صائمہ ارم کا افسانوی مجموعہ ۔۔۔۔ شاہ موش اور دوسری کہانیاں


\"\"افسانوں کے اس مختصر مجموعے کے پہلے اندراج ”شاہ موش“ کو پڑھ کر خیال آسکتا ہے کہ افسانہ نگار کو معمول سے ہٹی ہوئی تجرباتی تحریر سے شغف ہے۔ اس افسانے میں ایک آدمی کو، جسے ادھیڑ تصور کرنا چاہیے، بتدریج، کلّی طورپر، ذہنی اختلال میں مبتلا ہوتے دکھایا گیا ہے۔ تیرہ صفحوں پر محیط یہ یک طرفہ گفتگو اس واہمہ زدہ زندگی کا احوال ہے۔ دہشت زدگی کا عالم اس پر یکایک طاری نہیں ہوا۔ لیکن اختلال کے تمام مراحل کو افسانہ نگار ہنرمندی اور کفایت سے، ایک مختصر لیکن تیزی سے آگے بڑھتی فلم کے مانند، ہمارے سامنے لے آئی ہے۔ اختتام سے صاف ظاہر ہے کہ واحد متکلم مرکزی کردار کا اگلا ٹھکانا ذہنی مریضوں کی علاج گاہ یا پاگل خانہ ہی ہو سکتا ہے۔

باقی پانچ افسانے بالکل مختلف ہیں اور ان کو حقیقت نگاری کی مد میں رکھنا پڑے گا۔ ویسے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ”شاہ موش“ بھی حقیقت نگاری ہی سے علاقہ رکھتا ہے۔ دیوانگی کی طرف بڑھتے ہوے کسی فرد کی ذہنی ابتلا کی عکاسی مقصود ہو تو بیانیے میں غرابت کا در آنا لابدی ہے۔

سادہ لوحی پر مبنی کسی مفروضے کے تحت یہ طے کر لیا گیا ہے کہ نئے دور کی پیچیدگی سے حقیقت پسندی نباہ کرنے کی اہل نہیں۔ ہمیں \"\"لامحالہ تجربے، تجرید، تغرید یا کسی تقلیبی انداز کا سہارا لینا پڑے گا۔ لیکن حقیقت نگاری محض ادبی اصطلاح ہے اور اس سے مراد ہرگز نہیں کہ اس کی مدد سے زندگی کی ہو بہو تصویر کھینچی جاتی ہے۔ جسے ہم حقیقت پسندانہ فکشن کہتے ہیں وہ بھی اصل میں لسانی بناوٹ ہے۔ ورنہ حقیقی زندگی اپنی ماہیت اور جہات میں کسی ادبی صنف میں کہاں سما سکتی ہے۔ فکشن زندگی سے سروکار رکھنے کا صرف ایک پیرایہ ہے تاکہ کسی صورت حال کے جوہر کو بیان کیا جاسکے۔ جو بڑے لکھنے والے ہیں وہ اس جوہر کو کام یابی سے کشید کر لیتے ہیں۔ جو کم صلاحیت رکھتے ہیں انھیں تلچھٹ پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ کہنا صرف اتنا ہے کہ نئے حقائق خواہ کتنے ہی پیچیدہ ہوں آخر الامر رہتے تو حقائق ہیں اور ان سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے حقیقت نگاری اتنی ہی کارآمد ہے جتنی پہلے تھی۔

اسی بارے میں: ۔  کنفیوژن زندہ باد

اس بات کی تصدیق صائمہ ارم کے افسانوں کو پڑھ کر ہوتی ہے۔ صائمہ ارم کے افسانوں کا یہ پہلا مجموعہ ہے۔ نووارد ہونے کے باوجود ان افسانوں میں وہ قباحتیں نہیں پائی جاتیں جو بالعموم نئے لکھنے والوں کی تحریروں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ نہ کوئی رنگین بیانی ہے نہ خطابت پردازی ہے نہ بطور مصنف کہانی میں خواہ مخواہ دخل دینے کی علت ہے۔ سادہ نثر میں، جو بیان کرنا تھا، اسے کسی حشو کے بغیر ادا کر دیا ہے۔ نہ کوئی نکلف ہے نہ تعبیر۔ قاری پر منحصر ہے کہ وہ ان بیانیوں سے کیا معنی اخذ کرتا ہے۔ خیال یہی ہے کہ ان میں اسے ارد گرد کی دنیا کا عکس نظر آئے گا۔

جس ماحول کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ متوسط طبقے کے پورے طیف کا احاطہ کرتا ہے۔ سب سے اچھا افسانہ غالباً ”لبِ گور“ ہے۔ اس\"\" میں اہلِ محلہ ایک ایسے شخص کی سنگ دلی پر لعنت ملامت کرتے نظر آتے ہیں جو اپنے بیمار اور لاعلاج بڑے بھائی کو قبرستان میں پھینک آیا ہے۔ وہ بھائی کی نہ ختم ہونے والی بیماری اور ذہنی بے حواسی سے تنگ آ چکا تھا۔ اسے گھر میں رکھنے کی صعوبت کی تاب نہ لا کر گلی میں ایک چارپائی پر ڈال دیا تھا۔ بعد میں وہاں سے اٹھا کر قبرستان میں لٹا آیا۔ اہل محلہ کی طنز آمیز گفتگو اور بیمار بھائی سے جھوٹ موٹ کی ہم دردی کسی قسم کی یگانگت کا اظہار نہیں۔ وہ محض ایک نئے اور ڈرامائی واقعے سے لطف لینے اور فقرے بازی کے لیے اکٹھے ہوے ہیں۔ بعد میں وہ مسجد کے مولانا کی خدمت میں حاظر ہوتے ہیں تاکہ مذمت کے مزید مواقع بہم آ سکیں۔ آخر میں اس بے رحمی کی خبر اور تصویر نشر کرنے کے لیے کسی ٹی وی چینل کی ٹیم بھی آ پہنچتی ہے۔ ہم دردی اس ٹیم کو بھی کسی سے نہیں۔ واقعہ چونکہ چٹپٹا ہے اس لیے اس سے ٹی وی کی نشریات کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے اور یہ پیٹ بھی ایسا ہے جو کبھی سیر نہیں ہوتا۔ طنز اول تا آخر تیکھا ہے۔ افسانہ اس لیے بھی بھیانک ہے کہ تمام کرداروں میں منافقت رچی ہوئی ہے۔ ان کے بس ایک مشغلہ ہاتھ آگیا ہے۔ تماشائیوں پر مشتمل ایک نامربوط ہجوم ہے جو شہر میں کہیں بھی اور کسی وقت بھی اکٹھا ہو سکتا ہے اور فضول باتوں سے دل بہلا کر بکھر جاتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  قائد اعظم کی جعلی ڈائری اور صدارتی نظام

دوسرا قابل ذکر افسانہ ”صرف ایک سگریٹ“ ہے۔ اس کا مرکزی کردار یونیورسٹی کا پروفیسر ہے۔ تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ رقابت، مروجہ تعلیم کی بے معنویت، جبلی اقدار، گردو پیش کا مفسدانہ ماحول، متوسط طبقے کا کھوکھلا پن–ان سب کیفیتوں کو یکجا کر کے خاصی چبھتی ہوئی باتیں کہی گئی ہیں۔ خاتمہ البتہ کمزور اور میلو ڈرامائی ہے جس سے افسانے کے تاثر کو زک پہنچتی ہے۔ ”داغ دار“ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اکیلی ہے، کسی حد تک آزاد ہے، کہیں دفتر میں ملازم ہے اور کار کی مالک ہے۔ محلے کے رہنے والے، مرد اور عورتیں، اپنی اپنی بساط کے موافق، اسے حسد یا تضحیک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کہانی کے آخر میں اس سے ایک ایسی حرکت سرزد ہوتی ہے جس کی شعوری طور پر وہ خود بھی توجیہہ نہ کر سکتی ہوگی۔ نامعلوم کی گتھی سلجھانے کی کوشش شاذ ہی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔

صائمہ ارم کا مشاہدہ تیز ہے اور مکالموں میں کاٹ ہے۔ اس کے قلم کی بے باکی شاید بہت سے قارئین کو چونکا دے۔ ہم سب ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں جی رہے ہیں۔ پرانی اقدار اور قدغنیں ٹوٹ پھوٹ چلی ہیں۔ تخیل اور تحریر کی ایک نئی رو سامنے ہے جو بہت کچھ بہا لے جائے گی اور اپنے پیچھے جو آڑ کباڑ چھوڑے گی وہ کم آزار رساں نہ ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگلے افسانوں میں صائمہ ارم اس بے رحم، بڑے شہر اور اس میں بسنے والوں کا کس زاویے سے جائزہ لے گی؟

شاہ موش اور دوسری کہانیاں از صائمہ ارم

ناشر: آج کی کتابیں، کراچی

ص144؛ 150روپیے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔