پیسہ بنانے کی مشینیں


\"\"’’اپنی آنے والی نسلوں کو ہم کیسے سمجھا پائیں گے کہ تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے جبکہ ہم خودغریب گریجوایٹس اورجرائم پیشہ امرا میں گھرے ہیں! ‘ ‘زمبابوے صدر، رابرٹ موگابے۔ اس قول زریں پر بعد میں بات کریں گے پہلے کچھ بات رابرٹ موگابے کی ہو جائے۔ موصوف 1924 میں پیدا ہوئے اور اس فروری میں آپ 93  برس کےہو جائیں گے، گزشتہ تین دہائیوں سے جناب زمبابوے کے صدر ہیں، ایک دفعہ ایک انٹرویو میں موصوف سے پوچھا گیا کہ آپ زمبابوے کے عوام کو خدا حافظ کب کہیں گے؟ موگابے نے حیرت سے پوچھا ’’کیا مطلب، عوام کہاں جا رہے ہیں ؟ ‘ ‘ انٹرویو کرنے والے نے کہا :’’میرا مطلب ہے کہ تیس برسو ں سے آپ اقتدار میں ہیں، ریٹائر ہونے اور باقی زندگی یاد الٰہی میں گزارنے کا کوئی ارادہ نہیں ؟ ‘ ‘ اس سوال کا موگابے نے نہایت شاندا ر جواب دیا : ’’کیا آپ نے کبھی یہ سوال ملکہ برطانیہ سے بھی پوچھا ہے یا صرف ہم جیسے افریقی لیڈروں پر ہی خصوصی عنایت فرماتے ہیں ؟ ‘ ‘ موگابے کی صحت قابل رشک ہے اور اس عمر میں بھی وہ بالکل چاک و چوبند ہیں، ہر روز صبح چار سے پانج بجے کے درمیان اٹھ کر ورزش کرتے ہیں، آخری بچہ موصوف نے 73 برس کی عمر میں پیدا کیا جو دوسری بیوی سے ہے، وہ پہلے موگابے کی سیکریٹری ہوا کرتی تھی۔ موگابے کی شخصیت خاصی دلچسپ ہے، اپنے بیانات کی وجہ سے وہ ہمیشہ میڈیا میں رہتے ہیں، جب امریکی عدالت عظمی نے ملک کی تمام پچاس ریاستوں میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو جائز اور قانونی قرار دیا تو رابرٹ موگابے نے بیان داغا کہ اگر میرا امریکہ اور وہائٹ ہاؤس جانا ہوا تو میں باراک اوبامہ کو \"\"شادی کے لئے’’پروپوز ‘ ‘ کروں گا ! موگابے پر خاصی تنقید بھی کی جاتی ہے، اپنے ملک میں مسلسل تین دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود بھی زمبابوے کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی موصوف نہیں لا سکے، 2008 میں کرنسی کا حال یہ تھا کہ ایک امریکی ڈالر کے اڑھائی ارب زمبابوین ڈالر ملتے تھےاور ایک ماہ میں افراط زر کی شرح قریباً 80 ارب فیصد تھی، ڈبل روٹی پینتیس ملین زمبابوین ڈالر کی ملتی تھی اور حکومت نے دو سو ملین ڈالر کا نوٹ بھی چھاپ رکھا تھا، لگ بھگ ویسے ہی حالات اب بھی ہیں۔

   لیکن آج ہم نے زمبابوے کی کرنسی کا ماتم نہیں کرنا، رابرٹ موگابے کے اس قو ل کی داد دینی ہے۔ موگابے نے بالکل ٹھیک کہا ہے، آج کا نوجوان یہ سوال کرتا ہے کہ پڑھائی لکھائی کا کیا فائدہ جبکہ پیسہ تو وہ لوگ بنا رہے ہیں جو نہ صرف جاہل ہیں بلکہ کرمنل بھی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پیسہ کون لوگ بنا رہے ہیں بلکہ اصل المیہ تو یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سمجھانے کی بھی زحمت گوارا نہیں کر رہے کہ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد محض پیسہ کمانا نہیں، الٹا ہم تو اپنے بچوں کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یہ سوچ \"\"کر داخل کرواتے ہیں کہ وہاں سے یہ پیسہ کمانے والی مشین بن کر نکلیں گے۔ ہمارے تعلیمی ادارے رات دن گنّے کا رس نکالنے والی مشین کی طرح چل رہے ہیں، بچوں کی ایک کھیپ گنّوں کی طرح توڑمروڑ کر مشین کی گراریوں میں ڈالی جاتی ہے اور دوسری طرف سے ان کا ’ ’ نائنٹی پرسنٹ رس ‘ ‘ نکل آتا ہے، بچے تو پتہ نہیں خوش ہوتے ہیں یا نہیں والدین ضرور نہال ہو جاتے ہیں۔ دو شفٹوں میں کام کرنے والے ٹیوشن سنٹر ہو ں یا ڈپلومہ بانٹنے والی یونیورسٹیاں کہیں گیان نہیں ملتا، بس ڈگری ملتی ہے، علم کا حصول مقصد نہیں، کاغذ کے ٹکڑے پر یہ لکھوانا مقصد ہے کہ حامل ہذا نے ایم بی اے کر لیا ہے لہذا نوکری اور بعد ازاں شاد ی اور مزید بعد ازاں بچے پیدا کرنے کا اہل ہے (وہ بچے پیدا ہو کر بھی یہی کچھ کریں گے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا تا قتیکہ مملکت خداداد کے اِن ٹیلنٹڈ شاہینوں کوپہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنے پڑے گا )۔ اگر ہم اپنے ارد گرد پھیلے سکولوں، کالجوں، اکادمیوں اور ٹیوشن سنٹرز کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہرکوئی فزکس، \"\"کیمسٹری، بیالوجی، میتھ، اکاؤنٹس، جی میٹ، سیٹ کی تیاری کرنا چاہتا ہے، کوئی بھی فلسفہ، ادب، تاریخ یا عمرانیات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ رٹّا لگا کر نمبر لینا حکمت عملی ہے، اِن نمبروں کی بنیاد پر ڈگری حاصل کرنا کامیابی ہے، ملک سے باہر نوکری حاصل کرنا خواب ہے اور ملک میں اعلی نوکری مل جانا بہترین زمینی حقیقت ہے۔ زندگی ہمارے لئےاس سے آگے کچھ نہیں۔ سوائے بچے پیدا کرنے کے ہم میں کوئی پیداواری یا تخلیقی صلاحیت نہیں۔ کیا زندگی میں ہماراکوئی نظریہ ہے، کیا کبھی ہم نے کسی نظرئیے کی خاطر کوئی ’’سٹینڈ ‘ ‘ لیاہے یا بس نوکری اور شادی ہی کی ہے؟ان سوالوں پر غور کرنے کا شائد ہی ہم میں سے کسی کو کبھی خیال آتا ہو۔

یہ مفروضہ ہی غلط ہے کہ سکول کالج کی رسمی تعلیم پیسہ کمانے کے لئے ضروری ہے، اگر ایسا ہوتا تو تمام کروڑ پتی ارب پتی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتے مگر ایسا نہیں ہے۔ تعلیم تو انسان کو شعور دیتی ہے، اخلاق سازی کا کام کرتی ہے، برے اور بھلے کی \"\"تمیز سکھاتی ہے، برائی اور اچھائی میں فرق بتاتی ہے، ظالم اور مظلوم میں سے مظلوم کا ساتھ دینے کی ترغیب دیتی ہے، نیکی اور شر میں سے نیکی کا راستہ دکھاتی ہے، قانون کی پاسداری اور آئین کی حکمرانی سے آگاہی دیتی ہے۔ اگر کسی کےپاس ہارورڈ یا آکسفورڈ کی ڈگری ہے اور اس کے باوجود وہ اِن باتوں سے نا بلد ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس کے پاس ڈگری نہیں فقط ردی کا ٹکرا ہے۔ کوئی بھی فرشتہ نہیں ہوتا، کسی بھی انسان میں یہ تمام خوبیاں نہیں ہو سکتیں، بشری کمزوریاں سب میں ہوتی ہیں، تعلیم کا مقصد انسان کو اِن کمزوریاں کے ہاتھوں پستی کے گڑھے میں گرنے سے بچانا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرواتے وقت یہ سوچتے ہیں کہ وہ سکول سے فارغ ہونے کے بعد اخلاقی اعتبار سے ایک بہتر انسان بن کر نکلے گا؟ بد قسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ ہماری ترجیح صرف یہ رہ گئی ہے کہ وہ ایک ڈگر ی کے ساتھ باہر نکلے تاکہ اسے ایک اچھی نوکری مل سکے۔ بس تو پھر لگے رہو منّا بھائی، رونا کس بات کا ہے !ہم اپنے بچوں کو فقط پیسہ بنانے کی مشینیں بنانا چاہتے ہیں، اخلاقیات گئی بھاڑ میں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 131 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada