اسلامی اتحاد یا سعودی فائدے کےلئے کرائے کی فوج


\"\"وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پر کچھ عرصہ سے گشت کرنے والی ان خبروں کی تصدیق کی ہے کہ 29 نومبر 2016 کو پاک فوج کے سربراہ کے طور پر ریٹائر ہونے والے جنرل (ر) راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور حکومت اور جی ایچ کیو سے مناسب اجازت حاصل کرنے کے بعد ہی یہ معاہدہ طے پایا ہے۔ خواجہ آصف اس معاہدہ کے حوالے سے زیادہ تفصیلات بتانے سے قاصر تھے تاہم انہوں نے اسے مسلم امہ کے حوالے سے ایک اچھی خبر قرار دیا ہے۔ جنرل راحیل شریف کو پاکستان کے آرمی چیف کے طور پر بے حد مقبولیت حاصل رہی ہے اور بعض حلقوں میں انہیں ملک کا مقبول ترین آرمی چیف بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ تاہم وہ اپنی خواہش اور کوشش کے باوجود دہشت گردی کے مالی وسائل اور ملک کے بدعنوان عناصر کا گٹھ جوڑ توڑنے اور اس حوالے سے اصل مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہے تھے۔ انہیں متعدد معاملات میں ملک کی سیاسی قیادت کی مخالفت کا سامنا بھی رہا تھا۔ البتہ ان پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ انہوں نے سندھ کی طرح پنجاب میں دہشت گردوں اور ان کے مالی معاونین کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

جنرل راحیل شریف کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے ملک کے دگرگوں سیاسی حالات میں موقع ملنے کے باوجود حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کی۔ خاص طور سے 2014 میں اسلام آباد میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کے دوران ان پر اس حوالے سے شدید دباؤ ڈالا گیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سابق سینئر رہنما جاوید ہاشمی نے گزشتہ دنوں الزام لگایا ہے کہ فوج کے بعض سینئر جرنیل، جنرل راحیل شریف کو سیاسی حکومت کا بستر گول کرنے کا مشورہ دے رہے تھے لیکن انہوں نے ایسا اقدام کرنے سے انکار کر دیا۔ اس مثبت طرز عمل کے باوجود جنرل راحیل شریف کے دور میں حکومت کو مسلسل دباؤ کا سامنا رہا تھا اور خارجہ اور داخلی حکمت عملی کے حوالے سے فوج بارہا اپنی مرضی مسلط کرتی رہی تھی۔ سیاسی تجزیہ کار یہ کہتے رہے ہیں کہ 2014 کے دھرنے کی وجہ سے نواز شریف کی حکومت کو فوج کی شرائط مانتے ہوئے، اسے امور حکومت میں زیادہ حصہ دینا پڑا تھا۔ فوج اور حکومت کے درمیان شدید اختلافات کا مظاہرہ گزشتہ اکتوبر میں بھی ہوا تھا جب روزنامہ ڈان میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہونے پر فوج نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے حوالے سے ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ فوج نے حکومت پر یہ خبر اخبار کے رپورٹر تک پہنچانے والوں کو سامنے لانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس صورتحال میں وزیر اطلاعات پرویز رشید کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اخبار میں خبر کی اشاعت رکوانے میں ناکام رہے تھے۔ اس خبر اور اس پر سامنے آنے والے فوج کے ردعمل کے تناظر میں جنرل راحیل شریف اور حکومت کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے۔

تاہم سابق آرمی چیف نے گزشتہ برس جنوری میں ہی اپنے عہدے سے بروقت ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ عوام کی تائید و حمایت اور ان افواہوں کے باوجود کہ آخر وقت میں انہیں عہدے کی مدت میں توسیع دے دی جائے گی کیونکہ ملک حالت جنگ میں ہے ۔۔۔۔۔۔ جنرل راحیل شریف 29 نومبر کو اپنے عہدے سے علیحدہ ہو گئے تھے اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان سنبھال لی تھی۔ اب راحیل شریف کو سعودی عرب کی سرپرستی میں قائم ہونے والے 39 رکنی اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کا سربراہ بنانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس سے قبل غیر سرکاری طور پر یہ خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ سعودی حکومت انہیں متحدہ افواج کا مشیر بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ جنرل راحیل شریف گزشتہ ہفتے کے دوران سعودی شاہ کے خصوصی طیارے میں سعودی عرب گئے تھے جہاں انہوں نے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بین الملکی فوج کے کمانڈر کے طور پر جنرل راحیل شریف کو کیا ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اور وہ اس پوزیشن میں کسے جوابدہ ہوں گے۔

اسی بارے میں: ۔  پالیسی بدل گئی یا ہوائی چھوڑی ہے؟

سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے دسمبر 2015 میں اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یہ متحدہ فوج مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار ہوگی۔ تاہم اس موقع پر جن ملکوں کی اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا گیا تھا، ان میں پاکستان کا نام بھی شامل تھا۔ پاکستان نے پہلے اس اعلان پر حیرت اور لاتعلقی کا اعلان کیا۔ پھر اسے تسلیم کر لیا گیا۔ اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ اس فوجی اشتراک میں 39 مسلمان ملک شامل ہیں لیکن ابھی تک اس کے مینڈیٹ اور طریقہ کار کے بارے میں کوئی خاص معلومات منظر عام پر نہیں آ سکی ہیں۔ سعودی عرب نے یہ اتحاد مارچ 2015 میں یمن میں حوثی قبائل کے خلاف جنگ کے بعد قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یمن کے خلاف فوج کشی کرتے ہوئے پاکستان سے بھی مدد مانگی گئی تھی لیکن نواز شریف سعودی شاہی خاندان کے ساتھ دوستانہ مراسم کے باوجود اس اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کر سکے تھے۔ ملک میں رائے عامہ اس قسم کی مہم جوئی کے خلاف تھی اور قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ سعودی عرب کے علاوہ خلیجی ممالک کی طرف سے پاکستان کے فیصلہ پر درپردہ خفگی کا اظہار بھی سامنے آیا تھا۔ اس وقت یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاک فوج اس قسم کی کسی بیرون ملک جنگ کا حصہ بننے کےلئے تیار نہیں تھی۔ البتہ اب اس وقت پاک فوج کی قیادت کرنے والے جرنیل کو سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد کا سربراہ بنایا جارہا  ہے۔

سعودی عرب اس وقت یمن میں مصروف جنگ ہے۔ اس کی اس جنگ جوئی کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ سعودی فضائی حملوں میں 6 ہزار سے زائد یمنی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور پونے دو برس کی جنگ میں اسے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ یہ بات کافی حد تک واضح ہے کہ سعودی عرب اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کو علاقے میں اپنے عسکری اور سیاسی تسلط کے عزائم کےلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے یمن ہی ایسی فوج کےلئے سب سے پہلا اور اہم میدان جنگ ہوگا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مستعد رہا ہے۔ اگر اسے موقع ملا تو وہ شام کی خانہ جنگی میں عملی مداخلت سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ البتہ شامی حکومت کےلئے روسی مداخلت کے بعد اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی صورت حال میں، شام کی صورت حال کے بارے میں بڑی طاقتوں کی حکمت عملی فی الحال غیر واضح ہے۔ ایک ممکنہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ٹرمپ حکومت روس کے ساتھ تعاون کے ذریعے شام میں جنگ بندی کی حمایت کرے اور یہ دونوں ملک دہشت گرد گروہوں کے خلاف مل کر کارروائی کا آغاز کر دیں۔ ایسی صورت میں شام میں سعودی عرب یا اس کی رہنمائی میں بننے والی فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  بلوغت کا سفر کیسے طے ہو

سعودی عرب اگرچہ نئے فوجی اتحاد کو دہشت گردی کے خلاف اسلامی ملکوں کے اتحاد سے موسوم کرتا ہے لیکن درحقیقت یہ ساری فوجی سرگرمی خطے میں ایران کے خلاف سعودی مفادات کے تحفظ کے لئے کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب  ایران، عراق یا شام کو اس اتحاد کا حصہ نہیں بنائے گا۔ اس طرح یہ فوجی اتحاد اسلامی ملکوں میں ہم آہنگی اور اشتراک پیدا کرنے کی بجائے افتراق ، انتشار اور گروہ بندی پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ اس کے علاوہ  متعدد اسلامی ملکوں نے اس فوجی اتحاد میں شمولیت کا اقرار کرنے کے باوجود مشترکہ فوجی فورس  استوار کرنے کےلئے دستے فراہم نہیں کئے ہیں۔ اس لئے پاکستان کے سابق فوجی سربراہ کو اتحاد کا کمانڈر انچیف بنانے سے سعودی عرب درحقیقت کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس اتحاد کے نام پر فوج کیسے جمع کی جائے گی۔ اگر سعودی عرب جنرل راحیل شریف کو کمانڈر بنا کر ان کی نگرانی میں پاکستان اور دیگر ملکوں سے سابقہ فوجیوں کو بھرتی کرکے فوج بنانا چاہتا ہے اور سعودی عرب ہی اس کے مصارف برداشت کرے گا تو یہ دراصل بین الملکی فوجی اتحاد کی بجائے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نام پر سعودی عرب کی جنگ لڑنے کےلئے کرائے کی فوج تیار کرنے کا اقدام ہوگا۔ اس قسم کی کسی حکمت عملی میں پاکستان کی بطور ملک شمولیت سنگین اور سنجیدہ سوالات کو جنم دے گی۔

جنرل راحیل شریف نے اگر ذاتی حیثیت میں کوئی عہدہ قبول کیا ہے تو بھی اس پر سوال اٹھانے اور صورت حال واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ صرف ڈیڑھ ماہ پہلے اسلامی دنیا کی موثر اور بڑی فوج کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ اب اگر وہ سعودی عرب کے ’’ملازم‘‘ کے طور پر پیشہ ور فوج بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے پاک فوج اور پاکستان کی شہرت متاثر ہوگی۔ وزیر دفاع کے بیان سے لگتا ہے کہ اس عمل میں حکومت پوری طرح شریک ہے۔ اس صورت میں حکومت کو متحدہ اسلامی فوج اور جنرل راحیل شریف کی تقرری کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔ پاکستان کو کسی ایک ملک کے سیاسی و عسکری عزائم کی تکمیل کےلئے تختہ مشق نہیں بنایا جا سکتا۔ نہ ہی اس کی فوج کے اہم سابقہ کمانڈر کو ایسی مہم جوئی کا حصہ بننا چاہئے۔ اگر یہ اسلامی اتحاد 39 ملکوں کے فوجی دستوں پر مشتمل ہوگا اور اس کے دروازے ایران سمیت سب ملکوں کےلئے کھلے ہوں گے، تب ہی کسی سابقہ پاکستانی فوجی سربراہ کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔

حکومت کو جلد از جلد صورتحال واضح کرنے ، جنرل راحیل شریف کے مشن کی وضاحت کرنے اور متحدہ اسلامی فوج کے اغراض و مقاصد کے بارے میں تفصیلات بتانے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر افواہیں اور قیاس آرائیاں ملک اور اس کی فوج کی شہرت کو داغدار کرتی رہیں گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 686 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali