کیا جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف نے غلط فیصلہ کیا ہے؟


\"\"

خواجہ آصف صاحب نے تصدیق کی ہے کہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کو وزیراعظم اور جی ایچ کیو کی منظوری سے 39 ممالک کی متحدہ فوج کی کمان سنبھالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فوج کا مقصد دہشت گردی سے لڑنا بیان کیا گیا ہے اور اس کے خد و خال کے بارے میں ابھی عوام میں سے کوئی کچھ نہیں جانتا کہ کیا ہوں گے۔

جنرل راحیل شریف پر اعتراضات کی نوعیت دو قسم کی ہے۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ سروس سے فارغ ہونے کے بعد دو سال سے بھی پہلے وہ کیسے یہ ملازمت کر سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں یہ دلیل پیش کی جا سکتی ہے کہ اگر سربراہ مملکت اور مسلح افواج کے سربراہ نے منظوری دے دی ہے، تو وہ اس مدت کے خاتمے سے پہلے ’ڈیپوٹیشن‘ پر اس طرح کام کر سکتے ہیں۔

دوسرا اعتراض یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ 39 ملکی اتحاد ایک سنی مسلکی اتحاد ہے اور اس میں شیعہ ممالک ایران، عراق اور شام شامل نہیں ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان کے اندر مسلکی بنیاد پر دوبارہ ایک پراکسی وار شروع ہو سکتی ہے۔

شام کی جنگ میں پاکستان سے شیعہ اور سنی شہری شامل ہو رہے ہیں اور وہاں جا کر لڑ رہے ہیں۔ یہ اپنی لڑائی پاکستان میں واپس کھینچ لائے تو پچھلے تین سال میں قائم کردہ امن کی صورت حال کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔

\"\"یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اب شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ افسران اگر ایران کی طرف سے لڑنے چلے گئے تو کیا ہمیں یہ قبول ہو گا؟ بین السطور میں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پاک فوج کے اندر مسلکی عصبیت بھڑک سکتی ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ عرصے پہلے سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد طلب کی تھی تو اس وقت جنرل راحیل شریف ہی آرمی چیف تھے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے یہ فرمائش کی تھی کہ صرف سنی جوان ہی وہاں بھیجے جائیں، جس پر پاکستان نے انکار کر دیا تھا۔ پاکستانی فوج کی روایت ہے کہ فوجی آپس میں ایک ایسے بندھن سے بندھے ہوتے ہیں جو مذہب و مسلک سے بالاتر ہوتا ہے۔ وہاں آپ کو ایک ہی امام کے پیچھے سب نماز پڑھتے دکھائی دیں گے۔ کوئی غیر مسلم فوجی بھی ہو تو اس کے ساتھ جینے مرنے کا حلف اٹھائے اس کے ساتھی اس سے تعصب برتنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ ایسے میں جنرل راحیل شریف کا یہ انکار بالکل درست تھا کہ ہم اپنے جوانوں کو ان کا مسلک دیکھ کر نہیں بھیجیں گے۔ تو کیا اب یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ جنرل راحیل شریف کسی خاص مسلک کی فوج کی کمان کریں گے؟

موجودہ آرمی چیف، جنرل باجوہ عوامی سطح پر شہرت سے کتراتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چیف بننے کے بعد سے ان کی شخصیت اتنی نمایاں نہیں ہوئی ہے کہ ہم بہت واضح طور پر ان کی سوچ کو جان سکیں۔ ابھی تک وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے ایک ایسے فوجی دکھائی دیتے ہیں جو جنرل کیانی کی طرح پس منظر میں رہتے ہوئے محتاط رہ کر پالیسی بناتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ ان سے بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ پاک فوج کو ممکنہ طور پر فرقہ واریت میں ملوث کرنے والے کسی اقدام کی تائید کریں گے۔ ایک سیکولر فوج ہی پاکستان کو متحد رکھ سکتی ہے۔

\"\"لیکن خواجہ آصف کے بیان کے مطابق اس کے باوجود جنرل راحیل شریف کی کلیئرنس جی ایچ کیو اور وزیراعظم کی جانب سے دی گئی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کہ ایران اور سعودی عرب کو قریب لا سکتا ہے۔ اس وقت مشرق وسطی کی جنگوں میں سارے فریق تھک ہار چکے ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو دکھائی دے رہا ہے کہ نہ تو وہ بشار الاسد کو ہٹا سکتے ہیں اور نہ ہی یمن میں حوثیوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ ایران کو دکھائی دے رہا ہے کہ مکمل فتح اس کے اتحادیوں کے لئے بھی ممکن نہیں ہے۔ ان دونوں فریقوں کی جنگ سے اس وقت صرف داعش کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور عرب جوانوں کے لئے اس میں کشش پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ جب فریقین لڑ لڑ کر تھک جائیں تو پھر ان کو صلح کی طرف مائل ہونا پڑتا ہے۔ مشرق وسطی میں اسی تھکن کے آثار دکھائی دے رہے ہیں جو صلح کی طرف لے جاتی ہے۔

\"\"

گمان غالب ہے کہ اب اس متحدہ فوج کو باقاعدہ شکل دیتے ہوئے ایران کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔ پاکستان کا اس میں ایک لیڈنگ رول ہو گا۔ اس فوج کا مقصد داعش اور القاعدہ کو روکنا ہو گا اور ان کو ایک ایسی سرزمین سے محروم کرنا ہو گا جہاں وہ اس وقت حکومت بنائے بیٹھے ہیں۔ اگر داعش پر قابو نہیں پایا گیا تو وہ مشرق وسطی کے علاوہ افغانستان میں بھی مضبوطی سے قدم جما لے گی جو کہ پاکستان، سعودی عرب، روس، چین اور ایران کو قبول نہیں ہے۔

اندازہ یہی ہے کہ ایک مہینے کے اندر اندر مسلم ممالک کی اس فوج اور اس کے مقاصد کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے گا اور ایران بھی اس فوج میں شامل ہو گا اور یوں یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ یہ ایک سنی فوج ہے۔ یہ فوج ایران اور سعودی عرب کے درمیان سنہ 1979 سے جاری پراکسی وار کے خاتمے کا اعلان کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستانی کمان میں اس مشترکہ مسلم فوج کی وجہ سے پاکستان سے بھی لڑاکوں کی شام کی جنگ میں شرکت کی راہ روکی جا سکے گی جس سے پاکستان دوبارہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کی آگ میں جلنے سے بچ پائے گا۔

پاکستانی لیڈر شپ نے گزشتہ ایک دہائی میں یہ سبق خوب سیکھ لیا ہے کہ پرائی جنگوں میں ہمیں نہیں پڑنا چاہیے۔ ایران اور سعودی عرب کے تناظر میں وہ ایک ملک کی خاطر دوسرے ملک سے کسی صورت بھی تعلقات خراب نہیں کرے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 667 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar