پہلا مارشل لا، کرنل مجید ملک اور صحافی کے مشاہدات (پہلا حصہ)


پاکستان میں جنرل اسکندر مرزا اور جنرل محمد ایوب خان کے مشترکہ فوجی انقلاب کے بعد ملک کی سیاست میں زبردست ہنگامہ تھا۔ چند \"\"مہینے پہلے عراق میں بھی فوجی انقلاب برپا ہوگیا تھا جس کے دوران شاہ فیصل اور وزیراعظم نوری السعید اور ان کے دوسرے ساتھی مارے جا چکے تھے۔ عراق کا یہ انقلاب امریکہ اور برطانیہ کی سیاسی پشت پناہی کے خلاف انتہائی تشدد کے عالم میں ہوا تھا مگر پاکستان میں بہرحال فوجی انقلاب کی نوعیت خون انگیزی کے ماحول سے دور تھی۔ یہ درست ہے کہ 8 اکتوبر کی رات کچھ لوگ گرفتار کے گئے مگر یہ برائے نام سی بات تھی۔ تشدد کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ لوگ مارے نہیں گئے تھے۔

7 اکتوبر 58 کی شام کے کوئی پانچ یا چھ بجے ہوں گے کہ ایک صاحب ایڈیٹر کے نام اپنا مراسلہ لے کر دفتر میں آئے۔ مراسلہ دینے کے بعد یہ حضرت میرے کمرے میں تشریف لائے اور کہنے لگے کہ \”حضور ملک میں کچھ گڑبڑ نظر آ رہی ہے۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ کیا ہونے والا ہے\”۔ میں نے جواب دیا کہ ہونا کیا ہے ملک فیروز خان نون کی کابینہ سے عوامی لیگ کے وزیروں نے استعفے دے دیئے ہیں اور اب شاید کچھ اور اکھاڑ پچھاڑ ہوگی۔ یہ سن کر کہنے لگے بات کچھ ایسی نہیں ہے میرا اندازہ ہے کہ پاکستان میں فوج کی مداخلت ہونے والی ہے۔ شاید فوجی انقلاب آرہا ہے۔ میں نے ان صاحب کی بات ٹال دی اور کہا شاید آپ پر عراق کے حالیہ فوجی انقلاب کا اثر موجود ہے پاکستان میں ایسی بات ذرا ناممکن نظر آتی ہے۔ یہ بات میں نے شاید اس بنا پر کہی تھی کہ میرا اندازہ تھا کہ پاکستان کی فوج تنظیم اور تربیت کے اعتبار سے نہ صرف منظم ہے بلکہ سیاست سے دور ہے لہٰذا وہ ملک کے سیاسی حالات میں مداخلت کرنا پسند نہیں کرے گی مگر اس وقت میں اس حقیقت کو بھول گیا تھا کہ پاکستان کی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان ایک طویل عرصے سے ملک کی سیاست میں شریک تھے اور غلام محمد کے \”آئینی انقلاب\” سے ملک کے وزیر دفاع کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے تھے۔ میری بات سن کر ان حضرت نے فرمایا آپ صحافی ہیں آپ کے اندازے شاید صحیح ہووہ لیکن کراچی میں دو تین مقامات پر جو کچھ دیکھ کر آیا ہوں اسے اگر آپ بھی دیکھیں تو شاید آپ میرے خیال سے متفق ہوسکیں گے۔ انہوں نے اس بارے میں ٹیلیگراف آفس اور ریڈیو پاکستان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان دونوں مقامات پر فوج کے دستے بڑی بھاری تعداد میںمورچہ بند ہورہے ہیں ان کا یہ بیان سن کر میں چونکا ابھی کچھ اور کہنے ہی والا تھا کہ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کار ہے۔اور وہ مجھے دونوں مقامات دکھانے کے لئے لے جاسکتے ہیں۔ میں نے سوچا اور کچھ نہیں تو اس طرح تھوڑی سی رپورٹنگ ہی ہوجائے گی۔ میں ان کے ساتھ چل نکلا پہلے ہم لوگ ریڈیو پاکستان گئے تو وہاں فوج بھاری تعداد میں موجود تھی اور چار دیواری کے علاقے میں ریت کی بوریاں رکھ کر مورچے بنائے جا رہے تھے۔ میں نے بڑے دروازے سے استقبالیہ دفتر کی طرف جانے کی کوشش کی تو ایک فوجی افسر نے روک دیا اور کہا کہ اس وقت استقبالیہ بند ہوگیا ہے۔ پھر کسی وقت تشریف لائیے۔ ریڈیو پاکستان کا یہ دفتر استقبالیہ ایسا تھا کہ 24 گھنٹے کھلا رہتا تھا اس لئے اس کا بند ہونا معنی خیز بات تھی۔

ریڈیو پاکستان سے ہم کار میں ٹیلیگراف آفس پہنچے وہاں بھی سینکڑوں فوجی مورچے بنانے میں مصروف تھے۔ آپا دھاپی کا عالم نظر آتا تھا۔یہاں میں نے اپنے آپ کو ایک صحافی کی حیثیت سے متعارف کرانے کی کوشش کی۔ تاکہ ٹیلیگراف آفس کے اندر جا سکوں مگر فوجیوں نے یہاں ہی میرا راستہ روک دیا۔ حالات مجھے بھی سخت مخدوش نظر آنے لگے تھے۔

چند دن قبل میر خلیل الرحمٰن نے اپنی قیام گاہ پر سابق وزیراعظم مسٹر حسین شہید سہروردی، شیخ مجیب الرحمٰن اور چند دوسرے عوامی \"\"لیگی لیڈروں کو کھانے پر مدعو کیا تھا۔ اسی دعوت کے حوالے سے میں نے سوچا کہ اگر ملک میں فوج کچھ گڑ بڑ کرنے والی ہے تو عوامی لیگی لیڈروں کو اس کا ضرور علم ہوگا۔ مسٹر سہروردی تو سندھ اور بلوچستان کے انتخابی دورے پر نکل گئے تھے مگر شیخ مجیب اور ان کے ساتھ ایم این اے ہاو ¿س میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ چنانچہ میں ان صاحب کو ساتھ لے کر شیخ مجیب سے ملنے چل نکلا۔ وہاں ایک بڑی دلچسپ محفل برپا تھی۔ شیخ مجیب وہاں مولانا بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری مسٹر محمود الحق عثمانی سے مشرقی پاکستان میں ہونے والے ایک ضمنی انتخاب پر بڑی گرما گرم بحث کر رہے تھے شیخ مجیب کا دعوی تھا کہ عوامی لیگ نہ صرف ضمنی انتخاب جیتے گی بلکہ بھاشانی کی پارٹی کا آدمی ضمانت بھی ضبط کرائے گا۔ دونوں میں طرح طرح کی شرطیں لگ رہی تھیں۔

اسی بارے میں: ۔  ملکہ بہار جادو کا باغِ سحر اور جنرل ضیا الحق کے دیوانے

میں نے شیخ مجیب کو سلام کیا اور ان سے درخواست کی کہ اگر وہ چند منٹ علیحدگی میں مجھ سے مل لیں۔ انہوں نے ناگوار خاطر کہا ’آپ نے سارا معاملہ ہی چوپٹ کر دیا، ہم انتخاب کی بات کر رہے ہیں اور آپ نہ جانے کیا پوچھنے آگئے ہیں!‘ خیر وہ اٹھ کر ایک برآمدے میں آئے تو میں نے کہا کہ شیخ صاحب ملک میں فوج کی مداخلت کا کوئی خطرہ تو نہیں ؟ انہوں نے ہنس کر کہا ہوتا ہے تو ہونے دو ہمیں کوئی فکر نہیں…. تھوڑی دیر رکنے کے بعد انہوں نے پوچھا کہ آپ یہ فوج والی بات کہاں سے لائے ہیں۔ میں نے انہیں ریڈیو پاکستان اور ٹیلیگراف آفس میں فوج کی موجودگی کے بارے میں بتایا تو کہنے لگے رک جائیں میں کسی وزیر سے پوچھتا ہوں ویسے یہ اسکندر مرزا ہمیں کئی دن سے فوج کی دھمکیاں دے رہا تھا شاید کچھ کر ہی بیٹھا ہو۔انہوں نے پہلے ایک مرکزی وزیر کے گھر میں فون ملایا تو پتہ چلا کہ وہ تو کٹا ہوا ہے پھر انہوں نے براہ راست وزیراعظم ملک فیروز خان نون کے گھر پر فون کیا مگر وہاں غالباً کسی فوجی افسر نے فون اٹھایا اور یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ اس وقت ملک صاحب کسی سے بات نہیں کر سکتے۔ فون بند کرنے کے بعد شیخ صاحب نے کہا کہ آپ کا اندازہ درست نظر آتا ہے۔ اب آپ جائیں اور مجھے موقع دیجئے کہ میں یہ معلوم کر سکوں کہ میرا لیڈر (سہروردی) کہاں ہے تاکہ ہم بھی کوئی آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر سکیں۔

ہوسٹل سے ہم نکلے تو میں نے اپنے ساتھ اسے کہا کہ کار کو ذرا ایوان صدر کے رستے سے نکالتے ہوئے چلیں۔ وہاں سے گزرنا تقریباً ناممکن ہی تھا اس لئے کہ فوجی دستے لاریوں سے اتر کر ایوان صدر کو گھیرے میں لے رہے تھے۔ میرا اندازہ ہے کہ یہاں کوئی چار پانچ سو فوجی تھے اور ان کے ٹرک بھی ادھر ادھر کھڑے تھے۔ ایوان صدر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک پر ہمیں کسی نے روکا تو نہیں مگر کار کو رکنے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔

جب میں دفتر واپس آیا تو میں نے کتابت کا کام رکوا دیا اور ایسی تیاریوں میں مصروف ہوگیا کہ اگر فوجی انقلاب کی کوئی خبر آنے والی ہے تو کتابت کے انتظامات کس طرح ہونے چاہئیں۔ کچھ چھوٹی موٹی خبروں کا ترجمہ میں نے اپنے ایک رفیق کار نازش حیدری کے حوالے کیا اور خود پی آئی ڈی کے دفتر روانہ ہوگیا۔ مجھے توقع تھی کہ اگر ملک میں کچھ ہونے والا ہے تو کرنل مجید ملک کو ضرور معلوم ہوگا ۔وہ پاکستان کے پرنسپل انفارمیشن افسر تھے۔ مجید ملک بڑے خاموش طبع مگر بڑے موثر شخص تھے۔ فیض احمد فیض سے ان کا پرانا یارانہ تھا۔

میں دروازہ کھٹکھٹا کر جب ان کے کمرے میں داخل ہوا تو کرنل صاحب فون اٹھائے ہوئے تھے۔ ان کے دوسرے ہاتھ میں چائے کی پیالی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے چائے کی پیالی نیچے رکھی اور دوسرا ہاتھ فون پر رکھ کر کہا کہ دروازہ اچھی طرح سے بند کر دو اور یہاں بیٹھ جاو ¿۔ وہ فون پر بات کرنے لگے اور ساتھ کچھ نوٹس لکھتے رہے۔ فون ختم کرنے کے بعد انہوں نے میری طرف انتہائی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور کہا

’اس وقت آپ کس مقصد سے آئے ہیں؟‘\"\"

میں نے ان کے کمرے میں دیوار پر لگے کلاک پر نظر ڈالی۔ رات کے کوئی گیارہ بجنے والے تھے۔ میں نے جواب دیا صرف آپ کو سلام کرنے آیا تھا ویسے یہ بھی توقع تھی کہ آج اگر کوئی اہم اعلان ہونے والا ہے تو آپ سے لیتا جاو ¿ں۔ \”کون سا اہم اعلان؟\” انہوں نے پوچھا۔ میں ذرا سا مسکرایا اور میں نے کہا کہ \”وہ اعلان جو ایوان صدر سے جاری ہونے والا ہے\”۔ \”آپ کو کس نے بتایا\” انہوں نے پھر سوال کیا۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا \”بتائیں گے تو آپ…. اور اگر کچھ نہیں ہے تو چلا جاتا ہوں\” یہ سن کر ان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی۔ انہوں نے گھنٹی بجا کر چپڑاسی کو بلایا اور اسے ایک چائے لانے کو کہا۔ اس کے بعد مجھ سے گویا ہوئے \”اعلان خاصا طویل ہے ابھی ٹائپ ہورہا ہے آپ کو مل جائے گا\” میں نے پوچھا کہ کیا یہ اعلان فوج کی مداخلت سے متعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ سب باتیں آپ کہاں سے سن کر آئے ہیں۔ میں نے جواب دیا سن کر نہیں، دیکھ کر آیا ہوں۔ تو وہ بولے کہ جب تک بیان مکمل نہ ہوجائے اور اوپر سے اس کی تصدیق نہ آجائے آپ یہاں سے کہیں نہیں جا سکیں گے\”…. ویسے جو کچھ ہوا ہے ٹھیک نہیں ہوا۔ اب اللہ ہی مالک ہے\”۔ اس کے بعد انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا آپ کونسا سگریٹ پیتے ہیں ایک مجھے بھی دے دیجئے میں نے سگریٹ کا پیکٹ نکالا مگر ان سے پوچھا کہ آپ تو سگریٹ چھوڑ چکے ہیں اب طلب کیوں ہوئی۔ فرمانے لگے بحث چھوڑو چھ ہفتے ہوچکے ہیں اب اگر ایک سگریٹ پی لیا تو کچھ نہیں ہوگا۔ میں جب چاہوں سگریٹ نوشی چھوڑ دیا کرتا ہوں۔

اسی بارے میں: ۔  صدارتی ایوارڈ مجھے کیوں نہیں ملا

میں کرنل مجید ملک کے کمرے میں بیٹھا خاموشی سے آہستہ آہستہ چائے کو ختم کرنے کی کوشش میں تھا کہ ان کا سیکرٹری عقبی کمرے سے اندر داخل ہوا۔ اس نے کہا کہ بیان منظور ہو کر آگیا ہے اور سائکلو سٹائل کی مشین پر کاپیاں بھی تیار ہیں۔ اگر اجازت ہو تو اندر لے آو ¿ں۔ کرنل صاحب نے میری طرف دیکھا اور پھر کہا کہ جاؤ دس بارہ کاپیاں یہاں لے آؤ۔ اس کے بعد انہوں نے پہلے ڈان کے دفتر اور پھر دوسرے اخبارات کے دفتر میں ٹیلیفون کرنا شروع کئے۔ انہوں نے ایک کاپی اٹھائی اور میری طرف کھسکا دی۔ اس وقت بارہ بج کر پانچ منٹ ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ لے جائیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باقی کے اخبارات کے رپورٹر حضرات پریس کلب میں جوا کھیل رہے ہیں اگر وہ نہ آسکے تو ان کے ایڈیٹروں کو بلواؤں گا۔ آپ جائیں اور کام کریں‘۔ میں جلدی سے ان کے کمرے سے نکلا۔ اتفاق سے ایک موٹر رکشہ فوراً ہی مل گیا۔ دفتر تک جاتے ہوئے میں نے کہیں کہیں کھمبوں کی روشنی میں دیکھا تو پتہ چلا کہ جنرل اسکندر مرزا نے مارشل لا نافذ کر دیا ہے اور اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں۔ دفتر پہنچا تو میر خلیل الرحمٰن شاید دفتر سے میری غیر موجودگی کو دیکھ کر گھر سے دفتر آگئے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو کہنے لگے آج کہاں غائب تھے؟ میں نے جواب دیا میر صاحب اس وقت بحث فضول ہے۔ ملک میں مارشل لا لگ گیا ہے۔ اطمینان سے بیٹھیں اور مجھے کام کرنے دیں۔ میں نے کاتبوں کو چونکہ پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا اس لئے زیادہ دشواری پیش نہ آئی اور سرکاری اعلامیہ تفصیل سے پڑھے بغیر میں نے اس کا ترجمہ شروع کر دیا۔ پتہ چلا کہ اسکندر مرزا نے مرکزی اور صوبائی حکومتیں برطرف کر دی ہیں۔ اسمبلیاں توڑ دی ہیں اور 56 کا آئین منسوخ کر دیا ہے۔ اس آئین کے تحت وہ ملک کے صدر بنے ہوئے تھے۔ اسکندر مرزا نے ملک کا چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ایوب خان کو مقرر کر دیا تھا اور بظاہر ملک کے کرتا دھرتا وہی تھے۔ آئین ٹوٹنے کے باوجود اسکندر مرزا صدارت کے عہدے پر بہرحال بدستور موجود تھے۔ ملک میں دوبارہ سنسر شپ نافذ ہوگئی تھی۔

پاکستان کی سیاسی زندگی کا یہ دوسرا بڑا سانحہ تھا کہ ایک کارروائی غلام محمد نے کی تھی تو دوسری اسکندر مرزا نے۔ دونوں نے صرف اقتدار پر قبضہ جاری رکھنے کی خاطر چھاپے مارے تھے۔ جو اخبار تیار ہوا میری پسند کے مطابق تھا۔ اخبار میں جو تھوڑی بہت جگہ بچی تھی اس میں کچھ مقامی اور کچھ دوسرے شہروں کا رد عمل بھی درج کر دیا گیا تھا چونکہ میں ایک حد تک اس خبر کے لئے پہلے سے تیار تھا اس لئے آخری کاپی زیادہ لیٹ بھی نہیں ہوئی چنانچہ کام مکمل کرنے کے بعد میر صاحب سے گپ شپ ہوتی رہی۔ میر صاحب کہہ رہے تھے کہ ملک میں سنسر شپ نافذ ہوگئی ہے اس لئے ہمیں بہت سنبھال کر چلتا ہوگا۔

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔