ٹھوس شواہد پر پانام کیس کا فیصلہ آسکتا ہے : اعتزاز احسن


\"\"پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اعتزاز احسن نے کہاہے کہ وہ بذات خود آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ میں آنے کے فیصلے کے خلاف ہیں لیکن ان کے آنے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ آصف علی زرداری اپوزیشن میں کثرت رائے کروا سکتے ہیں اور اس بات کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی سیاسی زندگی دہائیوں پر محیط ہے تاہم بلاول بھٹو زرداری مستقبل میں پیپلز پارٹی میں بڑا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے چند روز میں یہ بات سامنے آ جائے گی کیونکہ آصف زرداری ہی پارٹی کی تنظیم سازی کریں گے۔ اعتزاز احسن نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا کہ پارٹی انٹرا الیکشن اچانک سے ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ پیپلز پارٹی کے ہفتہ تاسیس میں اس بات کا اعلان ہو چکا تھا۔ پیپلز پارٹی حکومت سے چار مطالبات پر قائم ہے اور 27 دسمبر کو اس بات کا بلاول بھٹو نے بار بار کہا کہ اس دن پیپلز پارٹی کی نئی فیز شروع ہو گی اور تحریک چلائی جائے گی اور ایسا ہی طے کیا گیا۔ تمام فیصلے بلاول بھٹو کے اعلانات کی روشنی میں ہوئے۔ پاناما کیس کے بارے میں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے بارِ ثبوت وزیر اعظم پر ڈالا تب تو کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے البتہ اگر بارِ ثبوت تحریکِ انصاف اور ان کے وکلا پر ڈالا گیا تو کچھ نہیں نکل پائے گا۔ بارِ ثبوت 120 فیصد شریف خاندان پر ہے کیونکہ انہوں نے بارہا اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ لندن کی پراپرٹیاں انہی کی ہیں۔ یہ ایک کرپشن کا ٹیکسٹ بک کیس ہے ، جس کی املاک ہوں اس کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس نے یہ جائیداد جائز طریقے سے بنائی ہے۔ اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا بس ایک قطری خط پیش کیا گیا ہے ، حسین نواز کی جگہ اگر ایسا بیان راجہ پرویز اشرف یا یوسف رضا گیلانی نے دیا ہوتا تو ان کو عہدے سے ہٹا دیا جاتا۔ شریف برادران اس نظام کے لاڈلے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا رہا۔ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے بعد بھی کوئی آواز نہیں اٹھا رہا۔ ان کے اپنے وزیر خزانہ نے ان کے خلاف بیان دیا تھا۔ اگر انہوں نے دباﺅ پر بیان دیا تو نیب اس کی توثیق تو کرسکتا تھا۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات تصادم ، عدم برداشت اور تباہی کی طرف جا رہے ہیں ، اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔