لینہ حاشر کی تحریر کے دس لاکھ ویو مبارک ہوں


\"\"

دل کے تاروں کو دھیرے سے چھیڑ دینے کا نام لینہ حاشر ہے۔ وہ پتھر کو موم کر دینے والے لفظ تراشتی ہیں اور مشکل جملوں کے پیچ و خم میں پڑے بغیر بڑی سادگی سے اپنی بات قاری تک پہنچا دیتی ہیں۔ ان کی تحریر وہ راگ ملہار ہے جو دل کو یوں گداز کرتی ہے کہ آنکھوں سے ہونے والی برسات رک نہیں پاتی۔

یوں تو ان کی کئی تحاریر ہم سب کے صفحات پر جگمگائیں مگر ان کا لکھا گیا ” مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ ہم سب کی تاریخ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر رہا۔

آج یہ صرف ایک خط نہیں، اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے۔ ہم سب پر چھپنے کے بعد یہ خط سوشل میڈیا پر اس تیزی سے پھیلا کہ فیس بک انتظامیہ نے غلط فہمی سے اسے viral spam سمجھ کر اس پر پابندی لگا دی۔ چند دن بعد یہ غلط فہمی دور ہوئی تو پابندی ہٹی۔

\"\"اپنی اشاعت کے پہلے دن ہی خط ہم سب کی ویب سائٹ پر ایک لاکھ کے قریب پڑھا گیا اور کئی دنوں تک اس کے پڑھنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ لاکھوں کی تعداد میں فیس بک شئیر اس کے علاوہ تھے۔

اس خط کو رائٹ اور لیفٹ کی تخصیص سے بالاتر ہو کر ہر صاحب دل انسان نے سراہا۔ اس خط پر ایک شارٹ فلم اور دو تھیٹر ڈرامے بھی راہ میں ہیں۔ یہی خط جب یو ٹیوب پر پہنچا تو بغیر کسی آواز اور منظر کشی کے محض خط کی سکرین شاٹ کی ویڈیو نے بھی سب کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ یو ٹیوب پر اس کالم کی ایک سادہ سی ویڈیو نے کچھ روز قبل دس لاکھ یعنی ایک ملین ہٹس کا سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ یو ٹیوب پر اس کے علاوہ بھی اس کالم کی درجنوں اور ویڈیوز موجود ہوں۔ اگر سب ویوز یا ہٹس کو جمع کریں تو تعداد میں کئی لاکھ اور جمع ہو جائیں گے۔ ادارہ ’ہم سب‘ لینہ حاشر کو آج ہم سب کی سالگرہ کے موقعے پر ایک ملین ویوز کے سنگ میل کو عبور کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔

سفر ابھی جاری ہے۔ بات چل نکلی ہے تو دیکھیے کہاں تک پہنچے۔

(مدیر ہم سب)

Comments

FB Login Required - comments