جب سلمان حیدر لاپتہ ہوا تو اس کے پاس تین کتابیں تھیں


\"\"میں کل شام کو چھے بجے یونیورسٹی سے نکلنے لگا تو اسد رضا کا فون آگیا۔ یار شوذب ! تم باب القاغد رک جاؤ۔ میں ٹیکسی پہ آکے تمہیں پک کر لوں گا۔ سلمان بھائی کے ہاں بنی گالا جانا ہے۔ شام سخن کے سلسلے میں آڈیشنز ہو رہے ہیں۔ تم میرے ساتھ چلو۔ میں نے سلمان بھائی سے ملاقات کا سوچ کر خوشی سے حامی بھر لی۔ اسد کو دیر نہ ہو جائے یہ سوچ کر میں، مل پور سٹاپ تک پیدل چل نکلا کہ وہ مجھے وہاں مین مری روڈ سے ہی ٹیکسی پہ ساتھ بٹھا لے۔ میرے سٹاپ تک پہنچنے پہ وہ بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔ میں ساتھ بیٹھ گیا۔ اسد کے فون کی سکرین روشن ہوئی تو وہاں سلمان حیدر لکھا ہوا تھا۔
جی سلمان بھائی۔ اگلے پانچ منٹ تک پہنچ رہا ہوں۔
جی جی۔ جو پڑھنا ہے وہ ساتھ ہے۔
خدا حافظ۔
فون بند ہوگیا اور اگلے دو منٹو ں میں ہم بنی گالا میں واقع ’\’ تھیٹر والے‘\’ کے مسکن پہنچ گئے۔ ٹیکسی والے نے کہا کہ اس کے پاس بقایا پیسے پورے نہیں سو ہم چینج لائیں۔ میں اندر ہال میں گیا تو سلمان بھائی نظر آئے۔ انہیں ہزار روپے دے کر دو پانچ سو کے نوٹ لئے۔ ٹیکسی کو ادائیگی کرکے میں اور اسد اندر ہال میں آ گئے۔
سلمان حیدر نے میرا تعارف یوں کروایا۔
ہاں بھئی۔ یہ شوذب ہیں۔ سیاست ایٹ فو ر کو دیکھنے کے لئے جو تین لوگ آئے تھے ان میں سے ایک یہ ہیں۔
یقین جانئے مجھے کچھ خبر نہیں کہ وہ اپنے کون سے پلے کی بات کررہے تھے۔ میں نے ان کا کوئی کھیل نہیں دیکھا۔ لیکن سلمان بھائی تعارف کروارہے ہیں اسی پہ خوش ہوگیا۔ اصل میں میری ان سے واقفیت دو سال پہلے تب ہوئی جب انہوں نے بلوچ لاپتہ نوجوان زاہد بلوچ کے لئے لطیف بلوچ کی بھوک ہڑتال پہ اپنی ماں کے حوالے سے ایک جھنجھوڑ دینے والا بلاگ ’ بد نصیب ماؤں کے بد نصیب لعل‘ ڈان اردو پہ لکھا تھا۔ میں نے بے ساختہ انہیں فیس بک پہ تلاش کیا اور اس پیغام کے ساتھ دوستی کی درخواست بھیج دی۔
سلمان حیدر ! جیو مرشد ! اپنی ہتھیلی اور انگلیوں پر میرا بوسہ وصول کرو۔ کاش کسی کو ہوش آ جائے اور آپ کی ماں کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ زاہد اور لطیف بلوچ کی مائیں تو گنگ ہو چکی ہوں گی۔
ان کا جواب آیا۔
شکریہ دوست ! ہوش لطیف بلوچ کی بھوک سے نہیں آیا تو میرے چند لفظوں سے کیا آئے گا۔ لیکن اپنے پاس بھی صرف لفظ ہی ہیں۔ یہی دوستوں کی نذر کرسکتے تھے۔ سو کردیئے۔
جی تو سلمان بھائی میرا تعارف کروا چکے تو کہنے لگے کہ یار ! ’ تم بھی شام سخن پہ کچھ پڑھ دو۔ یہ لو میں یہ تین کتابیں لایا ہوں۔ مزید حماقتیں ، خمار ِ گندم اور اردو کی آخری کتاب۔ ان میں جو بھی پسند ہو وہ تم پڑھو۔ اگر معیاری ہوا تو جب چودہ جنوری کو شام سخن ہوگی۔ تم بھی وہاں پڑھنا۔
میں نے وہاں ابن انشا کا مضمون ’\’ فیض اور میں‘\’ پڑھا۔ کسی شجاعت حسین نامی اچھے شاعر کی نظم’ حسن چوزہ گر‘\’ سنائی۔ دونوں پہ سبھی لوگ ہنسے۔ سلمان بھائی کہنے لگے۔
’ بھئی بہت مشکل ہے کہ کسی ایک کو منتخب کریں تم یہ دونوں باری باری پڑھ دینا ‘۔
میں دل ہی دل میں خوش ہوگیا۔ اتنے لوگوں نے واہ واہ کردی۔ اندر کے فنکار کو واہ واہ کار مل جائے تو وہ پھول جاتا ہے۔ سلمان بھائی نے اپنے دو مضمون سنائے۔ دماغ کی مونچھیں اور ہمارے اپنے شودر ۔ وہ ہمیشہ ہی جھنجھوڑنے والی تحریر لکھتے ہیں۔ میں نے ان کی تینوں کتابیں ترتیب میں جوڑ کر انہیں واپس کردیں پھر پوچھا کہ آپ کہاں رہتے ہیں۔ ہمیں واپسی کے لئے لفٹ چاہیے۔
کہنے لگے۔ ’پاکستان ٹاؤن‘ پی ڈبلیو ڈی کے ساتھ۔ وہاں جانا ہے تو ساتھ چلئے۔ اسد وہیں نوکری کرتا ہے اور وہ شام کو وہیں سے واپس آیا تھا۔ لیکن ابھی ہم نے جی سیون رات ٹھہرنا تھی۔ سو انہوں نے کہا کہ چلو آئندہ اگر اسد کو آنا جانا ہوا تو میں چھوڑ دیا کروں گا۔ ابھی آپ لوگ سفیر بھائی کے ساتھ چلے جائیے۔ وہ آپ کو ڈراپ کردیں گے۔
میں اور اسد آٹھ بجے بنی گالہ سے چلے آئے۔ ابھی اریب اظہر کے گھر پہنچا ہوں تو ماں جی نسرین اظہر پوچھ رہی تھیں۔
بھئی شوذب ! وہ کافر کافر میں بھی کافر والی نظم تم نے مجھے نہیں دی۔ میں نے کہا کہ جی میں اس نظم کے شاعر کے پاس ہی تھا کل رات۔ ابھی انٹرنیٹ سے تلاش کردیتا ہوں۔ اریب سلمان بھائی کی لکھی ہوئی یہ نظم گانے لگ گیا اور بتایا کہ اس کی دھن صنم ماروی کے مرشد نے بنائی ہے۔
اسی اثناءمیں اپنے فون کو دیکھا تو آعمش کا میسج تھا۔
” یار۔ سلمان بھائی ہیز بین کڈنیپڈ۔ کل آپ ان کے پروگرام میں تھے۔ وہ وہاں تھے ؟“
میرا ہوش گم ہوگیا۔ تفصیل دیکھی تو پتہ چلا کہ وہ وہیں سے لاپتہ ہوئے ہیں۔ یہ گمشدگی کوئی گہرا معمہ نہیں۔ جو سلمان حیدر کو جانتے ہیں۔ وہ ان کی سرگرمیوں سے بھی آگاہ ہیں۔ سلمان حیدر انسان دوست ، ہمدرد اور انسانوں کی برابری پہ یقین رکھنے والے دانشور، شاعر ، اداکار ، مصنف اور استاد ہیں۔ بلوچ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو یا فرقہ وارانہ قتل و غارت۔ مظلوم طبقوں کے حق میں اپنا سپیکر ہاتھ میں اٹھائے نعر ے لگانے والا سلمان حیدر، ہم سب کا مانوس چہرہ، کل رات سے لاپتہ ہے۔ وہ وہیں بنی گالہ سے نکلے تو پھر گھر نہیں پہنچے۔ ان کی بیگم کو ان کے اپنے ہی فون سے میسج آیا کہ گاڑی کرال چوک سے لے لیجئے۔ پھر موبائل بند ہوگیا اور مزید کوئی خبر نہیں ہے۔
جب واحد بلوچ لاپتہ ہوئے تھے تو ان کے پاس کتابیں تھیں۔ جب سلمان حیدر لاپتہ ہوئے تو ان کے پاس بھی کتابیں تھیں۔ یہ کتاب والوں سے دشمنی کون کررہا ہے۔ ریاست بتائے تو سہی۔ یہ کتاب والے آخر کب تک بندوق والوں کا ستم سہیں گے۔
کتاب والوں کی ماؤں سے ہمدردی کیجئے سلمان حیدر کے ہی الفاظ ملاحظہ ہوں۔
”مائیں سب ایک سی ہوتی ہیں اور ان کے سوال بھی۔ آپ میں سے کسی کے پاس اپنی، لطیف کی، میری ، زاہد کی، ہم سب کی ماؤں کے سوالوں کے جواب ہیں؟ اگر نہیں تو پھر آپ اب تک گھر میں کیسے بیٹھے ہیں باہر کیوں نہیں آتے؟“
سلمان حیدر کی ماں کو حوصلہ دیجئے وہ اب یہ پوچھتی ہوگی کہ میرا سلمان کہاں رہ گیا ؟ اب تو نکلئے ، پوچھئے ، سوال کیجئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔