ہمیں آزادی اور امن سے جینے کا حق کب ملے گا؟


\"\"اگر دنیا میں کسی چیز کو بھی دوام حاصل نہیں تو پھر پاک بھارت مخاصمت دائمی کیوں؟ کیا برصغیر کا بٹوارہ اس لئے ہوا تھا کہ دو ہمسائے ایک دوسرے کو اپنی سالمیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے کر بارود کی فصل اگانا شروع کر دیں۔ اس خطرے کو بنیاد بنا کر اپنی خارجہ پالیسی کے تانے بانے بُنتے رہیں۔ جنگ اور برتری کے دائمی بخار میں مبتلا ہو کر اس حد تک چلے جائیں کہ ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں اُن فرنگیوں کے آلہ کار بننے میں بھی عار محسوس نہ کریں جنہوں نے برصغیر کے لوگوں پر ایک صدی سے بھی زیادہ حکمرانی کی۔ برصغیر کے بٹوارے کے ساتھ ہی بظاہر برطانوی استعمار کا سورج تو غروب ہو گیا لیکن آزادی کا سورج صحیح معنوں میں طلوع نہ ہو سکا۔ آزادی کے لئے لڑنے والوں نے تو اپنی جان و مال سب قربان کر دیا لیکن انگریزوں کے کاسہ لیسوں کو اس حد تک کھلی چھوٹ ضرور مل گئی کہ وہ غریب، کمزور و محکوم طبقات کا معاشی و سماجی استحصال جاری رکھ سکیں۔ بالادست طبقات نے عام آدمی کو کبھی سرکنے کا موقع ہی نہ دیا۔ اس طرح عام آدمی آزادی کے حقیقی ذائقے سے نا آشنا ہی رہا۔ اس کے ساتھ ہی مسئلہ کشمیر کی صورت میں خطے میں تناؤ اور محاذ آرائی کا ایسا بیج بو دیا گیا کہ کشمیر کے لوگ تو کسی ناکردہ گناہ کی قیمت چکاتے ہی رہے لیکن دونوں طرف کے کروڑوں انسانوں پر اس کے اثرات نہایت گہرے ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی اسلحہ فرموں سے جدید ہتھیاروں کی ترسیل سے پاکستان اور ہندوستان کے گودام بھرتے چلے گئے۔ دونوں ممالک اپنی بساط سے بڑھ کر ہتھیاروں پر پیسہ پانی کی طرح بہاتے رہے۔ لیکن عام آدمی کے حصے میں کیا آیا؟

یہ سچ ہے کہ جنگل نما اس دنیا میں ہر ملک فوجی دفاع اور اخراجات کا بجا طور پر جواز گھڑ سکتا ہے لیکن عام آدمی یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ دنیا کو امن اور عام آدمی کے معیار زندگی پر پرکھا جانا ناگزیر ہے کیونکہ دنیا کو اسلحے سے کہیں زیادہ ضرورت امن اور اقتصادی ترقی کی ہے۔ اور ترقی میں عوام کی شراکت داری ناگزیر ہے۔ میں تناؤ اور مخاصمت کی بنیاد پر بننے والی علاقائی اور عالمی گٹھ بندیوں کو مسترد کرتی ہوں۔

ہندوستان امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کر کے خود کو توانا محسوس کرتا ہے۔ خود کو ابھرتی ہوئی معیشت اور مستحکم جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن بھارت کی اقتصادی ترقی میں عام آدمی کی شراکت داری کس حد تک ہے یہ ایک اہم سوال ہے۔ امریکہ چین اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے لیکن بھارت سے تجارت کرنے والے امریکہ یا دوسرے ممالک کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ بھارت میں کروڑوں غریبوں کی زندگیاں کس قدر غیر مستحکم ہیں کہ سر ڈھانپنے کے لئے چھت، پینے کا صاف پانی اور قضائے حاجت کے لئے ٹوائلٹس تک دستیاب نہیں۔ ان کو اپنا اسلحہ اور اقتصادی مصنوعات کے لئے منڈیوں کی تلاش رہتی ہے اور بھارت سے تجارت بھی ان کی اپنی ضرورت اور مفاد کے تحت ہے۔

نائن الیون کے بعد پاکستان نے مغرب کی نام نہاد \’وار ان ٹیرر\’ کو گود لیا تو پاکستان کے حالات ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوئے۔ کسی ٹھوس حکمت عملی کے بغیر عالمی استعمار کی مہم جوئی کا حصہ بن جانے کے اثرات مہلک اور دیر پا ثابت ہوئے۔ ملک کے اندر فرقہ واریت کا زہر تیزی سے پھیلا، معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔ بے یقینی کی صورت حال میں سرمایہ کار تو کیا آتے، کھیلوں کے میدان تک ویران پڑ گئے کیونکہ کیونکہ پاکستان آ کر کرکٹ کھیلنا یا دوسرے عالمی مقابلوں میں شرکت سیکیورٹی رسک سمجھا جانے لگا۔

ایسے وقت میں جب کہ امریکہ چار درجن نیٹو ممالک سمیت افغانستان کے اکھاڑے میں اترنے والا تھا۔ خطے کے ممالک کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہئیے تھا اور علاقائی امن اور معیشت پر منڈلاتے خطرے کو بھانپتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھنا چاہیئے تھا۔ لیکن اس کے برعکس جنگ زدہ افغانستان \’پراکسی وارز\’ کا گڑھ بن گیا۔

اور بھارت نے شمالی اتحاد اور دوسرے پاکستان مخالف دھڑوں کے ساتھ ایکا کر لیا اور پاکستان نے بھی کچھ طالبان دھڑوں کے ساتھ مراسم بنائے رکھنے میں ہی عافیت جانی۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ پاکستان بھارت کے لئےمیدان کھلا چھوڑ دیتا؟ بھارت اور امریکہ یک زبان ہیں کہ امریکہ اور بھارت مخالف لشکر طیبہ، جیش محمد، حقانی گروپ وغیرہ کو پاکستان کی اشیر باد حاصل ہے جبکہ پاکستان کہتا ہے کہ پاکستان میں تخریب کاری کے لئے ہندوستان افغان سرزمین کو اڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

بھارت امریکہ کو متنبہ کر رہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے طالبان کو کسی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ طالبان کے خلاف طاقت کا استعمال ہی موثر ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طالبان مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہوں گے تو مذاکرات ہوں گے کس سے؟ مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کی عملداری تو کابل اور چند دوسرے اضلاع تک محدود ہے جب کہ طالبان کا اثر و رسوخ آج بھی کہیں زیادہ ہے۔ خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ طالبان اور دوسرے تمام افغان دھڑوں کی شراکت داری سے افغان مسئلے کا دیر پا حل نکالنے کی بجائے نیٹو کے فضائی حملوں سے طالبان کو اپنے ٹھکانوں تک محدود کر کے داعش کے لئے خلا پیدا کیا جا رہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کی موجودگی ہزاروں تک پہنچ چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہا تو ایشیا کا یہ خطہ دوسرا مشرق وسطی بن سکتا ہے۔

دراصل افغانستان اور کشمیر میں بھارت ایسا حل چاہتا ہے جو اسکی فہم کے مطابق تو صحیح ہو گا لیکن دیر پا عمل کے حوالے سے نہ صرف ناقابل عمل بلکہ تباہ کن اثرات کا حامل ہے۔ کشمیر میں اکثریتی کمیونٹی کی نسل کشی جاری ہے اور اب تو غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں آباد کر کے نہ صرف نسلی اور مذہبی منافرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں بلکہ فوج کو جرائم کے لئے جوابدہی سے استثنی دینے کے غیر انسانی کالے قوانین کے نفاذ کا تسلسل۔ پرامن مظاہرین پر وحشیانہ تشدد۔ فوج کے ٹارچر سیلوں میں \’باغی\’ نوجوانوں پر تشدد اور ہلاکتیں۔ شہریوں کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کے لئے مواصلاتی پابندیوں میں جکڑ لینا۔ یہ ظلم و جبر کشمیری نوجوانوں کو یہ باور کرا رہا ہے کہ اب مرنے مارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں، جو کہ پیدائشی طور پر افغان باشندے ہیں، کا سیاسی عمل میں شراکت داری کا حق تسلیم کرنے کی بجائے طاقت سے نمٹے جانے کا اس کے سوا اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ انہیں مرکزی دھارے میں لانے کی بجائے انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا جائے۔ قابل ذکر ہے کہ کابل میں بھارت اگر اپنے منظور نظر لوگوں کو ہی گوارہ کرے گا اور پاکستان اپنے منظور نظر لوگوں کی تائید کرے گا تو امن کیا خاک ہو گا۔ مخاصمانہ گروپ بندیوں کا عالم یہ ہے کہ بھارت جب اڑی حملے کو جواز بنا کر سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہے تو افغانستان اور بنگلہ دیش غیر جانبدار رہنے کی بجائے بھارت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس سارے عرصے میں اسلام آباد کے لئے اگر کوئی حوصلہ افزا بات تھی تو یہ کہ چین نے ہر فورم پر پاکستان کو سفارتی آکسیجن فراہم کی۔ اس سلسلے میں حالیہ عرصہ میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی طرف سے پیش کی گئی جیش محمد کے سربراہ محسود اظہر کے خلاف قرارداد کو چین نے ویٹو کیا۔ اس قرارداد کو مسترد کرنا بھارت کے اس دعویٰ کو مسترد کرنا تھا کہ پٹھان کوٹ اور اڑی حملوں میں پاکستانی \’نان سٹیٹ ایکٹر\’ بھارت کے مطابق جسے \’سٹیٹ ایکٹرز\’ کی حمایت حاصل ہے شامل ہے۔ گزشتہ دنوں بھارت کے دور مار اگنی میزائیل بھارتی دعوے کے مطابق جو طویل فاصلے تک جوہری مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے کے کامیاب تجربے پر چین کے سرکاری موقف کے ترجمان سمجھے جانے والے ایک اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا کہ بھارت خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں تمام حدیں پھلانگ کر طاقت کا توازن بگاڑ رہا ہے جس کے بعد چین یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے لئے بھی اس طرح کی صلاحیت سے لیس ہونا ضروری ہے اور یہ صلاحیت حاصل کرنے میں چین پاکستان کی مدد کرے گا۔

جس چیز کو خطے میں \’گیم چینجر\’ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے وہ ہے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ۔ لیکن یہ پوچھا جانا لازم ہے کہ \’گیم چینجر\’ کس کے لئے؟ عام آدمی اس پیش رفت سے کس حد تک فیض یاب ہو گا؟

چینی میڈیا یہ باور کرا رہا ہے کہ چین کے اوورسیز میگا اقتصادی منصوبوں کے ذریعے افریقہ سے بلوچستان اور نیپال تک جو سڑکوں اور ریلوے لائنز کا جال بچھایا جا رہا ہے، انرجی کے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں، پسماندہ علاقوں میں صنعتی یونٹس قائم کئے جا رہے ہیں اس سے ایک تو ویسٹ سنٹرک گلوبلائزیشن،West Centric Globalization  کو چیلنج کر کے توازن کی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی اور متعلقہ ممالک میں اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی نئی نئی راہیں کھلیں گی جو کہ چین کی مدد سے ممکن ہو گا۔ یہ بات ضرور ہے کہ راہداری کے منصوبے چائینا ماڈل پر بن رہے ہیں اور ان کی تعمیر میں چینی ساز و سامان ہی استعمال ہو رہا ہے جو چینی کمپنیوں کے لئے سود مند ہے لیکن پاکستان اور دوسرے خطوں میں رہنے والے لوگ ان سے کس حد تک مستفید ہوں گے یہ بہت حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ اتنی بڑی پیش رفت کن شرائط کے تحت ہو رہی ہے۔ یہ سوال ایسے میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ جن ممالک میں سول حکومتیں ہوں یا فوجی یا نام نہاد جمہوری، عوام کے حالات نہیں بدلتے کیونکہ حکومتوں یا چہروں کا بدلنا ان کے پست معیار زندگی پر اس لئے اثر انداز نہیں ہوتا کہ حکمران اشرافیہ اور عوام کے بیچ وسیع خلیج حائل ہے۔ ایسے ناہموار اور غیر منصفانہ نظام کے اندر لوگوں کے انتہا پسندی یا تخریبی سرگرمیوں کی طرف مائل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسائل زدہ لوگوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی بجائے جب وہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں باغی، ملک دشمن یا نظام دشمن کہہ کر مزید تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

چین کا یہ دعوی شاید کسی حد تک درست ہو کہ وہ اقتصادی راہداری منصوبوں کے ذریعے ایک متوازن اور پرامن گلوبلائزیشن کو فروغ دے رہا ہے جس کی بنیاد گڈ گورننس پر ہو گی۔ لیکن روئے زمین پر پھیلی سچائی یہ ہے کہ اس وقت دنیا ایک ایسے گلوبلائزیشن کے دور سے گزر رہی ہے جسے \’ایلیٹ سنٹرک گلوبلائزیشن \'( Elite Centric Globalization ) کہہ سکتے ہیں۔ یعنی عالمی اشرافیہ کے گٹھ جوڑ پر مشتمل گلوبلائزیشن۔ جنگ ہو جنگی صورت حال یا امن کے فروغ کے پروپیگنڈہ پر دنیا کہ بعض حصوں پر مسلط کی گئی عالمی استعمار کی جنگیں یا پھر بظاہر امن۔ اقتصادی پیش رفت سے عالمی اشرافیہ ہی فیضیاب ہو رہی ہے۔ اور جنگیں ہوں تو بھی نزلہ عام لوگوں پر ہی گرتا ہے۔ جیسا کہ امریکہ کی \’وار ان ٹیرر\’ میں فرنٹ لائن اتحادی بن کر پاکستان کے حکمرانوں نے ڈالر ضرور سمیٹے ہوں گے لیکن عام آدمی کے حصے میں کیا آیا سوائے بدامنی، فرقہ واریت، اشتعال، انتہا پسندی، بم دھماکے، خوف و ہراس، افراتفری اور بے چارگی کے؟

دنیا کے بہت سارے انسان اس حد تک گلوبلائزیشن کا حصہ ضرور ہیں کہ سمارٹ فون اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی بدولت وہ دنیا سے اس حد تک منسلک ہیں کہ دنیا کہ حالات سے باخبر رہ سکیں۔ نام نہاد عالمی برادری کی بے حسی، بھوک، افلاس، قتل و غارت گری، نا انصافی پر جلیں بھنیں۔ لیکن دنیا کے بیشتر لوگ نام نہاد مہذب دنیا سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمیں ہمارا حق کب ملے گا؟ آزادی اور امن سے جینے کا حق، منصفانہ انداز میں \’گلوبل ویلیج\’ کا حصہ بننے کا حق کب ملے گا؟


Comments

FB Login Required - comments