نیا سال کئی سال سے نہیں آیا


\"\"میجر خالد سعید خلیق اور متواضع دوست ہیں۔ بچوں کی طرح سادگی سے کھلکھلاتے ہیں۔ کتاب کا روگ بھی پال رکھا ہے۔ فوجی اور کتاب کے تعلق کا ذکر آیا تو ہاتھ کے ہاتھ ایک واقعہ سن لیجئے۔ جعفر طاہر کی شاعری نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں دھوم مچا رکھی تھی۔ جھنگ کے طوطی خوش نوا شیر افضل جعفری سے لے کر لاہور کے درویش ڈاکٹر نذیر احمد تک سبھی اُن پر فریفتہ تھے۔ جھنگ مگھیانہ سے تعلق تھا اور رزق کے لیے سپاہ گری کو پیشہ کر رکھا تھا۔ 1962ء میں ادیبوں کو صدارتی اعزازات دیے جا رہے تھے۔ ایک انعام جعفر طاہر کی کتاب \”ہفت کشور\” کے حصے میں بھی آیا۔ تقریب میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے جعفر طاہر کا نام پکارے جانے پر اک سپاہی کو چست وردی میں ملبوس سٹیج کی طرف بڑھتے دیکھا۔ چونکے اور پھر مونچھ پر ہاتھ پھیر کر قریب کھڑے صاحب سے کہا،  ”دیکھا، فوج میں بھی پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں۔“ جعفر طاہر نے سن لیا، ذرا جھک کر آہستہ سے کہا۔ ”جی ہاں، حضور، جونیئر کمیشنڈ لیول ہی پر رہتے ہیں۔“

تو میجر خالد سعید خط میں تجویز کرتے ہیں کہ ناانصافی کی داستانیں اور بدعنوانی کی کہانیاں بہت ہو چکیں۔ اب کچھ خوشگوار بات بھی ہو۔ مُسکراہٹ کا کچھ سامان ہو۔ میجر خالد سعید ایسے رکھ رکھاﺅ کے دوست ہیں کہ اُن کے مکتوب پر سرحدی تناﺅ کے ماحول میں فلیگ سٹاف میٹنگ کا گماں گزرتا ہے۔ بہت سے ’اگر‘ اور ’چونکہ‘ کے ساتھ ’مگر‘ اور ’چنانچہ‘ استعمال کرتے ہیں۔ تاہم پوٹھوہاری لہجے میں اُن کی فرمائش کو میجر صاحب کا حکم ہی سمجھنا چاہیے۔ بقول ماجد بھائی بدایوں والے، اتنا آئی سی ایس تو نظر آتا رہتا ہے۔

جی ہاں صاحب مسکرانا کسے اچھا نہیں لگتا۔ بچوں کی ہنسی، فروری کی دھوپ اور سرسوں کا کھیت کس کے دل کو نہیں بھاتے۔ اگلے روز کیسی بھلی بات غازی صلاح الدین نے لکھی۔ ”ہم مل جل کر، بے وقوفی کے ساتھ، سرعام خوشی منانے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔“ یہاں بے وقوفی سے غازی صاحب کی مراد یہ ہے کہ تھوڑی دیر کو سنجیدگی کا بھاری بھر کم عمامہ اتار کر زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لطف اندوز ہونا۔ آئیے آپ کو اس کا ایک نمونہ دکھائیں۔

پہلی عالمی جنگ میں بچوں کے علاوہ لکھنے پڑھنے والے لوگوں کو بھی لڑائی سے معذور سمجھ کر دیہات میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔ برطانوی روزنامے ”سن“ نے تجویز کیا کہ اس جبری نقل مکانی کا شکار ہونے والے سات ممتاز قلم کار ہفتے میں ایک روز نئے ماحول اور روزمرہ واقعات پر اپنے مشاہدات کالم کی صورت میں قارئین کی نذر کریں۔ اس مشق کا حاصل انگریزی نثر کی وہ سدابہار مختصر سی کتاب تھی جو ”ساحل پر سنگ ریزے“(Pebbles on the Shore)کے عنوان سے شائع ہوئی۔ سو برس پہلے کی بولی ٹھولی میں رواں انگریزی نثر کا شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ اے جی گارڈنر مصنف تھے جو اخبار میںAlpha of the Plough کے قلمی نام سے لکھتے تھے۔ سادہ اردو میں ”ہل کی ہتھی“ اور مشکل پسندوں کے لیے ”الف المحراث“ اس قلمی نام کا ترجمہ ٹھہرے گا۔ اس مجموعے میں ”کمان کو ڈھیلا کرنا“کے عنوان سے ایک نثرپارہ ہے۔ مصنف تنے ہوئے اعصاب کو مًسکراہٹ اور ہلکے پُھلکے انداز میں آرام پہنچانے کے موضوع پر قلم فرسائی کر رہا ہے۔ جنگ کا منظر ہے۔ سردی سخت ہے۔ مورچے میں کیچڑ ہے۔ دوسری سمت سے گولیاں مینہ کی طرح آ رہی ہیں۔ بندوقوں کی تڑتڑ ذرا تھمتی ہے تو برطانوی مورچے سے لوہے کے خود اوڑھے دو سپاہی آہستہ آہستہ سر اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ بندوقوں کی نالیوں سے ابھی دُھواں اُٹھ رہا ہے اور پہلا فوجی دوسرے سے کہتا ہے۔ ’تو یار میں کہہ رہا تھا کہ جان کو میری سے شادی کر لینا چاہیے تھی!‘

جان و دل کی بازی لگی تھی لیکن اگلے لمحے سے بے خبر فوجی زمانہ امن کی معصوم تفصیلات میں غرق تھے۔ شاید بندوق کی گولی کا سامنا کرنے کے لیے کہیں کہیں تلخ حقیقت سے اس طرح کی دوری ضروری ہو جاتی ہے۔ کمان کو ڈھیلا کرنا افراد ہی کے لیے نہیں، معاشروں کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ڈھنگ سے ہنس نہیں سکتے، خاص طور سے خود پر نہیں ہنس سکتے، وہ قرینے سے سوچنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ ایذرا ہاﺅنڈ نے کہا تھا کہ سنجیدہ مکالمے میں غصہ ایک ضروری عنصر ہے۔ یہ بھی دُرست ، مگر یونانی ڈرامے سے جدید فلم تک المیے میں تاثیر کو بڑھانے کے لیے اعصاب کو سکون دینے والا منظر بھی ضروری سمجھا گیا ہے جسے کتھارسس کہتے ہیں۔ تناﺅ میں تخفیف عضویاتی تقاضا ہی نہیں، معاشرتی ضرورت بھی ہے۔

پنجاب کے دیہات میں ایک امرت دھارا قسم کا کردار پایا جاتا ہے۔ جسے شائستہ لہجے میں تو شاید حجام کہا جائے لیکن نائی کا قدرے تحقیر آمیز (چنانچہ غلط) لفظ استعمال نہ کیا جائے تو اس کردار کے معاشرتی خدوخال واضح نہیں ہوتے۔ جہاں دیگ کی ٹھنٹھناہٹ سنائی دیتی ہے، قریب ہی نائی کی صورت بھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صاحب نوزائیدہ بچوں کی عضویاتی کتر بیونت کے علاوہ بڑھے ہوئے ناخن بھی تراشتے ہیں کہ ہاتھوں کی گندگی کم ہو، جھاڑ جھنکاڑ بال کاٹتے ہیں کہ چہروں پر برستی وحشت کم ہو۔ کہیں قریبی دیہات میں کسی کے دُنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع دینا ہو یا کسی تقریب میں شرکت کی دعوت بھیجنا ہو، ان صاحب کی خدمات ہی بروئے کار آتی ہیں۔

لکھنے والا بھی تلونڈی موسیٰ خاں کا نائی ہی تو ہے۔ چاہتا تو یہی ہے کہ سال بھر شادیانے بجتے رہیں اور وہ ایک گمنام پنجابی شاعر کے لفظوں میں ’تاشے اُٹھائے اور لاہور سجائے‘۔ مگر خبر کی نوعیت پر صحافی کو اختیار نہیں اور دیہات میں صرف شادیاں نہیں ہوتیں۔ مردان میں ایک گیسو تراش کی دکان کے باہر یہ بورڈ تو میں نے خود پڑھا ہے کہ ’حجامت کرنا منع ہے‘۔ سو لکھنے والے کا ملال ہے کہ میر تقی میر کے رنج ’نہ ہوا کہ ہم بدلتے یہ لباس سوگواراں‘ سے چلتا استاذی رضی عابدی تک آ پہنچا ہے جو کہتے ہیں ’نیا سال کئی سال سے نہیں آیا‘۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔