افغان فوج سے جھڑپ میں کالعدم حرکت الجہاداسلامی کا بانی قاری سیف اللہ ہلاک


\"\"کالعدم تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کا بانی قاری سیف اللہ اختر افغانستان کے صوبے پکتیکا میں افغان فورسز سے جھڑپ میں مارا گیا ہے۔

قاری سیف اللہ اختر افغانستان اور پاکستان میں جہادیوں کےسرکردہ رہنماؤں میں سےتھا۔ اس نے ملا عمر کے مشیر کے طور پر بھی کام کیا۔ قاری سیف اللہ پر 1995 میں بینظیر حکومت کے خلاف بغاوت میں ملوث ہونےکا بھی الزام تھا۔ اس مقدمے میں گرفتاری اور رہائی کے بعد قاری سیف اللہ اختر روپوش ہو گیا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی آخری کتاب میں قاری سیف اللہ اختر کو اٹھارہ اکتوبر 2007 کے کراچی کارساز دھماکے کا بنیادی کردار قرار دیا تھا۔ اس دھماکے میں 150 افراد شہید ہوئے تھے۔ قاری سیف اللہ اختر کو 2005 میں گرفتاری کے بعد اکتوبر 2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی سے کچھ ماہ قبل مئی 2007ء میں پراسرار طور پر رہا کر دیا گیا تھا۔

قاری سیف اللہ اختر کا تعلق چشتیاں سے تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس کے اہل خانہ کو اس کی ہلاکت کی اطلاع کر دی گئی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  قطری شہزادے کا جے آئی ٹی کا دائرہ اختیارتسلیم کرنے سے انکار