مسجد نبوی پر خودکش حملے کا منصوبہ ساز مارا گیا


\"\"

سعودی عرب کے اخبار سعودی گزٹ کے مطابق ریاض میں سات جنوری 2017 کو ہفتے کے روز ہونے والے مقابلے میں ہلاک ہونے والے دو دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت طایع بن سالم بن یسلم الصیعری کے نام سے ہوئی ہے جو کہ مسجد نبوی میں گزشتہ سال ہونے والے بم دھماکے کے منصوبہ ساز کے طور پر مطلوب تھا۔

الصیعری نے خودکش جیکٹیں اور دوسرے بم ڈیزائن کیے تھے جو کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی، جدہ کے ڈاکٹر سلیمان فقیہ ہسپتال اور سعودی سپیشل فورسز کی جانب سے استعمال کی جانے والی جنوبی شہر ابہا کی مسجد پر حملوں میں استعمال کیے گئے تھے۔

سعودی حکام کے مطابق دونوں دہشت گرد، خاص طور پر الصیعری، نہایت خطرناک مانے جاتے تھے۔ حکام کے مطابق الصیعری کو داعش میں خودکش جیکٹوں، بموں اور خودکش بمباروں کو مشن کے لئے تیار کرنے کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔

مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکے کی اطلاعات
حرمین الشریفین پر حملوں کے دو واقعات

دوسرے دہشت گرد کی شناخت طلال بن سمرن السعیدی کے نام سے کی گئی ہے۔ دونوں دہشت گرد سعودی شہری تھے۔

سعودی سیکیورٹی فورسز نے دونوں دہشت گردوں کو ریاض کی یاسمین ڈسٹرکٹ میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کیا۔ یہ علاقہ ہفتے کی صبح سے گھیرے میں لیا گیا تھا۔

\"\"

جب سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے کا کہا تو انہوں نے شدید فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ دیکھتے ہوئے کہ دونوں نے خود کش جیکٹیں پہنی ہوئی ہیں، ان کو ہلاک کر دیا۔

اسی بارے میں: ۔  فلسطینیوں سے ناانصافی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری مستعفی

اس مقابلے میں کسی شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ایک سیکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوا اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

آپریشن مکلمل ہونے کے بعد کئی بندوقیں، ایک گھریلو ساختہ دستی بم اور کئی خود کش جیکٹیں ان کی پناہ گاہ سے تحویل میں لی گئیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے ایک اور افسر نے الصیعری کے ماضی کے بارے میں بتایا۔ ’الصیعری نیوزی لینڈ میں وظیفے پر انجینئرنگ پڑھ رہا تھا۔ وہ شام جا کر داعش کے ساتھ شامل ہو گیا۔ اس کے بعد وہ ترکی، سوڈان اور یمن سے ہوتے ہوئے سعودی عرب واپس آ گیا اور اس نے پچھلے سال دو بڑے دہشت گرد حملوں کا منصوبہ بنایا اور دھماکہ خیز مواد تیار کیا‘۔


مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکے کی اطلاعات
حرمین الشریفین پر حملوں کے دو واقعات 

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔