ملا عبدالسلام ضعیف گوانتانامو بے میں


\"\"

(پہلا حصہ: طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں)

طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام کی کتاب ’مائی لائف ود دا طالبان‘ کے چند صفحات۔

یکم جولائی 2002 کو مجھے حجام کے پاس لے جایا گیا اور میری ایک مرتبہ پھر شیو کی گئی۔ اس کے بعد سپاہیوں کا ایک گروہ آیا اور انہوں نے کیمپ کے دروازے کے سامنے زنجیریں ڈال دیں۔ ایک ایک کر کے ہم سب کو زنجیریں پہنا دی گئیں تاکہ ہمیں کیوبا لے جایا جائے۔ میں قطار میں چوتھا فرد تھا۔ ہمارے ہاتھ اور پیر باندھ دیے گئے اور سروں پر کالے تھیلے چڑھا دیے گئے اور ہمیں سات سے آٹھ افراد کے گروپوں میں زنجیروں سے باندھ دیا گیا۔

ہمیں انتظار گاہ میں لے جایا گیا۔ سیاہ تھیلوں کی بجائے سیاہ چشمے پہنا کر ہمارے کانوں میں پلگ لگا کر ان کو بند کر دیا گیا۔ جہاز میں لے جانے سے پہلے دوبارہ ہماری تصویریں اتاری گئیں اور ہمیں سرخ کپڑے اور جوتے دیے گئے۔ ہمارے چہروں پر ماسک لگا دیا گیا اور ہاتھ اور پیر دو مختلف زنجیروں سے باندھ دیے گئے۔ جہاز میں لے جا کر ہمارے پیروں کو زنجیر سے فرش پر باندھ دیا گیا اور ہمارے ہاتھوں کو پیچھے کرسی کی پشت سے جکڑ دیا گیا۔ ایک انچ حرکت کرنا بھی ناممکن تھا۔ یہ ایک دردناک پوزیشن تھی اور جہاز کے اڑتے ہی کچھ قیدیوں نے اپنی زنجیروں کو حرکت دینی شروع کر دی۔ وہ درد کی شدت سے کراہ اور چیخ رہے تھے۔ تمام راستے ہم سب کو اسی پوزیشن میں رکھا گیا اور باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔

ہمیں جہاز کے اڑنے سے چار گھنٹے پہلے اس پوزیشن میں باندھا گیا تھا اور جہاز کے اترنے کے تین گھنٹے بعد ایسے ہی رکھا گیا۔ تقریباً تیس گھنٹے ہم اس طرح بندھے رہے۔ ہمارے ہاتھوں پیروں کا دورانِ خون تھم گیا۔ دس گھنٹے بعد ان میں بے حسی پیدا ہو گئی۔ ہمارے ہاتھ اتنے زیادہ سوج گئے تھے کہ امریکی سپاہیوں کو ہماری ہتھکڑیاں کھولنے میں دشواری پیش آئی جو کہ گوشت میں گڑ چکی تھیں۔ کیوبا پہنچنے سے پہلے ایک مرتبہ درمیان میں جہاز کہیں اترا تھا۔

\"\"

جہاز سے اتار کر ہمیں قطاروں میں کھڑا کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ حرکت مت کریں۔ لیکن تیس گھنٹے زنجیروں میں بندھے رہنے کے بعد ہاتھوں پیروں میں اتنی دکھن تھی کہ کچھ قیدیوں نے ان کو سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ یہ دیکھتے ہی سپاہیوں نے ان سے مار پیٹ کی۔ خود مجھے تین مرتبہ لاتیں ماری گئیں۔

ہمیں فوجی اڈے پر لے جایا گیا اور میڈیکل چیک اپ کیا گیا۔ اس کے بعد مجھے کمرۂ تفتیش میں لے جا کر کرسی سے باندھ دیا گیا اور ایک تفتیش کار ایک فارسی ترجمان کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ اس نے اپنا نام ٹام بتایا۔ اس تکلیف دہ اور طویل سفر کے بعد شدید تھکا ہوا تھا اور میں نے اس سے کہا کہ مجھے جہاں لے جانا ہے لے جاؤ، اور کل مجھ سے بات کر لینا مگر ٹام نے اسی وقت بات کرنے پر اصرار کیا۔

میرا منہ خشک تھا اور میں بمشکل جاگ رہا تھا۔ اس وقت تک ہر شخص مجھے مشورہ دے رہا تھا کہ کیوبا جانے سے بچوں، مگر اب جبکہ میں وہاں پہنچ چکا تھا تو مجھے کسی چیز کا خوف باقی نہ رہا تھا۔ اب میں سزا کی پروا نہیں کرتا تھا۔ اب گوانتانامو میں ہم موت کو زندگی پر ترجیح دیتے تھے۔ ٹام کے پیہم اصرار کے باوجود میں نے بمشکل ہی اس کے کسی سوال کا جواب دیا اور وہ تھک ہار کر چلا گیا۔ مجھے شپنگ کریٹ سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے پنجرے میں لے جایا گیا اور میرے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے۔ پنجرے میں میرے لئے کھانا رکھا گیا تھا لیکن جس چیز نے مجھے خوشی سے نہال کر دیا وہ پانی تھا۔ کئی ماہ بعد یہ پہلا موقعہ تھا جب مجھے اتنا پانی ملا جس سے میں وضو کر سکتا۔ میں نے نماز پڑھی اور سو گیا۔ میں اتنی گہری نیند سویا کہ عشا کی نماز بھی قضا ہو گئی اور میں فجر کی نماز کے وقت جاگا۔

\"\"
میرا پنجرہ گوانتانامو کے قید خانے کے طلائی بلاک میں تھا۔ بگرام اور قندھار کے مقابلے میں سپاہیوں کا سلوک ہمارے ساتھ بہتر تھا اور ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت تھی۔ پنجرے میں تنہائی تھی مگر افغانستان میں اتنے ماہ کی قید کے بعد یہاں آزادی کی ایک لہر سی محسوس ہو رہی تھی۔

پنجرے چار فٹ چوڑے اور چھے فٹ لمبے تھے اور ان کو ایک لائن میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ ہر پنجرے میں سونے کے لئے ایک آہنی تختہ نصب تھا، اور ایک پانی کا نلکا اور ٹائلٹ موجود تھا۔ دیواروں کی جگہ بس آہنی جالیاں تھیں۔ دوسرے قیدیوں کے سامنے ہی نہانا دھونا اور ٹائلٹ استعمال کرنا بہت پریشان کن تھا۔ وہاں بہت کنفیوزن تھی۔ کچھ قیدیوں کے خیال میں ہم کیوبا میں نہیں بلکہ مشرق وسطی کے کسی جزیرے میں تھے اور کچھ کے خیال میں یہ گوانتانامو کے راستے میں کوئی عارضی منزل تھی۔ ہم مختلف سمتوں میں نماز ادا کرتے تھے کیونکہ کسی کو قبلے کی سمت کا علم نہیں تھا۔

\"\"

کیمپ میں ریڈ کراس والوں نے چکر لگایا اور کہا کہ وہ ائیرپورٹ پر بھی موجود تھے تاکہ سپاہی ہمارے ساتھ بدسلوکی نہ کر سکیں۔

’لیکن بس میں انہوں نے مجھے ڈھول کی طرح پیٹا تھا‘۔ میں نے انہیں آگاہ کیا۔
’ہم ائیرپورٹ پر تو تھے لیکن بس میں نہیں۔ ‘ ان میں سے ایک نمائندے نے جواب دیا۔

گوانتانامو کے ان دنوں میں ہم ریڈ کراس سے مانوس ہو گئے۔ وہ قیدیوں سے انفرادی طور پر ملتے تھے اور ان سے کسی حد تک آزادی سے بات کرتے تھے لیکن قیدی امریکی جاسوسی آلات سے خوفزدہ تھے اور بات کرتے ہوئے نہایت محتاط رہتے تھے۔ جب کسی قیدی کو ریڈ کراس کے نمائندے کے پاس لے جایا جاتا تو ایک خاص رسی سے اس کے ہاتھوں کو باندھا جاتا اور وہاں پہنچنے پر ایک ہاتھ کھول دیا جاتا۔ وہاں عام طور پر میز پر چائے، بسکٹ اور جوس موجود ہوتے تھے۔ ریڈ کراس کے نمائندے ہمارا انٹرویو لیتے اور اگر کوئی قیدی گھر یا دوستوں کو خط لکھنا چاہتا تو وہ ایسا کر سکتا تھا۔

\"\"

وقت کے ساتھ طریقہ کار بدلتا تھا۔ جیسے رسی کی جگہ آہنی زنجیر نے لے لی لیکن ریڈ کراس ابھی بھی قیدیوں کا انٹرویو کرتی تھی۔ وہ قیدیوں کے لئے گھر سے آنے والے خط بھی لاتے تھے اور کبھی کبھار ان کے پنجرے میں ان کا انٹرویو بھی لیا کرتے تھے۔ لیکن ایک طویل عرصے تک کوئی پشتو ترجمان نہیں تھا۔ وہاں کچھ یورپی تھے جو تھوڑی بہت پشتو بول سکتے تھے لیکن عموماً نہ تو وہ ہمیں سمجھ سکتے تھے اور نہ ہم انہیں۔ ایک عام افواہ چلتی تھی جس پر یقین کیا جاتا تھا کہ ریڈ کراس کے نمائندوں میں جاسوس بھی موجود ہیں اور ہمیں ان سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ میں خود بھی مشکوک تھا اور سوچتا رہتا تھا کہ کہیں وہ جاسوس تو نہ تھے۔

ایک مرتبہ جرمنی سے ایک ترجمان آیا اور اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے وہ مجھے پہلے کہیں دیکھ چکا ہو۔ ’کیا بات ہے، تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ ’ میں نے اس سے پوچھا۔
’تم کچھ جانے پہچانے سے لگ رہے ہو جیسے میں نے تمہیں پہلے کہیں دیکھ رکھا ہے‘۔
’یقیناً تم نے مجھے دیکھا ہو گا۔ میں نے تمہیں قندھار کے قیدی کیمپ میں کئی مرتبہ دیکھا ہے جہاں سے مجھے یہاں لایا گیا تھا‘۔
لیکن اس کا خیال تھا کہ اس نے مجھے قندھار میں نہیں دیکھا تھا۔
’شاید میں نے تمہیں ٹی وی پر دیکھا ہو۔ تمہارا چہرہ اور شخصیت جانی پہچانی سی ہے‘۔ اس نے میرا نام پوچھا اور میں نے بتایا کہ میں ملا عبدالسلام ضعیف ہوں، پاکستان میں طالبان کا سفیر۔

\"\"’اوہ، کیا حال ہے؟‘ اس نے کہا اور پھر کہنے لگا ’ملا داد اللہ؟ تمہیں پتہ ہے کہ وہ کس بلاک میں ہے؟‘
مجھے اس کے سوال سے ایک جھٹکا سا لگا۔ میں نے قید ہونے کے بعد سے نہ تو ملا داد اللہ کو دیکھا تھا اور نہ سنا تھا۔ میں نے اب سوچا کہ شاید وہ بھی پکڑے گئے ہیں اور کیوبا لائے گئے ہیں۔
’کیا وہ گرفتار کیے جا چکے ہیں؟ یہ کب ہوا؟ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ گرفتار ہو چکے ہیں‘۔
’اوہ، تو وہ یہاں نہیں ہیں؟ ’ اس نے جواب دیا۔
’مجھے علم نہیں ہے‘۔ میں نے کہا۔
ریڈ کراس کے پاس گوانتانامو کے تمام قیدیوں کی فہرست موجود تھی۔ ان کو پتہ تھا کہ کون یہاں ہے اور کون نہیں۔ اس کے ملا داد اللہ کے بارے میں بے ساختہ انداز میں سوال کرنے نے مجھے مشکوک کر دیا۔


طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں
گرفتاری کے وقت ملا عبدالسلام ضعیف سفیر نہیں تھے
جب ملا عبدالسلام ضعیف امریکیوں کو دیے گئے
ملا عبدالسلام ضعیف: امریکی بحری جہاز کا قیدی
ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کا قیدی نمبر 306
ملا عبدالسلام ضعیف: ریڈ کراس، مسیحا یا جاسوس؟
ملا عبدالسلام ضعیف غداری پر آمادہ نہ ہوئے
ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو بے اور ریڈ کراس کا کردار

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar