جنرل راحیل شریف اور عالمی خلافت کا قیام


\"\"

صالح خان ترین تمتاتے ہوئے چہرے کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے اور ہمیں لپٹ گئے اور مبارکباد دینے لگے۔ ہم نے بوکھلا کر اس بے پایاں خوشی کی وجہ پوچھی۔

صالح ترین: جنرل راحیل شریف صاحب کو 39 اسلامی ملکوں کی فوج کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
ہم: ہاں خوشی کی بات ہے کہ کسی پاکستانی کو اتنی عزت ملی۔ لیکن اتنی خوشی کی بات بھی نہیں ہے جتنے آپ نہال ہوئے جا رہے ہیں۔ ویسے یہ فیصلہ ریاض میں ہوا ہے یا اسلام آباد میں؟
صالح ترین: وزیر دفاع خواجہ آصف صاحب نے کہا ہے کہ اس فیصلے پر اسلام آباد کو یقیناً اعتماد میں لیا ہی گیا ہو گا۔
ہم: لیا ہی گیا ہو گا۔ یعنی وزیر دفاع کو حسب معمول کوئی کچھ نہیں بتا رہا ہے۔
صالح ترین: خواجہ صاحب صاف گو آدمی ہیں۔ انہوں نے بتا دیا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں حکومت اور جی ایچ کیو کی کلیئرنس لی جاتی ہے اور اس معاملے میں بھی طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے، لیکن ان کو تفصیلات کا علم نہیں ہے۔
ہم: کیا خواجہ صاحب نے اس پر غور کیا کہ اس اقدام کے بعد شیعہ سنی جنگ کہیں مشرق وسطی سے پھیل کر پاکستان تک نہ پہنچ جائے۔ پہلے ہی ہمیں بڑی مشکل سے برادر اسلامی ملکوں کی پراکسی وار سے شام کی جنگ کے صدقے نجات ملی ہے۔ اب یہ فرقہ وارانہ پراکسی وار نئے سرے سے دوبارہ شروع نہ ہو جائے۔ یہ تو کوئی خوشی کی بات نہیں ہے، بلکہ پریشانی کی ہے۔ آپ اس پر خوش کیوں ہیں؟
صالح ترین: بھائی، جنرل صاحب اس اسلامی فوج کی کمان کرتے ہوئے شام جائیں گے۔
ہم: تو؟
صالح ترین: تمہیں پتہ نہیں ہے کہ شام سے ہی دجال کے خلاف جنگ شروع ہو گی اور پھر ایک عالمی خلافت قائم ہو گی؟
ہم: یعنی ایران سے ہماری جنگ شروع ہونے والی ہے؟

\"\"صالح ترین: نہیں میرے بھولے بھائی۔ اب جبکہ جنرل راحیل شریف وہاں تشریف لے گئے ہیں تو ان کے دبدبے میں آ کر ایران نے بھی جنرل قاسم سلیمانی کی فوجوں کو جنرل راحیل شریف صاحب کی کمان میں دے دینا ہے۔ یوں اس 39 ملکی لشکر میں ایران، شام اور عراق وغیرہ کی افواج بھی شامل ہو جائیں گی جو سب سے پہلے وہاں داعش کو شکست دیں گی، پھر ویسے ہی القاعدہ کو جیسے پاکستان میں دی ہے، اور اس کے بعد جنرل صاحب عالمی خلافت کے قیام کا اعلان کر دیں گے اور ہماری جماعت ان کے لشکر کے ہراول دستوں میں شامل ہو گی۔
ہم: خلافت کا اعلان کر دیں گے تو خلیفہ کسے بنائیں گے؟ اسلامی دنیا کے حکمران کیسے کسی ایک خلیفہ کی بیعت کرنے پر راضی ہوں گے؟
صالح ترین: خود خلیفہ بنیں گے میرے بھائی، خود خلیفہ بنیں گے۔ جنرل صاحب کے ہوتے ہوئے کون ایسا حکمران ہو گا جو ان کی بیعت کرنے سے کترائے گا؟ کسی نے انکار کیا تو اس کا بھی حل ہے۔
ہم: کیا حل ہے؟
صالح ترین: جنرل صاحب، ان 39 جمع تین 42 ملکوں میں مارشل لا لگانے کا اعلان کر دیں گے اور خود حکمرانی سنبھال لیں گے۔
ہم: جنرل صاحب نے بار بار موقع ملنے کے باوجود پاکستان تک میں مارشل لا نہیں لگایا تو ان 42 ملکوں میں کیوں لگائیں گے؟ وہ ایک سچے فوجی ہیں اور جانتے ہیں کہ فوجی کی عزت آئین مملکت کا وفادار رہنے میں ہوتی ہے۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ افواج پاکستان کسی صورت بھی خود کو مشرق وسطی کی جنگ میں نہیں الجھائیں گی۔ جنرل راحیل شریف کو وہاں بھیجے جانے کی منظوری دینے کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ یمن اور شام کی پراکسی وارز میں تمام برادرز اسلامی ملکوں کو یہ سمجھ آ چکی ہے کہ کوئی ایک نہیں جیت سکتا ہے، اس لئے اب سب معاہدہ امن کریں گے اور اپنے اپنے علاقے تقسیم کر لیں گے۔ اس تناظر میں جنرل صاحب ایک جرنیل کا رول صرف داعش وغیرہ کے خلاف ادا کریں گے، اور اسلامی ملکوں میں صلح کرنے کا فریضہ ہی سرانجام دیں گے۔ اگلے ایک مہینے کے اندر اندر ایسی خبر آ جانی چاہیے۔

\"\"صالح ترین: دیکھو میرے سیدھے سادے بھائی۔ آدمی بے اختیار ہوتا ہے اور تقدیر کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر جیتا ہے۔ قدرت نے جنرل صاحب سے ایک بڑا کام لینا تھا۔ پاکستان تو امت مسلمہ کا ایک چھوٹا سا جزو تھا۔ یہاں کی حکومت وہ سنبھال بھی لیتے تو کیا کر لیتے۔ اب قدرت نے جیسے ان کو 42 ملکوں کی فوجوں کا سربراہ بنا کر پہلا قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے، ویسے ہی ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ ان کو اپنی مرضی کے برخلاف محض امت کو بچانے کی خاطر ان 42 ملکوں میں مارشل لا لگانا پڑ جائے گا اور خود عنان حکومت سنبھالنی پڑ جائے گی۔ اس مرتبہ ہم القمر کے نام سے رضاکاروں کی تنظیم بنا کر ان کا ہاتھ بٹائیں گے اور اسرائیل اور امریکہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔
ہم: وہ ہرگز بھی ایسا نہیں کریں گے۔ وہ ایک سچے سپاہی ہیں اور ہم ان پر پورا اعتماد کرتے ہیں۔
صالح ترین: 42 ملکوں کا سربراہ ان کو قدرت نے بنا ہی دیا ہے ناں۔ کون سوچ سکتا تھا کہ یہ ہو گا۔ قدرت نے جب کسی آدمی سے بڑا کام لینا ہو تو ایسے ہی اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ اقبال فرما گئے ہیں ’کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی‘۔
ہم: بھائی صالح ترین۔ جنرل صاحب کو ایک محدود علاقے میں تمام ممالک کی فوجوں کے چند منتخب دستوں پر مبنی لشکر کی کمان دی جا رہی ہے۔ جنرل صاحب کو ان 42 ملکوں کی فوج کا کماندار نہیں بنایا جا رہا ہے۔ وہ ان 42 ملکوں میں مارشل لا لگا کر خلافت قائم نہیں کر سکتے ہیں۔
صالح ترین: قدرت خود بخود اسباب بنائے گی۔ دیکھ لینا، ایک سال کے بعد یہی ہو گا۔
ہم: ایک سال کیوں؟
صالح ترین: بھائی ایک سال تو لگے گا جنرل صاحب کو عربی سیکھنے میں۔ خلیفہ عربی سے نابلد نہیں ہو سکتا ہے۔ بس جیسے ہی جنرل راحیل شریف نے عربی پر عبور حاصل کیا، تو دیکھ لینا قدرت کیسے ان کے قدموں میں پوری دنیا کی حکومت ڈال دے گی۔
ہم: بھائی صالح خان ترین، آج کل مارکیٹ میں نسوار زیادہ تیز آ رہی ہے ناں؟
صالح ترین: تمہیں کیسے پتہ چلا؟
ہم: لمبے روٹوں پر چلنے والا ایک ٹرک ڈرائیور بتا رہا تھا۔ وہ ٹرک کی بتی ٹھیک کرانے ورکشاپ پر آیا ہوا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 690 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar