ہم سب کی مچان پر بیٹھے وجاہت مسعود


\"\"

کسی کو نام لے کر بلائیں یہ آپ کو اس انسان سے متعارف کرائے گا۔ ایک مکمل جیتے جاگتے مختلف کئی رنگوں پر مشتمل انسان سے۔ ہمارے ہاں انسانوں کو رشتوں کے حوالے سے پکارا جاتا ہے۔ کوئی استاد جی ہے کسی کو پیر بنا لیتے ہیں کسی کو باجی کہہ لیں گے بھلے ہماری نیت جو بھی ہو۔

وجاہت صاحب کو ہم سب والے مرشد بھی کہتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب ان کی بات نہ ماننی ہو۔ پہلی بار ان کے گھر گئے تو تنویر جہاں سے ملاقات ہوئی۔ وجاہت اور تنویر دونوں سے بات ہوتی رہی۔ تنویر کو کیسے مخاطب کرنا ہے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ وجاہت صاحب اچھی طرح تاڑ گئے کہ وسی بابا اخروٹ بھی ہے اور رنگروٹ بھی۔ تنویر اٹھ کر اندر گئیں تو وجاہت نے کہا بھئی یہاں سب برابر ہیں آپ نام لے کر بلائیں تنویر کو۔

آپ اگر وجاہت مسعود کو جاننا چاہتے ہیں تو تنویر سے متعارف ہوئے بغیر ککھ نہیں جان پائیں گے۔

تنویر نے کبھی نہیں بتایا وجاہت اکثر بتاتے رہتے ہیں۔ مشرف دور میں شاید کوئی احتجاجی جلوسڑی نکالی تھی جس میں وجاہت اور تنویر دونوں تھے۔ تنویر لاٹھی چارج کرنے والے سپاہیوں کے گھیرے میں آ گئیں تھیں۔ وجاہت سپاہیوں کی نیت میں خرابی دیکھتے ہی پتلی گلی سے سٹک لئے تھے۔ جب لاٹھی چارج سے فارغ ہو کر دوبارہ ملے تو تنویر نے پوچھا کہ وجاہت تم کہاں تھے جب میں مار کھا رہی تھی؟ وجاہت نے نہایت غور و فکر کر کے بتایا کہ میں پہلے ہی پتلی گلی سے نکل لیا تھا اور دور چلا گیا تھا۔ جب تنویر نے پوچھا کہ وجاہت وہاں کیا کر رہے تھے تو مرشد نے جواب دیا پاکستان کے مستقبل پر غور کر رہا تھا۔ ایک بار یہ بھی بتا چکے ہیں کہ اچھے پاکستان کے لئے خود کو محفوظ کر رہا ہوں۔

\"\"

وجاہت نے قلم کو ہی تلوار اور لفظ کو ہی گولی بنایا ہے۔ یہ گولی البتہ ہے بڑی میٹھی سی۔ جس پر تنقید کریں گے وہ بھی پڑھ کر مزہ لے گا۔ اپنے اوپر تنقید بھول کر ان کے کالم میں لکھی اردو اور کلاسک قسم کی مثالوں میں کھو جائے گا۔ پڑھنے والا کچھ کچھ شرمندہ سا بھی محسوس ہو گا کہ کتنے پیارے سے انسان کا دل دکھایا ہے۔

ہم سب کا ایک کنٹرول روم ہے جس میں بہت سے ساتھی موجود ہوتے ہیں ہر وقت۔ مصروف صرف وجاہت ہی ہوتے ہیں۔ باقی ہم سب آپس میں گھلتے رہتے ہیں۔ وجاہت جھاتیاں مارتے رہتے ہیں۔ کسی کو بلاگ لکھنے پر اگر مداحوں نے لمبا لٹا رکھا ہو تو اسے تسلی دیں گے۔ بھئی تحریر لکھی جائے تو اس کا مالک ریڈر ہو جاتا ہے۔ اب آپ کا اس سے کیا تعلق آپ یہ نظارہ دیکھنا چھوڑیں اور اگلے بلاگ کی تیاری کریں۔

ہم سب کی مچان پر بیٹھے بیٹھے اچانک اعلان کریں گے کہ بھئی میں کالم لکھنے لگا ہوں ابھی حاضر ہوتا ہوں۔ پھر اگلا اعلان آئے گا کہ کالم لکھ دیا گیا ہے۔ تنویر کی آواز آئے گی کہ یہ اخبار کے لئے لکھا ہے اس کو ہم سب پر نہیں لگانا ابھی۔ وجاہت ہمیں بتائیں گے بھئی آج رات بھی نیند آئے بغیر ہی گذر گئی میں تو کام ہی کرتا رہا۔ لوگوں نے کمر باندھ رکھی ہے کہ ایک نئی اردو متعارف کرا کے رہنا ہے۔ تنویر پوچھے گی وجاہت رات نیند کی گولی کھانا پھر بھول گئے۔

وجاہت اظہار افسوس کریں گے کہ آج وقت برباد کرنے جانا ہے کسی تقریب میں تقریر کرنی ہے۔ تنویر کا پیغام آئے گا وجاہت شیر خان پہنچنے والا ہے آپ کو پک کرنے کے لئے۔ تیار ہو جائیں۔ وجاہت کے سونے جاگنے کے ٹائم عجیب ہیں۔ سویرے سویرے سونے چلے جائیں گے۔ بہت سویرے آپ کو آن لائن دیکھ کر پوچھیں گے کال کراں گپ لگاتے ہیں۔

ہم سب کے اپنے سارے ساتھیوں کا کسی پرانے مہربان بزرگ کی طرح خیال رکھیں گے۔ خود ان کی تحریر کی جب دل کرے تعریف کریں گے۔ تعریف بھی ایسی کہ تحریر سے تعریف بڑھی ہوئی محسوس ہو گی۔ البتہ کوئی اور اگر ان کے ساتھیوں کی تعریف کر دے تو پرانی ماؤں کی طرح بتانے سے گریز کریں گے کہ بچے کو نظر ہی نہ لگ جائے۔ لیکن دو جوان ایسے ہیں جو سب کو یہ خفیہ رکھی تعریف بھی پہنچاتے رہیں گے۔

ایک بار وسی بابے نے وجاہت کو اپنے پنڈ کے ایک سائیں لوک کی بہت تعریف کرتے پکڑ لیا تھا۔ اس سائیں کو نیوٹن کہہ رہے تھے اور ساتھ باقاعدہ مشتعل کر رہے تھے کہ اب تم نے کچھ ایجاد کرنا ہے۔ اب جب بھی یہ کسی ساتھی کی تعریف کریں تو اسے ہم لوگ وہ نیوٹن یاد کرا کے بتاتے ہیں کہ تمھیں بھی سائیں ہی سمجھ رہے ہیں۔ یہ وہ واحد بات بات ہے جس پر تھوڑا تھوڑا شبہ ہوتا ہے کہ وجاہت کو غصہ آ رہا۔ شاید اپنے پنڈ والوں کے حوالے سے زیادہ حساس ہیں۔

\"\"

غصہ بھی انہیں آتا ہے۔ اس سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ خوش کس بات پر ہوتے ہیں۔ جب بھی کسی خاتون کی کوئی اچھی تحریر پڑھیں گے۔ سب کو روک روک کر الگ سے بتائیں گے۔ بھئی ہماری بچیاں بہنیں اپنی بات کہنے لگ گئیں ہیں۔ انہیں بات کرنے کا ہنر آ گیا ہے۔ مزہ آ گیا پڑھ کر۔ غصہ انہیں تب آتا ہے جب کسی خاتون لکھاری کو کوئی ہلکا سا بھی سخت کمنٹ کر دے۔

ہم سب کے اپنے کسی بھی ساتھی کے پابندی لگانے پر یہ بڑے آرام سے پابندی قبول کر لیں گے۔ جیسے ہی کہیں کسی خاتون لکھاری کے حوالے سے کوئی بات ہوئی ساری پابندیاں دھری رہ جائیں گی اور گوجرانوالے کا نہننگ خالصہ نمودار ہو گا۔ نئے سرے سے اجلاس بلا کر پھر ان پر پابندی لگانی پڑتی ہے۔

یہ وجاہت مسعود ہی ہیں جنہوں نے ہم سب کو ایک مچان بنا دیا ہے۔

قلم کو ہم سب والے کمان میں جوڑ کر چلاتے ہیں۔ یہ جس پر چل جائے اس کو پھر درد بڑا بے دردی سا ہوتا ہے۔ اک دوست جو پکے سوٹے تو لگاتا ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا پانی بھی پی مر لیتا ہے کے اڑنے لگتا ہے۔ اک دن آدھی رات کو اس نے فون کیا جب اس کی پرواز زمین کا مدار چھوڑنے ہی والی تھی۔ اس وقت اس نے پوچھا کہ تم ہم سب والے ہم مسلمانوں کو جینے کیوں نہیں دیتے۔

تو ایسے ایمان والو اگر مسلمان اس قسم کے ہیں تو ہم سب والے بھی پھر ایسے ہی ہیں۔ ایک دوسرے دوست ہیں جو ڈیٹ کے فضائل اس کی حمایت مخالفت میں چھپنے والی تحریروں پر ہم سب والوں کا سر پھاڑنے کو پھر رہے ہیں۔ وسی بابے نے ہم سب والوں کو نہیں بتایا کہ کب انہیں خجل ہوتے بہت دور لینے گیا تو وہ وہاں سے موقع ملتے ہی ڈیٹ پر جا چکے تھے۔

تو اس قسم کے سب دوستوں سے یہی کہنا ہے وجاہت کی اس مچان سے آپ کی خبر لی جاتی رہے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “ہم سب کی مچان پر بیٹھے وجاہت مسعود

  • 09-01-2017 at 11:03 pm
    Permalink

    بڑا مزہ آیا وصی بابا۔ مننہ دومرہ مزیدار لیک د پارہ۔۔

  • 10-01-2017 at 10:26 am
    Permalink

    Saalgira Mubarak Ho Bhaiyo….

Comments are closed.