رہے ہو، اب جاتے ہوئے خدا کو دھوکہ دینے لگے ہو یا خود کو؟ “

اسی بارے میں: ۔  خونچکاں پشاور اور سیاست کا جھرلو

وہ کوئی عہد ساز شخصیت نہیں تھے مگر اپنے بچوں کے لیے ہر قدم پر باوقار زندگی کی راہیں متعین کرتے گئے۔ انہوں نے مجبوری کے عالم میں یہ ملازمت اختیارکی تھی مگراپنے بچوں کوکسی ایسے سرکاری محکمے میں نوکری کی اجازت نہ دی جہاں رشوت چلتی ہو۔ اپنی سروس کے آخری برسوں میں جب وہ قانونگو تعینات تھے تو ایک ریٹائرڈ جنرل، مقامی برسرِاقتدار سیاستدان نے ووٹ نہ دینے کی پاداش میں انہیں نشانے پر رکھ لیا۔ آئے روز تبادلے، انکوائریاں اور جھوٹے پرچے۔

ایک دفعہ ایسے ہی ایک جعلی مقدمے میں حوالات میں تھے۔ ان کا بیٹا پریشانی کے عالم میں انہیں ملنے گیا۔ وہ لان میں ٹہل رہے تھے۔ اسے دیکھتے ہی آگ بگولا ہو گئے اور سختی سے کہا کہ کوئی قیامت نہیں آ گئی، پہلے گھر جا کر شیو کرو اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر آﺅ۔ بیٹے نے انہیں بتایا کہ ” وہ “ کہتے ہیں کہ ہمارے ڈیرے پر آ کر میں ان کی طرف سے معافی مانگ لوں تو ضمانت ہو سکتی ہے۔ بولے ” ہر گز نہیں، نوکری حکومت نے دی ہے اور رزق خدا کے ہاتھ میں ہے، تم معافی مانگنے کی بجائے ان کے خلاف ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کر دو“ ایک دفعہ ایک تقریب میں وہ رہنما اتفاقاً ان کے سامنے آ گئے اور مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ قانونگو نے سگریٹ دائیں ہاتھ میں پکڑ لیا اور اپنے مخصوص بارعب اوردبنگ لہجے میں کہا ”جناب عالی! میں ایک معمولی سرکاری ملازم ہوں اور آپ وفاقی وزیر۔ ہمارا کوئی جوڑ نہیں۔ جب ہم ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تو پھر سلام دعا کی منافقت بھی کیا کرنی ؟ “

وہ نمازی اور روزہ دار ہونے کے باوجود پارسائی کے دعوےدار نہیں تھے، البتہ انہیں کربلا والوں سے بے پناہ محبت تھی، اپنی جان و مال اور اولاد سے بھی زیادہ۔ انہوں نے تو اپنا کفن بھی کربلا سے منگوایا تھا۔ یہ محبت گفتار تک محدود نہ تھی، ان کے کردار سے بھی جھلکتی تھی۔ انہوں نے بیاسی سال کی عمر تک بے شمار مرتبہ کلمہ حق بلند کیا۔ اس خیرالعمل سے قبل وہ کسی جابر کا قد کاٹھ ناپنے کے قائل نہ تھے۔ آخری عمرمیں بیٹے نے اس معاملے میں انہیں مصلحت سے کام لینے کا مشورہ دیا تو نحیف بوڑھے نے ہنس کر کڑک دارآواز میں جواب دیا ” یہ لوگ اندرسے بہت کمزورہوتے ہیں اور ویسے بھی فرعون جتنا بھی بڑاہو، دو کوس کے فاصلے سے گولی چلائی جائے تو منہ کے بل گرتا ہے “

اسی بارے میں: ۔  علامہ اقبال اور عطیہ فیضی کی ملاقات کیسے ہوئی؟

دو چیزیں ان کی زندگی کا لازمی حصہ تھیں، ایک تسبیح اور دوسرا ان کا پسٹل۔ آخری وقت بھی یہ دونوں چیزیں ان کے پاس تھیں۔ وہ ایک با رعب، نفیس مزاج، با ذوق، کثیرالمطالعہ، کم خوراک، خوش لباس، خوش نویس، بہترین گھڑسوار، ماہرنشانہ باز، خود اعتماد اورخود دار شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے ایک سفید پوش زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولی اور سفید پوش گھرانے ہی میں آنکھ بند کی۔ جس دن وہ ریٹائرڈ ہوئے، ان کے پاس محدود سی جدی بارانی زمین، محکمہ کی طرف سے ریٹائرڈمنٹ پر ملنے والے واجبات اور اطمینان کے سوا کچھ نہ تھا۔

وہ منٹو نہیں تھے مگر آخری وقت تک موت سے برسرِ پیکار رہے۔ انہیں مریض کہلانے یا کسی کی طرف سے اٹھنے بیٹھنے کے لیے مدد حاصل کرنے سے سخت نفرت تھی۔ آخر ی لمحوں میں جب ان کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں وہ بڑے سے تکیے سے ٹیک لگائے نیم دراز ہر بات کا بقائمی ہوش و حواس باوقار انداز میں جواب دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ بیٹوں نے ان سے گاڑی میں بیٹھنے کی ضد کی تو انہوں نے اپنی سانسوں پر قابو پایا اور زندگی کی پہلی اورآخری کمزوربات کی، مگر اسی مضبوط لہجے میں ….”میں اسلام آباد تک نہیں پہنچ سکوں گا“آخری چند منٹوں میں ان کی بہن نے ان کا ڈھلکا ہوا تکیہ سیدھا کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کا ہاتھ جھٹک کر خود تکیہ ٹھیک کیا۔ دوسری بہن نے ان کے ماتھے کا پسینہ صاف کرنا چاہا تو انہوں نے اس کے ہاتھ سے رومال لے کر خود پسینہ صاف کیا۔ انہوں نے ظاہر ہی نہیں ہونے دیا کہ وہ جا رہے ہیں اور پھر خاموش ہوکر آرام سے آنکھیں موند لیں۔ انہوں نے مرتے وقت بھی اپنی روایتی خوش لباسی اور نفاست کا خیال رکھااور بسترِ مرگ پر بھی کاٹن کے کلف زدہ بے داغ سوٹ میں با وقار انداز میں جان جان آفریں کے سپرد کی۔

آج ان کی پہلی برسی ہے۔ گزشتہ برس آج ہی کے دن وہ زینہ ہستی سے اتر گئے مگر ہمارے دلوں سے کبھی نہیں اتریں گے۔ جب تک دنیا میں ضمیر نامی کوئی شے موجود ہے، میرے والد چوہدری شاہ نواز خان جیسے لوگ زندہ رہیں گے کہ :

تم ہو اِک زندہ و جاوید روایت کے چراغ

تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاﺅ گے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاﺅ گے

  • 07-01-2017 at 10:06 pm
    Permalink

    خدا آپ کو خوش رکھے۔ ایک عظیم انسان سے ہمیں متعارف کرنے کا شکریہ قبول کریں۔

Comments are closed.