جنرل (ر) راحیل شریف کے لئے نادر موقع!


\"\"

پاکستان میں فوج کا کردار جنرل ایوب خان کے کابینہ میں وزیر دفاع بننے سے شروع ہوا اور ایوب خان کے مارشل لاء سے ہوتا ہوا جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء نے اسے عروج پر پہنچایا جبکہ رہی سہی کسر جنرل پرویز مشرف نے پوری کردی۔

ضیاالحق نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کی خاطر اسلام اور جہاد کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کا خمیازہ آج بھی پورا پاکستان بُھگت رہا ہے جبکہ افغانستان آج بھی میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ نہ صرف سُپر پاؤر روس کی دشمنی اپنے سر لی بلکہ ایران اور بھارت جیسے اہم ہمسایہ ممالک بھی پاکستان کے دشمن بن گئے نتیجتاً پاکستان تقریباً تنہا ہو کر رہا۔

ضیاالحق کے پالیسیوں کی وجہ سے جو کلچر فروغ پایا انہوں پاکستانی معاشرے کو ایک کٹر مذہبی معاشرے میں تبدیل کیا اور قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان فرقہ واریت اور جمہوریت دشمن قوتوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہوا۔ افغان جہاد کے نام پر دنیا بھر سے خطرناک ترین عقائد کے جہادی لا کر پاکستان کو عالمی جہاد کا مرکز بنایا جبکہ پاکستان میں ہزاروں مدارس قائم کرکے دہشتگردوں کی ایک ایسی فصل تیار کی گئی جو آج طالبان اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی صورت میں ہمارے بچوں کے گلے کاٹ رہے ہیں اور اسی ہزار بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کرکے آج بھی ریاست پاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

جنرل مشرف کی دوغلی پالیسی نے ان دہشتگرد تنظیموں کو مزید منظم کیا اور جنرل کیانی سالوں تک طالبان سے مذاکرات کرتے رہے۔ جنرل  راحیل شریف نے پہلے طالبان کیساتھ مذاکرات کرنے کی ناکام کوششیں کی اور آرمی پبلک سکول کے دلسوز واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تو وزیرستان سمیت خیبر مہمند وغیرہ میں درجنوں آپریشن کرکے دہشتگردی پر قابو پانے نے کوشش ضرور کی لیکن دہشت گردی کے مراکز جنوبی پنجاب میں اب بھی باقی ہیں جبکہ کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر انتخابات میں حصہ لینے لگے اور اب منتخب ہو کر پارلیمٹ میں بیٹھی ہیں۔

15 دسمبر 2015 کو سعودی وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی عرب کی سربراہی میں اسلامی عسکری اتحاد کا اعلان کیا۔ جس میں ترکی، مصر، ملائیشیا اور پاکستان سمیت اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، سیرالیون، صومالیہ، گبون، گنی، فلسطین، کیمرون، قطر اور آئیوری کوسٹ، کویت، لبنان، لیبیا، مالدیپ، مالی، مراکش، موریطانیہ، نائجر، نائیجیریا اوریمن سمیت 39 ممالک شامل ہیں۔ پاکستان سمیت اکثر ممالک کو اس پریس کانفرنس کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ اس اتحاد میں شامل ہیں اور اس سے زیادہ اس پر تبصرہ کی ضرورت بھی نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  مولانا فضل الرحمان کا سانحہ مستونگ پر پیغام

\"\"

اس سے پہلے امریکہ اور سعودی عرب کا بنایا گیا چونسٹھ ممالک کا اتحاد داعش کے سامنے بے بس نظر آیا اور داعش عراق و شام پر قبضہ کرنے کے قریب تھی کہ ایران نے مداخلت کرتے ہوئے جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں داعش کو عراق میں شکست سے دوچار کیا۔

یہ اتحاد ایک ایسے وقت میں قائم کیا گیا جب سعودی عرب اور امریکہ و نیٹو کے راستے شام میں جدا ہوگئے اور ایران و روس نے شامی حکومت کی درخواست پر مداخلت کرکے بشار الاسد کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کی کوششیں تیز کردی۔ جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کو یمن کے دارالحکومت صنعا پر حملہ آور سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی ملیشیا کے پیچھے ایران کا ہاتھ نظر آیا۔ اس نے اعلان جنگ کرتے ہوئے یمن پر حملہ کیا اور آج تک اس جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔

اب یہ عالمی طاقتوں کی جنگ علاقائی طاقتوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے جس میں ملیشیاؤں کا کردار سب سے اہم ہیں۔ جبکہ دوسری طرف سعودی عرب نے اسلامی عسکری اتحاد کے ایک سال بعد پاکستان فوج کے تازہ ترین ریٹائرڈ جنرل، راحیل شریف کو اس فوج کا سربراہ بنایا۔

کچھ اہم سوالات اُٹھاتے ہوئے ان کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوئے پریشانی لاحق ہوجاتی ہے۔ جس میں سرفہرست یہ کہ دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ملک عراق اس اتحاد میں شامل کیوں نہیں؟

دوسرے نمبر پر دہشتگردی کا سب سے بڑے شکار ملک شام اس اتحاد می شامل کیوں نہیں؟ اور یاد رہے شام کو عرب ممالک کے اتحاد سے بھی باہر نکالا جا چکا ہے۔

اور تیسرا اہم سوال یہ کہ ایران کو اس اتحاد میں شامل کیوں نہیں کیا گیا؟

ان تینوں سوالوں کے جوابات ڈھونڈتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسلم اُمّہ اب دو گروپوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور اسلامی ممالک کے اس اتحاد میں اگر ایران، عراق اور شام جیسے اہم اسلامی ممالک شامل نہیں تو ہم اسے پوری اسلامی ممالک کے اتحادی افواج نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ وہ تین ممالک بھی کل ایک اتحاد کا اعلان کرسکتے ہیں جس کا نام وہ بھی مسلم اتحادی افواج رکھ سکتے ہیں جس کا اعلان ایران نے پہلے ہی کر رکھا ہے لیکن ایران نے سعودی عرب کو بھی اُس اتحادی فوج میں شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  8 بھارتی سفارتکار پاکستان میں دہشت گردی نیٹ ورک چلا رہے ہیں، کل بھوشن کی گرفتاری کے بعد جاسوسی کا ایک اور بڑا سکینڈل بے نقاب

جنرل راحیل شریف دو کام آسانی سے کرسکتے ہیں، ایک یہ کہ ایران، عراق اور شام کے بغیر اس نامکمل اسلامی ممالک کی فوج کو لے کر آگے بڑھیں اور پاکستان کو مزید دلدل میں دھکیلتے ہوئے پڑوسی ملک ایران کیساتھ ایک اور جنگ کا محاذ کھول دیں جس سے دوسرے پڑوسی اور دشمن ممالک بھی فائدہ اُٹھا کر پاکستان کو مزید غیر مستحکم کریں۔

دوسری یہ کہ جنرل راحیل شریف جدید دور کے خالد بن ولید بن کر مسلم اُمّہ کی عسکری ترجمانی کرے۔ ایک مخلص اور محب وطن پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ایران، عراق اور شام کو اس اتحاد میں شامل کروا کر اس نامکمل اسلامی اتحادی فوج کو ایک عالمی اسلامی عسکری قوت بناکر دنیا کے سامنے کھڑا کردیں اور پاکستان کی طرح پوری مسلم اُمّہ کو ناقابل تسخیر فوج مہیا کریں۔ مسلم ممالک کو ایک ایسا عسکری پلیٹ فارم مہیا کریں کہ دہشتگردی چاہے عراق میں ہو یا شام میں، افغانستان میں ہو یا یمن و لیبیا میں یہ اسلامی اتحادی فوج وہاں تعینات کرکے وہاں انتشار اور جنگوں سے تباہی و بربادی روک دیں۔

مجھے قوی اُمید ہے کہ ریاست پاکستان نے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو اسی اُمید اور توقع کے ساتھ اجازت دی ہوگی کہ مسلم اُمّہ اقوام متحدہ کے نام نہاد کردار اور نیٹو اور امریکی افواج سے سے نجات حاصل کرکے اپنے بل بوتے پر مسئلہ کشمیر اور فلسطین و قبرص جیسے مسائل حل کرانے کی پوزیشن میں آجائے۔ پاکستان واقعی اسلام کا قلعہ بن جائے گا۔ اور مسلم ممالک آپس کی رنجشیں ختم کرکے آگے بڑھیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے معاشی اور اقتصادی ترقی کرتے ہوئے دنیا میں مثال قائم کریں۔ داعش، طالبان، بوکو حرام، الشباب اور القاعدہ جیسے دہشتگرد تنظیموں جنہوں اسلام کا چہرہ بہت مسخ کیا ہے کو نیست و نابود کرتے ہوئے اسلام کا حقیقی روپ دنیا کے سامنے لائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شفیق احمد طوری کی دیگر تحریریں
شفیق احمد طوری کی دیگر تحریریں