آئی اے رحمن، حسین نقی۔۔۔ یہ کرسیاں خالی رہیں گی


\"\"گزشتہ صدی کے ابتدائی برس تھے۔ سرسید احمد خان کی رہنمائی میں قوم کی نیا سنوارنے والے ستارے ایک ایک کر کے اوجھل ہو رہے تھے۔ ستارے ختم نہیں ہوتے۔ ہماری آنکھ کا منظر بدل جاتا ہے۔ سرسید کے دست راست نواب محسن الملک کے اعزاز میں ایک جلسے کے صدر نشین نواب وقار الملک تھے۔ ایک جملہ ایسا کہا کہ اہل درد کے سینوں میں نیم کش ٹھہرا۔ فرمایا ۔’ان بزرگوں کو غور سے دیکھ لو ۔ ان کا جانشین تو کوئی کیا ہو گا ، کوئی ایسا بھی پیدا نہیں ہو گا کہ ان کرسیوں پر بیٹھ سکے۔ یہ کرسیاں خالی رہیں گی‘۔ محترم مختار مسعود نے لکھا کہ اچھے لوگ قوموں کو انعام میں دیے جاتے ہیں ۔ اگر ایسا ہے تو صد شکر کہ ہمیں روشنی دکھانے والوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اندھیرا زیادہ تھا سو ستاروں کی تابش بھی کچھ زیادہ رہی۔ امریکی ثقافت کا چلن نرالا ہے۔ ایک تصویر چھپتی ہے اور مارلن منرو دلوں پر قبضہ کر لیتی ہے۔ ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے اور کوئی چہرہ گھر گھر میں گونجنے لگتا ہے۔ ایک گیت نشر ہوتا ہے اور گانے والے کو گویا استاد عبدالکریم اور برکت علی خان کا مقام دے دیا جاتا ہے۔ مشرق میں ہماری روایت کچھ اور رہی ہے۔ ہمارا سنگیت الاپ ، بلمپت ، درت اور ترانے کی گھاٹیوں سے گزرتا ہوا دلوں کے قتلے کرتا ہے۔ ہمارے بہترین پکوان دھیمی آنچ پر گھنٹوں پکائے جاتے ہیں۔ ہماری محبت اپنا روپ دینے میں آزمائش کرتی ہے۔ ہم ٹھرے کی تندی کے لوگ نہیں، حافظ کے بادہ چہار دہ سالہ کا رنگ کھلنے میں صدیاں خرچ ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے خبر دی ہے کہ محترم آئی اے رحمن اور محترم حسین نقی پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی منصبی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو گئے ہیں۔ یہ دونام ہمارے قومی کردار کی صادق گواہی ہیں۔ بصیرت ، استقامت اور ظرف۔۔۔ کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے ۔۔۔
1987 ء کا موسم سرما تھا ۔ میاں محمود قصوری کے جلو میں ڈاکٹر مبشر حسن، اور دھان پان سی عاصمہ جہانگیر نے ہیومن رائٹس کمیشن کی بنیاد رکھی تھی۔ 1987 ء کا برس آمریت کی مزاحمت میں ہم پہ کچھ اس طرح گزرا جیسے دوسری عالمی جنگ کے آخری ایام ڈریسڈن کے قصبے پر گزرے تھے۔ نومبر 88 ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی ۔ کیا اسیری تھی کیا رہائی تھی۔ آئی اے رحمن پاکستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر اور عزیز صدیقی ان کے دست راست مقرر ہوئے۔ چھ اگست 1990 ء کی شام غلام اسحاق خان نے 58 ٹو بی کے کلہاڑے سے اسمبلی توڑ ڈالی ۔ اسی رات عزیز صدیقی نے اداریہ لکھا ۔ سسی فس کی آزمائش ۔ اور قلم توڑ دیا۔ اداریہ صفحہ اول پر شائع ہوا ۔ آئی اے رحمن اور عزیز صدیقی دفتر کی سیڑھیاں اتر آئے۔ تاریخ کے زینے پیچ دار ہوتے ہیں۔ ہاتھ کے ہاتھ حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ کون پاتال میں اترا اور کس نے ثریا پائی۔
1991 ء میں آئی اے رحمن ، عزیز صدیقی اور حسین نقی نے ہیومن رائٹس کمیشن کی ذمہ داری سنبھالی۔ حسین نقی کی ذات کا بیان صرف ایک لفظ سے ممکن ہے، حریت۔ آزمائش کے کسی بھی مرحلے میں آنکھیں بند کر کے حسین نقی کے ردعمل کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ عزیز صدیقی علم کا سمندر تھے اور نہایت مرنجاں مرنج۔ کبھی مہلت ملی تو عزیز صدیقی کی مدح لکھیں گے۔ نثار عثمانی اور عزیز صدیقی ، مظہر علی خان اور ضمیر نیازی، خالد حسن اور رضیہ بھٹی ۔۔۔اخبار کے کالم کی تنگنائے میں اتنی جگہ کہاں کہ ان سمندروں کا رزمیہ سما سکے۔ آج آئی اے رحمن کا کچھ ذکر رہے۔ 1930 ء میں ہریانہ کے قصبے گڑگاؤں میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں علی گڑھ کالج میں زیر تعلیم تھے۔ بھرے پرے خاندان کی قربانی دے کر لاہور پہنچے۔ 1951ء میں گورنمنٹ کالج سے طبیعات میں ایم ایس سی کیا اور اسی برس پاکستان ٹائمز سے وابستہ ہوئے جہاں فیض احمد فیض اور مظہر علی خان سے اکتساب کا موقع ملا۔ فیض احمد فیض سے فیض اٹھانے کا دعویٰ بہت سوں نے کر رکھا ہے۔ آئی اے رحمن میں اس طرح کا ادعا پایا نہیں جاتا۔ فیض احمد فیض سے سیکھنے کا حق صرف آئی اے رحمن نے ادا کیا۔ آئی اے رحمن کی سیاسی بصیرت کا اعتراف تو بھائی انتظار حسین بھی کرتے تھے۔ 1977ء میں پاکستان میں بندی خانوں کا موسم آیا تو رحمن صاحب بھی رونق زنداں رہے۔ اس دوران ہفت روزہ ویو پوائنٹ، روزنامہ ڈان، روزنامہ فرنٹیر پوست اور خلیج ٹائمز میں آئی اے رحمن کے دبنگ اور کاٹ دار تبصروں سے فوجی آمریت انگاروں پر لوٹتی رہی۔
لاہور میں گلبرگ کے گنجان بازار میں ایک پرانی سی عمارت ہے، شریف کمپلیکس۔ اس کہنہ عمارت کی سیڑھیوں نے جسٹس دراب پٹیل کے قدم دیکھ رکھے ہیں ۔ چھ برس تک ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ رہے۔ انگریزی زبان میں کانٹے کی تول بیان کا اعجاز مظہر علی خان اور خالد حسن میں دیکھا اور پھرجسٹس دراب پٹیل کے ایجاز میں فہم کی وسعت کا نمونہ دیکھا۔ سنا ہے اب کچھ مہربان سول سوسائٹی کو ملک دشمن قرار دیتے ہیں۔ اس اعزاز کی صراحت تو 90 کی دہائی میں ڈھونڈنی چاہیے۔ تب جسے سرکار دربار کی غلام گردشوں میں رینگتے ہیولوں کی چشم پوشی کرنا ہوتی تھی، سول سوسائٹی پر چڑھ دوڑتا تھا۔ دور فاصلاتی حکومتوں کے دن تھے۔ اخبار کے صفحہ تین پہ یک کالمی خبر سے حکومت ٹوٹ جاتی تھی۔ تب ہیومن رائٹس کمیشن نے مخلوط انتخابات کا پرچم اٹھایا۔ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔ عورتوں کے حقوق کی بات کی۔ شناختی کارڈ پر مذہب کے خانے کی مخالفت کی۔ فرقہ واریت کے سیل بلا کا مقابلہ کیا۔ کالے قوانین کی مخالفت کی ۔ 2000 ء کے فروری میں عدالت عظمیٰ نے پرویز مشرف کی حکومت کو تین برس دیے تو روزنامہ ڈان میں عزیز صدیقی نے کالم لکھا ۔ غیر قانونی فعل کو قانونی جواز نہیں دیا جا سکتا۔ عزیز صدیقی مئی 2000 ء میں رخصت ہو گئے۔ اگر قدرت اللہ شہاب کا لکھا اداریہ ’نیا ورق‘ ہماری تاریخ کا حصہ ہے تو عزیز صدیقی کا اداریہ بھی قول فیصل کی طرح لف ہذا ہے۔ سن کر درست تسلیم کیا جائے۔۔۔
ایک تصویر آپ کو دکھانا چاہوں گا۔ بے سہارا بچیوں کے ادارے ’دستک ‘پر ایک مشتعل ہجوم نے ہلہ بول دیا تھا۔ ہتھیار لہراتے اور نعرے اگلتے ہجوم کے سامنے تین نہتے افراد دروازے پر آکر کھڑے ہو گئے۔ محبوب احمد خان، حیدر فاروق مودودی اور حنا جیلانی۔ شہر کی ہوا ٹھیک ٹھیک جانتی ہے کہ کون سا چراغ سرطاق روشنی دیتا رہا اور کس نے کوچہ و بازار میں تاریکی کا مقابلہ کیا۔ اچانک نظر پڑی کہ دروازے کی دوسری طرف ایک کرسی پر آئی اے رحمن بیٹھے تھے۔ ستر برس کا بزرگ کسی تاثر سے خالی آنکھوں کے ساتھ غیر متزلزل مزاحمت اور عدم تشدد کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ عقب میں کچھ سہمی ہوئی بے سہارا بچیاں تھیں اور منڈیر کے پار خون آشام آنکھوں کا ایک ہجوم۔ دل نے آئی اے رحمن کی تصویر اتار لی ۔ وہ وہ کرسی بھی دل کے نہاں خانوں میں محفوظ ہو گئی۔ نواب وقار الملک یاد آئے کہ جانشین تو کوئی کیا ہو گا، کوئی ان کرسیوں پر بیٹھنے والا بھی پیدا نہیں ہو گا۔ آئی اے رحمن اور حسین نقی سبک دوش نہیں ہوا کرتے۔ ذمہ داری کا بوجھ ایسی امانت نہیں جسے کندھوں سے اتار کر سڑک کے کنارے رکھ دیا جائے۔ ایسے لوگ مراجعت نہیں کیا کرتے۔ ایک مورچے سے دوسرے مورچے کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں اور یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ ان کی کرسیاں خالی رہیں گی۔

اسی بارے میں: ۔  چونکہ ہم حکمران ہیں۔۔۔

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔