کشمیر میں امن: ڈاکٹر نائلہ خان کا انٹرویو


\"\" سرینا: اگست 2016 کے پیس بز میں‌ خوش آمدید۔ میں‌ آپ کی میزبان اوکلاہوما سٹی سے سرینا بلیز ہوں جہاں‌ ہمارا اسپانسر ادارہ \”سینٹر فار کونشنس ان ایکشن\” واقع ہے۔ یہ ادارہ امن کی کاوشوں میں‌ پیش پیش ہے اور آج ہم ڈاکٹر نائلہ خان کا انٹرویو پیش کریں گے جو یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

ڈاکٹر خان کا تعلق کشمیر کے اس علاقے سے ہے جو کہ انڈیا کے کنٹرول میں‌ ہے۔ کشمیر کی تاریخ اہم ہے اور یہ علاقہ بدامنی کا شکار ہے جس کو ساری دنیا کو بہتر سمجھنے اور حل کرنے کی ضروت ہے۔ آج ہم اسی لئیے ڈاکٹر خان سے دوبارہ ملاقات کررہے ہیں تاکہ تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔

 نائلہ خان: ہیلو سیرینا، مجھے خوشی ہے کہ پیس بز میں‌ واپس آکر آپ سے کشمیر کی صورت حال پر بات کرنے کا موقع ملا۔ جموں‌ اور کشمیر انڈین یونین میں‌ واقع ریاست ہے۔ کشمیر کی ریاست کے کچھ حصے پاکستان میں‌ اور کچھ چھوٹے حصے چین میں‌ واقع ہیں۔ یہ تمام ریاست ایک سیاسی تنازعے کا شکار ہے۔ جب سے کشمیر کو 1989 میں‌ فوجی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا تب سے ریاست میں‌ مسلح شورش اور مزاحمت جاری ہے۔ سرکاری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں‌ نےکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انڈیا کی حکومت نے سیاسی نظام کی بحالی کے لئیے ہر چھ سال میں‌ الیکشن کرانے کی کوششیں‌ کی ہیں لیکن بڑے سیاسی دھارے سے عوامی مایوسی ختم نہیں‌ ہوئی ہے۔ نوجوان نسل جو مسلح بغاوت اور جوابی فوجی کارروائی سے پیدا کردہ حالات میں‌ بڑی ہوئی ہے، اس میں‌ انتہائی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انڈیا کی حکومت کشمیر کی ریاست کو آزادی رائے دے کر یہ عوامی تنہائی اور غصہ کم کرنے میں‌ کردار ادا کرسکتی ہے۔

1947 میں‌ انڈیا کا حصہ بننے کے وقت کشمیر ایک شاہی ریاست تھی۔ جس وقت کشمیر کے راجہ نے \”انسٹرومنٹ آف ایکسیشن\” پر دستخط\"\" کئیے، وہ اس سمجھ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ انڈیا کی حکومت بیرونی تعلقات، کمیونیکیشن اور دفاع سنبھالے گی اور بقایا معاملات کشمیر کی ریاست کے کنٹرول میں‌ رہیں‌ گے۔ لیکن 1953 میں‌ کشمیر کے جمہوری طریقے سے چنے گئے پرائم منسٹر شیخ محمد عبداللہ کو جو کہ میرے نانا تھے، نہرو کے حکم پر یکدم برخواست کرکے جیل میں‌ ڈال دیا گیا۔ تب سے کشمیر میں‌ حالات خراب ہیں۔ ان کو اس لئیے حراست میں‌ لیا گیا کیونکہ پرائم منسٹر بننے کے بعد انہوں‌ نے کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے مطالبے سے دستبرداری سے انکار کیا جس کے نتیجے میں‌ ان کو حکومت سے نکال دیا گیا۔ 1953 سے انڈیا کی حکومت نے مستقل ریاست کے مشور اور اس کی آزادی کے راستے میں‌ رکاوٹیں‌ کھڑی کی ہیں جس کی وجہ سے کشمیری عوام میں‌ مایوسی پھیلی۔ اس مایوسی اور تنہائی کے متشدد ردعمل کو پاکستان کی حکومت کی دراندازی اور مسلح امداد سے مزید شہہ ملی اور حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ مسلح مزاحمت کی ہتھیار اور بارود کے ساتھ پاکستانی حمایت سے کشمیری عوام کی نفسیات، معیشت اور حوصلے کو ناقابل تلافی صدمہ پہنچا ہے جو کہ دوراندیشی اور ان اقدام کے طویل عرصے کے اثرات کو سمجھے بغیر کی گئی تھی۔

سرینا: کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ پاکستان اور انڈیا کی اقوام ایک دوسرے کی دشمن ہیں اور پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو انڈیا سے انتقام کے لئیے استعمال کیا ہے؟

نائلہ: ہاں‌ میرے خیال میں‌ یہ بالکل درست ہے۔

سرینا: جب میں‌ نے آپ سے اس سال کے شروع میں‌ بات کی تھی تو اس وقت کشمیر میں‌ ہنگامے ہورہے تھے جن کی تصویریں‌ ساری دنیا میں‌ چکر کھارہی تھیں جس کو آپ نے عوامی احتجاج اور انسداد بغاوت کا نام دیا تھا۔ کیا حالیہ واقعات اسی ایک سلسلے کی کڑی ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  خدا حافظ کو اللہ حافظ کہنے کا ماجرا

نائلہ: یہ ایک اچھا سوال ہے۔ انڈیا کی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے کشمیر کی مسلح بغاوت کا جواب سیاسی باشعوری اور مذاکرات کے بجائے شدید جارحانہ انداز میں دیا ہے۔ اب بھی کشمیر کی آبادی کا بڑا حصہ انتہاپرستی کا شکار نہیں‌ بنا ہے۔ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو شناختی بنیادوں‌ پر دھڑے بندی کے طرف دار نہیں‌ ہیں۔

سرینا: انڈیا میں‌ ہندو اکثریت میں‌ ہیں اور پاکستان میں مسلمان؟

نائلہ خان: جی ہاں۔ ان دونوں‌ ممالک کے منشور میں‌ یہ بنیادی فرق ہے کہ انڈیا ایک سیکولر ملک ہے جبکہ پاکستان کے منشور میں‌ مذہب اسلام کو آگے رکھا گیا ہے۔ انڈیا کی حالیہ حکومت دائیں‌ بازو کی ہندوتا آئیڈیالوجی رکھنے والی اور انتہائی قوم پرست لیڈرشپ ہے اور یہ رویہ اس کے کشمیر میں‌ کئیے گئے اقدامات میں‌ واضح طور پر جھلکتا ہے۔

سرینا: میرے خیال میں‌ امریکی ان حالات کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ امریکہ میں‌ بھی دائیں‌ بازو کی سیاست نے عالمی تخریب کاری کا مقابلہ کرنے کے لئیے سیاست اور مذاکرات سے کام لینے کے بجائے ان کو مجرمانہ قرار دے کر الجھنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل مزید بڑھے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ 2001 میں نائن الیون کے حملوں‌ کے بعد جو فوجی کارروائیاں کی گئیں، ان کے مثبت نتائج نہیں‌ نکلے۔ میں‌ یہ کوشش کر رہی ہوں‌ کہ پڑھنے والے کشمیر کے مسئلے کو ایک عالمی پس منظر میں دیکھ سکیں۔

نائلہ خان: ہاں‌ میرے خیال میں‌ یہ ایک اچھا موازنہ ہے۔

سرینا: میں‌ خود بھی اس معاملے میں‌ قصوروار ہوں۔ عام امریکی بقایا دنیا کے بارے میں‌ اور خاص طور پر کشمیر کے بارے بہت کم جانتے ہیں۔ حالانکہ کشمیر میں‌ امریکی فوج موجود نہیں‌ ہے لیکن پھر بھی وہ انڈیا اور پاکستان کے تنازعے میں‌ کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افغانستان میں‌ بھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں‌ جاننا چاہتی ہوں‌ کہ کشمیر کی علاقائی صورت حال عالمی سیاست اور تخریب کاری کے خلاف جنگ پر کس طرح‌ اثرانداز ہوتی ہے؟ کیا آپ اپنے حالیہ آرٹیکل \”معاندانہ رہنماؤں کا اپنے زمینی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئیے قوم پرستی اور مذہب کا استعمال\” میں‌ یہی کہنا چاہ رہی تھیں؟

نائلہ خان: ہاں‌ ساؤتھ ایشین سٹیزن ویب اور کاؤنٹر پنچ میں‌ یہ آرٹیکل چھپ چکا ہے۔

سرینا: میں‌ نے آپ کا آرٹیکل پڑھا تو یہ محسوس کیا کہ آپ کے خیال میں‌ بہتر راستہ یہ ہے کہ ان علاقوں‌ کے عوام کو خود مختاری اور حق رائے دہی دی جائے۔

نائلہ خان: میں‌ آپ کے سننے والوں‌ کو یہ یاددہانی کرانا چاہوں‌ گی کہ کچھ ہی عرصہ پہلے ایک 22 سالہ نوجوان باغی کمانڈر کی انڈین نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں‌ ہلاکت سے ایک شدید عوامی رد عمل سامنے آیا۔ عام افراد جو کہ مسلح بغاوت کا حصہ نہیں، ان میں‌ بھی شدید غصہ پایا گیا اور احتجاجی جلسے اور مظاہرے ہوئے۔ لوگ نہ صرف اس بات پر مشتعل ہوئے کہ ان کو سیاسی طور پر تنہا کردیا گیا ہے بلکہ اس پر بھی کہ برہان وانی انڈین فوج کے ہاتھوں‌ اپنے بھائی کے قتل کے بعد ایک سوشل میڈیا پر مشہور اور مقبول ہوجانے والا نوجوان تھا جس کا کوئی سنجیدہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں‌ تھا۔ اس صورت حال کا انڈیا کی حکومت نے دانش مندی سے سامنا نہیں‌ کیا۔

میں‌ بغاوت کو کسی بھی قسم کے رومانوی رنگ دینے کے خلاف ہوں لیکن جب انڈیا جیسی قومی ریاست جو کہ فوجی اور معاشی دائروں‌ میں‌ ترقی کررہی ہے، ایک علاقائی بغاوت کا جواب اس جارحانہ انداز میں‌ دے جس سے علاقے میں‌ مزید غم وغصہ بڑھے اور عام لوگ مسلح بغاوت کو درست سمجھنے لگیں‌ تو مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گمبھیر ہوں‌ گے۔ ایک عام انسان کو دیوار سے لگا دیا جائے اور اس کے پاس ہتھیار اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچے تو سدھار کی توقع نہیں‌ کی جا سکتی۔ چونکہ کافی کشمیری خود ارادیت اور حق رائے دہی کا تقاضہ کرتے رہے ہیں، یہ محض ایک نعرہ اور بڑی طاقتوں‌ کے مابین شطرنج کا مہرہ بن کر رہ گیا ہے۔ کبھی انڈیا جارحانہ انداز میں‌ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان کو کشمیر چھوڑ دینا چاہئیے تاکہ وہ اپنی طرف کے کشمیر کے علاقوں‌ سے فوج نکال دیں اور کشمیر کے عوام کو آزادی اور انسانی حقوق مل سکیں۔ دوسری جانب سے پاکستان بھی اسی قدر جارحانہ انداز سے چلا چلا کر اپنا گلا خراب کرتا دکھائی دیتا ہے کہ کشمیر کے عوام کو آزادی ملنی چاہئیے۔ جب ان ممالک کے مابین حالات پرامن ہوں‌ تو وہ کشمیر کا معاملہ پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ دونوں‌ ممالک پاکستان اور انڈیا کے زیر حکومت کشمیری علاقہ جات میں‌ سیاسی اخلاف کو مجرمانہ قرار دے کر کشمیر کی عوام پر مظالم ڈھائے ہیں جن کا کشمیری سماج پر منفی اثر باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  لندن میں حالیہ دہشت گردی!

جہاں بھی فوجی، مذہبی یا سیاسی انتہاپسندی جڑ پکڑ لے، وہاں‌ طویل عرصے کے نقصانات ہوتے ہیں۔ جہاں‌ مذہب اور سیاست آپس میں‌ ملا دئیے جائیں تو مزید مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ جب عالمی برادری داعش  اور طالبان کے دور میں‌ ایسے گروہ دیکھتی ہے جو مذہبی لبادہ اوڑھ کر سیاست کے میدان میں‌ اترے ہوں‌ تو اپنی نظریں‌ پھیر لیتی ہے۔ اگر مذہب اور سیاست کو احتیاط سے حق خود ارادیت کے لئیے چلائی گئی سیاسی مہم سے الگ نہ رکھا جائے تو عالمی برادری شبہے کا شکار ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس اہم سیاسی تحریک کو ایک انسانی المیے کے طور پر پیش کریں۔ عام شہری امن کے تحفظ کے لئیے اپنے ووٹ اور رائے کی طاقت استعمال کرکے دنیا میں‌ مثبت تبدیلی کا راستہ بن سکتے ہیں۔ باضمیر شہریوں‌ کی حیثیت سے ہم اپنی ریاستی اور وفاقی حکومت کے سامنے جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے آئینہ پیش کرسکتے ہیں جس کے زرئعیے ان کو اپنے اقدامات کے لئیے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکے۔ دونوں‌ ممالک پاکستان اور انڈیا کی جانب سے کئیے گئے انسانی حقوق کی پامالیوں‌ پر روشنی ڈالنے اور دنیا کو ان سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

سرینا: جی ٹھیک۔ تو پھر کون سی ایسی عالمی تنظیمیں‌ ہیں جو ان مسائل کا حل دریافت کرنے میں‌ مدد دے سکتی ہیں؟ شائد ایمنسٹی انٹرنیشنل ایک مناسب ادارہ ہے۔

نائلہ خان: ایمنسٹی انٹرنیشنل کو انڈیا کی حکومت کی طرف سے مثبت جواب نہیں‌ دیا گیا ہے۔ انڈیا کی حکومت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل پر یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے میں‌ مداخلت نہیں‌ چاہتے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے کشمیر میں‌ انسانی حقوق کی پامالی کی تفتیش کے لئیے دونوں‌ ممالک انڈیا اور پاکستان سے اجازت طلب کی ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی پاکستان کی حکومت نے بیان جاری کیا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو ان کی طرف سے یہ اجازت ہے کہ وہ پاکستان کے زیر حکومت کشمیر کے علاقے میں‌ یہ تفتیش کرسکتے ہیں۔ اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ محض ایک بیان  ہے یا اس پر عمل درآمد بھی ہوسکے گا۔ انڈیا کی حکومت نے اقوام متحدہ کی یہ درخواست قبول نہیں‌ کی ہے اور ان کو انڈیا کے زیر حکومت کشمیر میں‌ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‌ کی شکایات کی تفتیش کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔

(یہ انٹرویو 19 اگست 2016 پر لیا گیا اور اسے سدھارتا گرو نے انگلش میں‌ لکھا اور ڈاکٹر لبنیٰ‌ مرزا نے اس کا اردو میں‌ ترجمہ کیا۔)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 21 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan