جج


ہم جج کے سامنے کھڑے کر دیے گئے تھے \"\"
جج نے کہا، خود کو بے گناہ ثابت کرو
ہم نے ہم آواز ہو کر کہا، ہم بے گناہ ہیں یور آنر
جج نے کہا، بے گناہی کا ثبوت پیش کرو
ہم میں سے ایک نے اپنا دماغ نکال کر جج کے سامنے رکھ دیا
دوسرے نے جج کے سامنے اپنی آنکھیں رکھ دیں
ایک نے زبان رکھ دی
ایک نے انگلیاں رکھ دیں
ایک اور نے اپنے کان رکھ دیے
میں نے دھڑکتا ہوا دل رکھ دیا
ہم سب نے باری باری عرض کی
یور آنر آپ خود ان کی تلاشی لے لیجیے
جج نے ایک ایک کر کے سب کی تلاشی لی
قلم اٹھایا اور فیصلہ لکھا
یہ سب گنہگار ہیں سوائے ایک کے، جس کے پاس صرف کان ہیں اور جو صرف سنتا ہے اور آوازوں پر سر دھنتا ہے،
لہٰذا اس ایک کے سوا سب کو سزائے موت دی جاتی ہے
فیصلہ لکھ کر جج نے قلم توڑ دیا
ہم میں سے وہ جو بچ گیا تھا، اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر چیخ پڑا
جنگل میں انسان بھونک رہے ہیں جج صاحب
سانپ کی طرح پھنکار رہے ہیں
بھیڑیوں کی طرح غرّا رہے ہیں
چیل کوّوں کی طرح شور مچا رہے ہیں
اور مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہے ہیں
مگر جج قلم توڑ چکا تھا
اپنے چیمبر میں لوٹ چکا تھا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  عمر ان خان ’’نا اہل‘‘ قرار نہ پائے تو؟

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 55 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah