اردو صحافت پر ’ہم سب‘ کے ایک سال کے اثرات کا بیان


\"\"

نو جنوری 2016 کو ہم سب کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا تھا۔ آج ایک برس بعد دوبارہ نو جنوری کا دن ہے۔

سنہ 2015 کے جولائی تک انٹرنیٹ پر دو طرح کے لکھنے والے موجود تھے۔ ایک وہ درجن بھر افراد کا گروہ جو خود کو اردو بلاگر کہلاتا تھا۔ ان کو دیکھ کر لگتا تھا کہ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر خود کو شعر میں غالب اور نثر میں ابوالکلام کا ہم پلہ جانتا تھا۔ عام ادبی انجمنوں کی طرح ان کے ہاں بھی دوست دشمن والی صف بندیاں تھیں۔

سوشل میڈیا کے عروج کے بعد لکھنے والوں کا ایک دوسرا گروہ فیس بک پر متحرک ہو چکا تھا اور ان میں سے کئی بہت مقبول بھی ہو چکے تھے۔ ان لوگوں نے ریڈر شپ میں اردو بلاگروں کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ایسے میں جولائی 2015 میں ’دنیا پاکستان‘ نامی ایک گمنام ویب سائٹ کی ادارت کرنے پر ملک کے سینئیر صحافی وجاہت مسعود کو رضامند کیا گیا۔ انہوں نے اپنے شخصی سحر سے اچھے لکھنے والے اکٹھے کرنے شروع کیے۔ اردو بلاگر تو خیر عظمت کے عظیم مینارے پر بیٹھے تھے اور اپنی دنیا میں گم تھے، مگر سوشل میڈیا پر لکھنے والوں نے وجاہت مسعود کی پکار پر لبیک کہا اور یوں آن لائن صحافت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ چھے ماہ میں دنیا پاکستان کی رینکنگ 6000 سے 2700 کے قریب تک پہنچ گئی مگر پھر سائٹ کے مالکان سے وجاہت مسعود کے سائٹ کے مواد اور شکل کے بارے میں اختلافات ہوئے جن کے بعد وجاہت مسعود کو جنوری 2016 میں ادارت سے الگ کر دیا گیا۔

یوں چھے جنوری 2016 کو ’ہم سب‘ رجسٹر کی گئی اور نو جنوری کو اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ اس کے بعد اردو کی آن لائن صحافت کا وہ دور شروع ہوا جس میں ہم آج زندہ ہیں۔

\"\"

’ہم سب‘ نے بہت جلد اچھے لکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ ’ہم سب‘ میں نہ تو ویو لینے کی خاطر سستی سرخیاں لگائی جاتی تھیں اور نہ ہی مذہبی جذباتیت یا جنس کو فروغ دیا جاتا تھا۔ ’ہم سب‘ بطور ایک سنجیدہ اردو صحافتی پلیٹ فارم سامنے آیا جس میں اپنے محدود وسائل کو دیکھتے ہوئے ہر ایک کو شائع کرنے کی کوشش کی جاتی تھی خواہ لکھنے والا کسی بھی مکتب فکر سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو اور فکری لحاظ سے ادارتی ٹیم کا کٹر مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ صرف ایسی پوسٹوں کو روکا جاتا تھا جو پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہوں، کسی بھی مذہب کی توہین کرتی ہوں، کسی شخص یا ادارے پر بے بنیاد الزامات لگاتی ہوں، افواج پاکستان یا عدلیہ کے خلاف بغض آمیز رویے پر مبنی ہوں یا ان میں غیر مہذب اندازِ گفتگو یا الفاظ استعمال کیے گئے ہوں۔

اس پالیسی کی وجہ سے دائیں اور بائیں بازو کے نمایاں لکھنے والے ’ہم سب‘ کی ٹیم میں شامل ہوئے۔ ’ہم سب‘ کے معیار کو دیکھتے ہوئے بہت بڑے لکھنے والے نام بھی ’ہم سب‘ پر مہربان ہوئے۔ سلیم الرحمان، شکیل عادل زادہ، نور الہدی شاہ، مستنصر حسین تارڑ، آصف فرخی، سی ایم نعیم، عارف وقار، شاہد ملک، ضیا الدین یوسفزئی، نصیر احمد ناصر، رضی الدین رضی، اسلم ملک، رؤف کلاسرا، محمد اظہار الحق، وسعت اللہ خان، مبشر علی زیدی، عمار مسعود، خورشید ندیم، یاسر پیرزادہ، ارشاد محمود، ڈاکٹر ساجد علی، عبدالحئی کاکڑ، انیق ناجی، باصر کاظمی، بلال غوری، عامر خاکوانی، کس کس کا شکریہ ادا کریں کہ ان کی بے پایاں حمایت کی وجہ سے ’ہم سب‘ ایک معتبر پلیٹ فارم بن کر ابھرا۔

نئے لکھنے والے؟ ’جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو‘۔ ہم ان کا انفرادی طور پر نام نہیں لیں گے کہ جگہ محدود ہے اور فہرست طویل۔ بس ان کی بے پایاں محبت کا شکریہ ہی ادا کریں گے۔

’ہم سب‘ ایک ایسے وقت میں ابھرا جب اردو پریس پر جمود کی کیفیت طاری تھی۔ پچھلے تیس چالیس سال سے وہی چہرے وہاں ادارتی صفحات پر جگہ پا رہے تھے جن کے پاس اب کہنے کو کچھ نئی بات نہیں رہی ہے۔ وہ اس نسل کی ترجمانی تو کر سکتے تھے جو ستر اور اسی کی دہائی میں جوان تھی، مگر نوے کے بعد کے دور کی انٹرنیٹ جنریشن کے جذبات و احساسات کا ان کے ہاں بیان نہیں ملتا ہے۔ نئے لکھاریوں کو اردو اخبارات میں آسانی سے جگہ نہیں ملتی ہے۔

دیکھا جائے تو جو بیان پہلے صرف انگریزی پریس میں شائع ہوتا تھا، ہماری نئی نسل اس کی طرف راغب ہے۔ جدید تعلیم سے آراستہ یہ نئی نسل جذبات میں بہنے کی بجائے دماغ سے سوچنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اس کے مسائل مختلف ہیں۔ اس کے سوچنے کا انداز کچھ اور ہے۔ ’ہم سب‘ پر اس نسل کو اپنائیت محسوس ہوئی۔ ادھر وہ لکھتے ہیں۔ اسے وہ پڑھتے ہیں۔ اس میں وہ نئی بات ہے جو اردو میں پڑھنے کو وہ ترستے ہیں۔ اس میں ان کی نسل کی بات ہے۔ ان کی نسل کی سوچ ہے۔ نصف صدی پرانی بات اور مسائل میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبا کے علاوہ معتبر تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے ’ہم سب‘ کی سرپرستی کی۔

\"\"لیکن ہمارا اس سے بھی بڑا فخر یہ ہے کہ ہم نے نئی نسل کی نمائندہ خاتون لکھاریوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں وہ برابری کی سطح پر بے جھجک ہو کر اپنی بات کرتی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کسی دوسرے سے ہرگز بھی کم نہیں ہے۔ جنسی گھٹن کے شکار معاشرے میں ایسی لکھنے والیوں کا یوں سامنے آنا ایک جرات مندانہ اقدام ہے۔

’ہم سب‘ کے لکھنے والے مہذب انداز میں اپنی بات کہنا جانتے ہیں۔ متنازع موضوعات پر بھی خوشگوار انداز میں بات کر لیتے ہیں۔ معاشرے میں پھیلی کسی برائی سے نظریں چرا لینے کی بجائے اس کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتے۔ یہی وجوہات ہیں کہ بے پایاں وسائل کے مالک بہت بڑے بڑے اخباری اور نشریاتی ادارے اب ’ہم سب‘ کا نوٹس لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

’ہم سب‘ کے پڑھنے والوں کا کمال یہ ہے کہ ان کے مخالف نقطہ نگاہ والے مضامین بھی شائع ہوتے ہیں تو ان پر وہ مہذب انداز میں رد عمل دیتے ہیں۔ اپنے تئیں بہت پارسا بنے افراد نے ’ہم سب‘ کے لبرل اور سیکولر لکھاریوں کی تحریروں پر تو دشنام طرازی کی، لیکن رائٹ کے کسی بھی مصنف کی تحریر کی وجہ سے اس کے مصنف کو گالم گلوچ کا شکار نہیں ہونا پڑا۔ ہم اختلاف رائے برداشت کرنے والے ایسے سلجھے ہوئے قارئین پانے پر خداوند کریم کے شکر گزار ہیں اور ان مہذب لکھنے اور پڑھنے والوں کی وجہ سے ’ہم سب‘ کو ایک بڑی اخلاقی برتری حاصل ہو چکی ہے۔ ہمارے قارئین کا یہی حوصلہ افزا رویہ ہے جو کہ ہر مکتب فکر کا لکھاری ’ہم سب‘ پر اپنا مضمون شائع کروانے میں جھجک محسوس نہیں کرتا ہے۔

کہتے ہیں کہ جہاں سو سجن ہوں وہاں دس دشمن بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ ’ہم سب‘ کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے اس پر مختلف لیبل لگائے گئے۔ اس کے بائیکاٹ کی مہمات چلائی گئیں۔ اس کے مقابل ویب سائٹس کھڑی کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ’ہم سب‘ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ایسی دوسری ویب سائٹیں بھی ابھریں لیکن کسی کو عوام نے وہ پسندیدگی کی سند نہ بخشی جو کہ ’ہم سب‘ کو نصیب ہوئی۔ ہمارے پڑھنے والوں نے بس ایک ہی بات کی،

ﮨﺰﺍﺭ ﺷﯿﺦ ﻧﮯ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺑﮍﮬﺎئی ﺳﻦ ﮐﯽ ﺳﯽ
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﺪﻥ ﮐﯽ ﺳﯽ


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 465 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “اردو صحافت پر ’ہم سب‘ کے ایک سال کے اثرات کا بیان

  • 10-01-2017 at 1:35 am
    Permalink

    کاکڑ صیب، میں بچپن اور کالج کے دنوں میں اردو اخبارات اور کتابیں پڑھتا تھا۔ بعد میں جب انگریزی میں لکھنا شروع کیا تو اردو اخبارات، جرائد اور اکثر کتابیں پڑھنا بھی چھوڑ دیا۔ کبھی کبھار بی بی سی اردو ویب سائٹ پر جاتا۔
    جب وجاہت صاحب نے دنیا پاکستان کی ادارت سمبھالی تو اسے پڑھنے لگا اور پھر اس میں لکھنا بھی شروع کیا۔ اسی طرح مقامی اخبارات میں بھی مضامین لکھنا شروع کیا اور اب ہر رات ہب سب کے چند مضامین پڑھتا ہوں اور کبھی کبھار اس میں لکھنے کی جسارت بھی کرتا ہوں۔
    تو گویا ہب سے نے ہی مجھے اردو کی طرف واپس لایا۔ اب جو مضمون یا مقالہ انگریزی میں لکھتا ہوں اس کا ترجمہ ہم سب کے لئے بھی کرنا پڑھتا ہے۔ یوں ہم سب نے بوجھ بھی بڑھایا اور ذمہ داری بھی۔
    اردو زبان میں نثر مر چکا ہے۔ ایسے میں ہم سب اردو نثر کی بہت بڑی خدمت بھی کرتا ہے۔

    • 10-01-2017 at 6:40 pm
      Permalink

      کاکڑ صیب، میں بچپن اور کالج کے دنوں میں اردو اخبارات اور کتابیں پڑھتا تھا۔ بعد میں جب انگریزی میں لکھنا شروع کیا تو اردو اخبارات، جرائد اور اکثر کتابیں پڑھنا بھی چھوڑ دیا۔ کبھی کبھار بی بی سی اردو ویب سائٹ پر جاتا۔
      جب وجاہت صاحب نے دنیا پاکستان کی ادارت سمبھالی تو اسے پڑھنے لگا اور پھر اس میں لکھنا بھی شروع کیا۔ اسی طرح مقامی اخبارات میں بھی مضامین لکھنا شروع کیا اور اب ہر رات ہم سب کے چند مضامین پڑھتا ہوں اور کبھی کبھار اس میں لکھنے کی جسارت بھی کرتا ہوں۔
      تو گویا ہم سب نے ہی مجھے اردو کی طرف واپس لایا۔ اب جو مضمون یا مقالہ انگریزی میں لکھتا ہوں اس کا ترجمہ ہم سب کے لئے بھی کرنا پڑتا ہے۔ یوں ہم سب نے بوجھ بھی بڑھایا اور ذمہ داری بھی۔
      اردو زبان میں نثر مر چکا ہے۔ ایسے میں ہم سب اردو نثر کی بہت بڑی خدمت بھی کرتا ہے

Comments are closed.