رفسنجانی کا انتقال اور ایرانی سیاست


\"\"کسی بھی جانی پہچانی شخصیت کے انتقال پر چند روایتی جملے ادا کئے جاتے ہیں۔ مثلا ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پر ہونا مشکل ہے وغیرہ وغیرہ ،لیکن اگر ایرانی سیاست کے پس منظر میں دیکھیں تو سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کا انتقال واقعی ایرانی سیاست کے لئے ایک اہم موڑ کہا جا سکتا ہے۔ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد دنیا کے ساتھ نئے روابط استوار کرنے کی کوششوں میں مصروف ایران کے لئے ان کی وفات ایک ایسا نقصان ہے جسے پورا کرنا  یقیناً ناممکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ رفسنجانی میں ایسا کیا تھا جو دوسروں میں نہیں ہے؟

رفسنجانی،ایران کے 1979ء کے اسلامی انقلاب کے چنیدہ قائدین کی آخری نشانیوں میں سے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اب ایرانی رہبر اعلیٰ آیۃ اللہ علی خامنائی ہی وہ واحد فرد رہ گئے ہیں جو بانی انقلاب آیۃ اللہ خمینی کے مخصوص معتمدین میں شامل تھے۔ رفسنجانی نے چونکہ انقلاب کو اپنے خون پسینے سے سینچا تھا اور اس کی خاطر برسوں قید و بند کی مصیبتیں جھیلی تھیں اس لئے اس انقلاب کے لئے ان کے دل میں بہت تڑپ تھی۔ ایران کے انقلابی نظام سے ان کے جذباتی تعلق کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ خود ان کے سگے بچوں کو بدعنوانی کے الزام میں جیل کی سزا ہوئی، اس عدالتی کارروائی پر مغربی ممالک کی طرف سے شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا گیا لیکن انہوں نے اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا، وجہ شاید یہ رہی ہو کہ عوام کا نظام پر اعتماد بنا رہے۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں ان کی امیدواری منسوخ کی گئی لیکن وہ چپ رہے۔ ممکن ہے رفسنجانی ان باتوں سے متفق نہ رہے ہوں، یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں ان فیصلوں سے ناراضی ہوئی ہو لیکن ان کی رواداری اور نظام پر اعتماد کا اظہار ہمیشہ ان کے پیش نظر رہا۔

رفسنجانی نے ایران کی خارجہ پالیسی کو جذباتیت اور نعرے بازی کے بجائے ٹھوس سفارتکاری کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ وہ جانتے تھے کہ دنیا سے الگ تھلگ ہوکر نہیں جیا جا سکتا اس لئے افہام و تفہیم کی راہ بہرحال کھوجتے رہنا چاہئے۔ رفسنجانی کی خارجہ پالیسی اور سفارتی نظریات کا ہی عکس موجودہ صدر حسن روحانی کے یہاں نظر آتا ہے جنہوں نے دنیا کے ساتھ مفاہمت کے نئے ابواب لکھنے کا آغاز کیا ہے۔ رفسنجانی کی وفات ایران کا سفارتی خسارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایران کے اندر موجود اصلاح پسند عناصر کے لئے بھی کسی جھٹکے سے کم نہیں۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ وہ ایران میں اصلاح پسند عناصر کا سب سے بڑا چہرہ تھا۔ اس چہرے کی خوبی یہ تھی کہ اس نے خود کو انقلاب اسلامی کی شناخت سے جوڑے رکھتے ہوئے اصلاحات کی بات کی۔

اسی بارے میں: ۔  اسلام: مکمل ضابطہ حیات۔۔۔؟

رفسنجانی کے انتقال سے ایک اور خلا یہ پیدا ہوا کہ اب پہلی نظر میں کوئی چہرہ ایسا نہیں دکھائی دیتا جو آیۃ اللہ خامنائی کے بعد رہبر اعلیٰ کے منصب کے لئے مناسب معلوم پڑتا ہو۔ چونکہ آیۃ اللہ خامنائی طویل عرصے سے رہبری کے فرائض انجام دے رہے ہیں ایسے میں کسی ایسی شخصیت کو نظر میں رکھنا ضروری ہے جو وقت پڑنے پر رہبر اعلیٰ کا منصب سنبھال لے۔ حال ہی میں رہبر اعلیٰ کو چننے والی مجلس خبرگان کے اراکین کا انتخاب ہوا تھا جس میں رفسنجانی کے حامی اراکین کی اکثریت منتخب ہوکر آئی ہے ایسے میں اس بات کا بھرپور امکان تھا کہ اگر عمر نے وفا کی ہوتی تو آیۃ اللہ خامنائی کے بعد رہبر کے منصب کے لئے سب کی نگاہیں رفسنجانی کی ہی طرف اٹھتیں۔ ایرانیوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ اس لئے بھی ہے کہ موجودہ رہبر اعلیٰ کی صحت اب ساتھ نہیں دے رہی ہے اور ذرائع کے مطابق ان کو گذشتہ کچھ مہینوں میں کئی بار سرجری کے عمل سے گذرنا پڑا ہے۔

رفسنجانی کے انتقال سے پیدا ہوئے خلا کی بے چینی خود رہبر اعلیٰ آیۃ اللہ خامنائی کے بیان سے بھی محسوس ہوتی ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہاشمی کے چلے جانے کے بعد میں اب کسی ایسی شخصیت کو نہیں پاتا جو اس تاریخ ساز دور (انقلاب اسلامی) کے نشیب و فراز میں اس قدر طویل مدت پر محیط تجربات کی مالک ہو۔ اس ایک جملے میں آیۃ اللہ خامنائی نے جس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی تفصیل میں کئی ابواب لکھے جا سکتے ہیں۔ ایران دراصل اندرونی طور پر ایک کشمکش میں مبتلا ہے یہ کشمکش دو طرح کی سوچ کے درمیان ہے۔ ایک وہ سوچ جو صرف انقلاب سے چمٹی رہنا چاہتی ہے اور اصلاح کی کوئی بھی بات جسے سازش معلوم ہوتی ہے۔ دوسری سوچ وہ ہے جو اصلاح پسندی کے معاملے میں اعتدال کی حدوں کو کب کا پیچھے چھوڑ چکی ہے، اس کے نزدیک موجودہ نظام ہی قدامت پسندی کی جڑ ہے۔ ایسے میں رفسنجانی ان دو انتہاؤں کے درمیان میانہ روی کی مثال تھے۔ انہوں نے جہاں ضروری ہوا اصلاح پسندی کا پرچم بلند کیا لیکن وہ نظام کے تحفظ اور اس کی بنیادی اقدار کو بنائے رکھنے کے بھی اتنے ہی زبردست حامی تھے۔ رفسنجانی نے نظام میں اصلاح کی بات کبھی ڈھک چھپا کر نہیں کی۔ وہ رہبر اعلیٰ تک سے اختلاف رائے کرنے میں نہیں جھجکتے تھے لیکن ان کے اختلاف کا آیۃ اللہ خامنائی نے کبھی برا نہیں مانا۔ اس کا ذکر انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں بھی کیا، رفسنجانی کے ساتھ اپنی طویل رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طویل دور میں اختلاف رائے ہمارے رشتے کو ختم نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ رفسنجانی سے ان کے نظریاتی اختلافات جو کہ آخری دور میں کافی شدید بھی ہوئے ان کے اور رفسنجانی کے درمیان جذباتی تعلق کو کمزور نہ کر سکے۔

اسی بارے میں: ۔  ویہار، بیوپار اور ضامن

ایرانی سیاست اور ایران میں رہبر اعلیٰ کے منصب کو سمجھنے والا ہر آدمی اندازہ لگا سکتا ہے کہ رہبر اعلیٰ کے ساتھ شدید نظریاتی اختلاف رکھنے کا حوصلہ ہر کس و ناکس کا نہیں ہو سکتا ۔ رفسنجانی نے باہمی احترام کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے کا اظہار کرکے ایرانی معاشرے میں اختلاف رائے کی راہ کھولے رکھی اور ان سے دوسروں کو بھی تحریک ملی۔ گویا وہ ایرانی معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی کے نقیب اور ایسے عناصر کی ڈھارس تھے۔

رفسنجانی کے جانے کے بعد سب سے زیادہ ذمہ داریاں رہبر اعلیٰ ہی کاندھوں پر آن پڑی ہیں۔ اسلامی انقلاب کے قائدین میں وہ آخری شمع رہ گئے ہیں اوراب انہیں ایرانی نظام کے مستحکم مستقبل کی راہیں استوار کرنی ہیں۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اب ایرانی نظام کو ان افراد کے بغیر باقی رہنا سیکھنا ہوگا جو اس انقلاب کے بانی تھے۔ ایران اس وقت بہت نازک دور میں ہے جہاں سے آگے کی راہ اور زیادہ نزاکتوں اور حساسیت سے بھری ہے۔ رفسنجانی کے اچانک انتقال نے صورتحال کی نزاکت اور رہبر اعلیٰ خامنائی کی ذمہ داریوں کو بہت بڑھا دیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 43 posts and counting.See all posts by malik-ashter