لینہ، حاشر کی کہانی محبت کی مختصر


\"\"لینہ مسعود؛ موصوفہ سے کبھی ملاقات نہیں، لیکن تصویر دیکھ کر لگتا ہے، یہ اپنے سنائے لطیفوں پر خود ہی گھنٹوں گھنٹوں ہنس سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے، تو یہ اپنا لکھا پڑھ کر رو بھی پڑتی ہوں گی۔ تمثیل بناﺅں تو ایسی بنتی ہے۔’اماں ابا نے کہا ہوگا،\’بیٹا لکھ لو، پڑھ لو۔‘ انھوں نے خط لکھنا شروع کر دیے ہوں گے‘ خط بھی اردو میں۔ پھر ان کے ممتحن ہی ان پر فدا ہو گئے۔ سکول ماسٹر حاشر ارشاد نے جوابی خط لکھا، جو سرو قامت کے ابا کے ہاتھ لگ گیا۔ ابا نے خط کا عروض، قافیہ، ردیف اور وزن ماپا، پورا اترا۔ لینہ کا ہاتھ حاشر کے ہاتھ میں دے دیا۔‘ تمثیل پر مت جائیے، میرا خیال ہے، حاشرسکول ماسٹر نہیں ہیں، بس شکل سے ایسے لگتے ہیں۔
لینہ کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے، کہ نہ یہ حساب کتاب رکھ سکتی ہیں، اور نہ انگریزی میں دلچسپی ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے، تو یہ پکی مسلمان، اور پکی طالب علم ہیں۔ مسلمان کو ریاضی سے، اور طالب علم کو انگریزی سے نفرت ہوتی ہے۔ لیکن طالب علم بن کر جینا خوش گوار عمل ہے۔ ایک اور بات بھی ہے، لکھنے والے کو اگر ریاضی کی شدھ بدھ ہو تو اپنا وقت مضمون لکھنے میں کیوں لگائے۔ سکول ماسٹر ہی کیوں نہ لگ جائے۔
ہوا یوں کہ جب ان کی شادی ہوئی، انھیں معلوم پڑا، ان کے مجازی خدا بیڈ ٹی پینے کے عادی ہیں۔ انھوں نے سوچا، کیوں نہ سرپرائز دیا جائے۔ انھوں نے بیڈ ٹی پیش کی تو حاشر نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا، اور سمجھانے لگے، کہ دیکھو تمہارے اور میرے رائٹس ایک سے ہیں۔ عورت ہونے کا یہ مطلب نہیں، تم گھر کے کام کرو۔ میں اپنی بیڈ ٹی خود بناﺅں گا، خواہ اس کے لیے مجھے بیڈ سے اترنا پڑے۔ اسی طرح لینہ کو پہلی تن خواہ ملی، تو حاشر نے آدھی آدھی بانٹ لی۔ لینہ ہکا بکا رہ گئیں، سمجھ گئیں یہ برابری کا جھانسا دے کر آدھی تن خواہ پر قبضہ جمانے کا ڈھونگ ہے۔ اگلے روز اپنا ٹخنا لے کر بیٹھ گئیں کہ کام پر نہیں جایا جاتا۔ اب تمہی کوئی نوکری تلاش کرو۔ حاشر بینک میں معمولی جاب کرنے لگے۔ اب آپ میرے اس قیاس کا سبب جان سکتے ہیں، کہ مجھے کیسے معلوم ہوا لینہ کو ریاضی سے نفرت ہے۔ جی ہاں بینکر کا کام ہی حساب کتاب کرنا ہے، اور کون سی بیوی ہے، جسے اپنے شوہر کے پروفیشن سے الفت ہو! دوسرا سانحہ یہ ہوا، کہ اس کے بعد ان دونوں نے کبھی چائے کو ہاتھ نہیں لگایا۔
ایسی خواتین جو زود رنج ہوں، (اور ایسی کون سی خاتون ہے، جو زود رنج نہ ہو) وہ اپنے شوہروں کا اعتبار نہیں کرتیں۔ انہیں کہیں بھی اکیلے نہیں جانے دیتیں، ما سوائے دفتر کے۔ حاشر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہوگا؛ آپ حاشر کی تصویر کو بغور دیکھئے، مظلومیت ٹپک ٹپک جاتی ہے۔ خدا جانے یہ بیویاں اولاد کے جوان ہونے تک شوہروں کو پنجرے میں کیوں رکھنا چاہتی ہیں۔ (لگتا ہے، میں نے اپنی کہانی لکھنا شروع کر دی ہے)
حاشر سے ایک خیالی انٹرویو میں پوچھا گیا، کہ ان کا سب سے پسندیدہ مقام کون سا ہے، تو فرمانے لگے، شمالی علاقہ جات کے ہوٹل۔ ان ہوٹلوں کو پیرس، لندن، روم کے ہوٹلوں سے بہتر پایا۔ مزید استفسار پر فرمایا کہ پیرس، لندن، روم میں اہلیہ کو بھی ساتھ لے جانا پڑتا ہے، جب کہ شمالی علاقہ جات کے ہوٹل میری بیوی کو پسند نہیں۔ یہ واحد مقام ہے، جہاں وہ ہم راہ نہیں ہوتیں۔
یہیں سے لینہ کے قلم کار بننے کا آغاز ہوتا ہے۔ جب موصوف کئی کئی مہینے گلگت، سکردو، ہنزہ کے ہوٹلوں میں سکون کی زندگی بسر کر رہے ہوتے، تو لینہ انہیں لمبے لمبے خط لکھا کرتیں۔ وہ لفظ جو نہ جانے کب سے ان لکھے تھے، سب قرطاس پر منتقل ہونے لگے۔ حاشر کے ایک خط ملا، دوسرا، تیسرا، جب سو خط پورے ہوئے تو حاشر نے اپنا سامان پیک کیا، کیوں کہ اتنے عرصے میں ان کی جیب خالی ہو گئی تھی، آف سیزن ہی سہی، لیکن ساری عمر ہوٹلوں کے کرائے کون بھرے۔ ہر آف سیزن حاشر کا شمالی علاقوں کو نکل جانا، لینہ کو مکتوب نویس بنا گیا۔ انہی دنوں کے خطوں میں سے ایک ہمارے ہاتھ لگا ہے، ذرا تحریر کا نمونہ دیکھئے:

اسی بارے میں: ۔  کراچی میں نیپئر روڈ کا نام کیوں نہیں بدلا گیا؟

”ویلنٹائن ڈے پر بھی تم نہ آئے؟
آج صبح جب تمہاری بہن نے مجھے یہ طعنہ دیا، کہ اس کا بھائی صرف میری وجہ سے گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے، تو اس لمحے تمہاری یادوں کا سمندر آنکھوں سے امنڈ آیا۔ مجھے روتا دیکھ تمہاری بہن نے میرے آنسو پونچھتے ہوئے تسلی دی کہ آپ مت روئیں بھائی واپس آجائیں گے۔ تمہاری حماقتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ ہر اتوار کے دن میں تمہارا انتظار کرتی ہوں، کپڑے دھونے میں تمہارے سوا کوئی ہاتھ بھی تو نہیں بٹاتا۔ ایسے میں بار بار میں دروازے کی راہ دیکھتی ہوں، کہ ابھی تم آئے، اورسپنر سے کپڑے نکال کر تار پر ڈال دیے۔ آہ! لیکن تم کو نہیں پاتی۔“

ایک بیوی کا دکھ لفظ لفظ سے عیاں ہے۔ شوہر کے لیے محبت کا بے لوث جذبہ کیسے ابل ابل دکھائی دیتا ہے۔ اور آخر میں یہ دیکھئے، ایک اور خط میں کیا لکھتی ہیں:

”جانتی ہوں کہ میں گزرے وقت کو واپس نہیں لا سکتی۔ اس لیے تین ماہ یہ سوچتی رہی کہ ایسا کیا کروں جو میرے جرم کی سنگینی کو کچھ کم کر دے۔ یہ میرا جرم ہی ٹھہرا کہ تم سے شادی کے لیے ہاں کر دی۔ تمہارے یوں شمالی علاقے کو نکل جانا میری سمجھ میں نہیں آیا۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو پھر میں نے بس اس کرب کو اپنے لفظوں کی زبان دے دی کہ شاید کسی دن میری بات اثر کر جائے، لیکن تم ان لوگوں میں سے کہاں جن پر کوئی بات اثر کرے اور تم نے جو اچار ڈال کر رکھا تھا، اسے پھپھوندی لگ گئی ہے، گھر آﺅ تو اسے دھوپ لگوا دینا۔
تمہارا راہ تکتی ایک دکھیاری“

اسی بارے میں: ۔  متوازی عدالتی نظام اور بے خبر ریاست

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 168 posts and counting.See all posts by zeffer-imran