فاؤسٹ اور آمریت سے متعلقہ پاگل پن کے دیگر پہلو


\"\"فاؤسٹ کی کہانی صدیوں سے جرمن اساطیر کا حصہ رہی ہے۔ گوئٹے اور کرسٹوفر مارلو سمیت بہت سے فنکاروں نے اس پر طبع آزمائی کی ہے۔ کہانی بہت سادہ ہے۔ فاؤسٹ ایک بے پناہ عالم ہے مگر وہ اپنی کامیابی پر مطمئن نہیں ہے۔ فاؤسٹ دولت، علم اور اختیار کی تمام ممکنہ بلندیوں پر پہنچنا چاہتا ہے۔ اس طلب میں وہ شیطان سے معاہدہ کرتا ہے کہ چوبیس برس تک علم، خواہش اور مسرت پر اس کا اختیار لامحدود ہوگا لیکن معاہدہ ختم ہونے کے بعد شیطان اس کی روح کا مالک ہوگا۔ پتے کی بات یہ کہ جیسے ہی طلب کی کشمکش سے نجات ملتی ہے، فاؤسٹ بے معنویت کا شکار ہوجاتا ہے۔ نہ جاننے کو کچھ باقی بچا ہے نہ محبت میں کسک ہے۔ نہ خواب ہیں اور نہ کامیابی کی خوشی۔ یہ بے معنویت ہی آمریت کا المیہ ہے۔ یہ تفصیل بے کار ہے کہ شیطان جب معاہدے کے مطابق فاؤسٹ کی روح حاصل کرنے آتا ہے تو کیا مکالمے ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ خواہش، جدوجہد، جواب دہی، ناکامی اور کامیابی کے دھاگوں سے بے نیاز ہوکر فاؤسٹ کی روح بھی اپنا معنی کھو بیٹھی تھی۔ وہ نچلے درجے کی خوشیوں اور پاگل پن کے درمیان بھٹک رہا تھا۔ یہ پاگل پن دراصل وہی المیہ ہے جسے گیبریل گارشیا مارکیز نے ’آمر کی تنہائی‘ کا عنوان دیا تھا۔

ہم کئی عشروں سے جمہوریت اور آمرانہ رجحانات کے درمیانی منطقوں پر آباد لوگ ہیں۔ آمریت ہمارے لئے اجنبی نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ ابھی ہم آمریت کے انفرادی اور اجتماعی زاویوں میں باہم تعلق کی پہچان نہیں کر سکے۔ جمہوریت ہمارے لئے ایک نیا بندوبست ہے۔ جمہوریت جن مفروضات پہ کھڑی ہے، ہم نے ان اصولوں ہی سے دشمنی باندھ رکھی ہے۔ انسانوں کی مساوات، انسانی جان کی قدر و قیمت، خوشی کی اہمیت، خوشی میں آزادی کا کردار، علم اور تمدن کی ترقی میں تعلق، ذاتی سعی کا محدود ہونا۔ بڑے دھارے سے اپنی ننھی سی لہر کشید کرنا۔ زندگی اور موت کی حقیقتوں کو تسلیم کرنا، انسانی ہمدردی اور احترام کی مدد سے زندگی کو ایک خوشگوار تجربے میں تبدیل کرنا۔ یہ سب اصول آمریت نہیں، جمہوریت کی اقلیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم ایسے سادہ ہیں کہ آمریت کے پودے کو پانی دیتے ہیں اور جمہوریت پر \”مغرب\” کی تہمت رکھ کے اس کی ناکامی کا ماتم کرتے ہیں۔

آمریت فرد پر کیا اثرات ڈالتی ہے اور معاشرے میں آمریت سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فاؤسٹ کا انجام ذہن میں رکھیے اور پھر تاریخ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالیں۔ چودہویں صدی میں دلی کے قطب الدین مبارک شاہ خلجی سے سولہویں صدی میں ماسکو کے آئیوان خوفناک تک، برلن کے ہٹلر سے یوگنڈا کے عیدی امین تک، رومانیا کے چاﺅسشکو سے مارشل سٹالن تک، زمبابوے کے رابرٹ موگابے سے پیکنگ کے ماؤزے تنگ تک، پانامہ کے نوریگا سے تلور کا شکار کھیلنے والی مخلوق تک، ملکوں ملکوں پھیلی ایک طویل فہرست میں مشترکہ نکات کیا ہیں۔ آمر کے لئے تشدد بذات خود ایک مقصد بن جاتا ہے۔ انسانی تکلیف سے بے نیازی اسے اپنے اختیار کا احساس دیتی ہے۔ آمر کسی قسم کی مخالفت برداشت نہیں کرتا۔ اس پر مخالفت کا خوف طاری ہو جاتا ہے۔ آمر کسی پر اعتبار نہیں کرتا۔ آمر کو ہر جگہ ایک ممکنہ سازش نظر آتی ہے۔ آمر اپنے ساتھیوں کو نالائق سمجھتا ہے۔ آمر اپنے اقتدار کو آخری سانس تک قائم رکھنا چاہتا ہے۔ آمر کو طویل زندگی کی جنونی خواہش ہوتی ہے۔ آمر کو عجیب وغریب منصوبوں کا شوق ہوتا ہے۔ مثلاً ایک نیا شہر بسانا، دریا کو الٹا چلانا۔ آمر کوئی بھی بے معنی کام جنون کے طور پر اپنا لیتا ہے۔ مثلاً جنس میں غیر معمولی دلچسپی، منشیات، پیسے جمع کرنا۔ بے شمار انسانوں کو معمولی الزامات پر تکلیف دہ موت سے دوچار کرنا….موت اور مراعات پر اختیار سے آمر کے خبط عظمت کی تسکین ہوتی ہے۔

اگر معاشرے میں جمہوری قدریں موجود ہوں تو آمریت کا پودا جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ جہاں شہری اپنی صلاحیت پر بھروسہ رکھتے ہیں، وہاں مسیحا کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ جہاں اداروں میں اختیار اور احتساب کا توازن موجود ہو، وہاں معجزوں کی امید نہیں رکھی جاتی۔ جہاں انسان محبت کے معمول سے لطف اٹھانے کی امید رکھ سکتے ہوں وہاں الٰہ باد میں مردہ زندہ ہونے کی خوش خبری نہیں بیچی جا سکتی۔ جہاں انسانی برابری کی بنیاد پر نمائندگی کا اصول تسلیم کیا جاتا ہو وہاں تعصب کے نام پر سیاست کا کھیل نہیں کھیلا جا سکتا۔ جہاں علم پر پیوستہ مفادات کی حد نہ باندھی گئی ہو، وہاں شہریوں کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ جہاں زندگی کے چھوٹے چھوٹے معصوم پہلوؤں میں خوشی کا خواب زندہ ہو، وہاں جنگی فتوحات کا نقارہ نہیں پیٹا جاتا۔

ہمارے ملک میں ایک نیا تجربہ کیا جارہا ہے۔ نصف صدی کی اجتماعی شرمساری کے بعد ہم ڈرتے ڈرتے غاروں سے برآمد ہو رہے ہیں۔ بارودی سرنگوں کے خوف سے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ خوشگوار حیرت ہو رہی ہے کہ فوج کی کمان سنبھالے چالیس روز گزر گئے، جنرل صاحب نے ابھی تک کوئی سیاسی بیان نہیں دیا۔ کھمبوں پر نئے بینر آویزاں نہیں کیے گئے۔ کسی سنکھ نے انصاف کی دہائی دی ہے نہ کہیں ٹویٹ کی پائل بولی ہے۔عدالت اپنا کام کر رہی ہے۔ تباہی کے بیوپاری کھمبا نوچ رہے ہیں۔ ایسی زمین اور ایسا آسمان تو ہم نے بہت مدت سے نہیں دیکھا تھا۔ وسوسے ہیں کہ کہیں ہم خواب میں نہ ہوں۔ کہیں ہم آج بہت زیادہ تو نہیں سو لئے۔ دیوار پر لٹکی گھڑی پر نظر ڈالنا چاہئے۔ الحمد للہ! یہ خواب نہیں ہے۔ کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد میں منصف کے گھر پر ظالمانہ تشدد کے بعد غائب ہونے والی کمسن بچی کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ سندھ میں مذہب کی جبری تبدیلی سے تحفظ دینے والا قانون گورنر صاحب نے بغیر دستخط کیے واپس بھیج دیا ہے۔ اسلام آباد میں شہری آزادیوں کے لئے آواز اٹھانے والے سلمان حیدر کی آواز چار روز سے سنائی نہیں دی۔ ہم خواب نہیں دیکھ رہے لیکن یہ طے ہے کہ زمین و آسمان کے درمیان کہیں درجہ حرارت میں ایسا فرق موجود ہے جس سے دھند جنم لیتی ہے۔ نظر دھندلا جاتی ہے اور جمہوریت کا حسن کجلا جاتا ہے۔ ہمارے قومی ارتقا کے نئے مرحلے کا تقاضا ہے کہ فرد اور ریاست میں آمریت کی آلودگی کو دور کیا جائے۔ ایک دوسرے پر زیادہ اعتماد کیا جائے اور سلمان حیدر سمیت ان تمام شہریوں کو قانون کا سائبان مہیا کیا جائے جنہیں فیض صاحب نے موضوعِ سخن قرار دیا تھا۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں