بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ


dilawar shahہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، احمد فراز، شہزاد احمد، اشفاق احمد، خالد احمد، جمیل الدین عالی ، عبداللہ حسین، انتظار حسین (مرحومین)، مستنصر حسین تارڑ، شمس الرحمان فاروقی ، خواجہ محمد زکریا، ظفر اقبال ، شمیم حنفی، بانو قدسیہ، نجیب احمد اور ذکائ الرحمان (اللہ تعالیٰ ان سب کوسلامت رکھے اور عمر خضر عطا فرمائے)، جیسے لیجنڈز کو دیکھا ، ان کو سنا، ان سے بات کی اور ان کی علمی ادبی فکر سے روشنی حاصل کی۔ قانون قدرت ہے کہ نئے پودے پنپتے رہتے ہیں اور بوڑھے اشجارآہستہ آہستہ اپنا وجود اسی مٹی میں ملا دیتے ہیں۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے بہت سے ادبی سرخیل ہم سے جدا ہوئے۔ اگر چہ یہ قد آور شخصیتیں اپنے فن کے حوالے سے زندہ رہتی ہیں مگر ان کے جانے سے جو خلا ہوتا ہے اسے پر کرنا کسی کے بس نہیں ہوتا۔ احمد ندیم قاسمی بہت خوش قسمت تھا کہ اس کے کئی ادبی حوالے ہیں مگر اسے زندہ رکھنے کے لیے ایک فنون ہی کافی ہے۔ اسی طرح اگر ہم خالد احمدکی بات کریں تو اگر چہ خالد احمد کی شاعری سے کمٹمنٹ اسے کبھی نہیں مرنے دے گی مگر رسالہ بیاض ، الحمرا اور ادبی بیٹھک اس کی یادوں کو دوام بخشتے رہیں گے۔ ابھی ہم ان سوچوں کے حصار سے نہیں نکلے تھے کہ ’بستی‘ کا ’آخری آدمی‘بھی داخل جنت ہوا۔ انتظار حسین نے بڑی بھر پور زندگی کی۔ وہ مجلسی آدمی تھا۔ اپنے محدود دوستوں سے تو بہت حد تک بے تکلف تھامگر احمد ندیم قاسمی اور خالد احمد محفل میں رنگ بھرنے کے ماہر تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ کہ ان کے ہاں شاعری کا ہنر، زیادہ لوگوں کو اپنی جانب کھینچ لاتاتھا۔ ان دونوں کے رخصت ہونے سے مجلس ترقی ادب اور ادبی بیٹھک جی بھر کے ویران ہوئیں۔ اب آیئے ! دو مزید بیٹھکوں کی کہانی سنیں…. !

دونوں بیٹھکیں اداس ہیں….

وہ پچھلے کچھ دنوں سے علیل تھا۔ اس کی تیمار داری اس کے عزیز ترین دوست مبارک احمد کا بیٹا ایرج مبارک کررہا تھا جو کہ اپنے والد کی وفات کے بعد سے یہ ذمہ داری نبھا رہا تھا۔ اس کی بیماری کی وجہ سے شہر لاہور کی دونوں ادبی نشستیں ملتوی کرنا پڑیں کیوں کہ وہ ان ادبی محفلوں کی جان تھا۔ بر صغیر پاک و ہند کے عظیم افسانہ اور ناول نگار انتظار حسین نے بھر پور ادبی زندگی گزاری۔ کسی کو بھی شہر میں یقین نہ تھا کہ ہسپتال میں اس کا آخری پھیرا ہے۔ جیسے ہی ایرج مبارک نے اسے ’خدا حافظ میرے دوست‘ کہا تو پورا ادبی جہان لرز کر رہ گیا، سننے والوں کے ہونٹوں پر جیسے تالے لگ گئے ہوں۔ اس خیال سے تو ہمارا بھی دل ڈوب گیا کہ :

جو تھی روشنی تیری بزم کی اسے کیا ہوا
وہ جو ہم نوا تیرے ساتھ تھے ، وہ کیا کریں

(یہاں میری مراد حرف و لفظ کے ذوقی بشمول مسعود اشعر ، اکرام اللہ، زاہد ڈار، ایرج مبارک اور گل نار تبسم ہیں)

بتاتی چلوں کہ نیر علی دادا کی نیرنگ آرٹ گیلری میں ہر ماہ فنون لطیفہ سے متعلقہ ایک نشست ہوتی ہے جہاں انتظار حسین لازمی شرکت کیا کرتا تھا۔ انتظار حسین انتہائی کم گو تھامگر جب بولتا تو خوب بولتا۔ اللہ پاک نے اس بندے کو ذہانت اور بلا کا حافظہ عطا کر رکھا تھا۔ 92 سال کی عمر میں بھی آپ اس سے ماضی کے تمام قصے اور عصر حاضر کی ساری صورت حال سن سکتے تھے۔ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ پہلے نیرنگ آرٹ گیلری سے فون آیا کہ فلاں تاریخ کو ماہانہ نشست ہے پھر دو تین دن کے بعد نیرنگ ایڈمن سے ایک اور کال آئی کہ انتظار حسین کی ناسازی طبع کے باعث آ ج کی نشست ملتوی کی جاتی ہے۔ کچھ دن قبل ادارہ مطبوعات اور حلقہ ارباب فنون نے میرے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ میں نے ایرج مبارک کو بھی مدعو کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں تو کئی دن سے ہسپتال میں ہوں۔ استفسار پر اس نے بتایا کہ انتظار حسین کی طبیعت سخت خراب ہے۔ اگر دو تین گھنٹے کے لیے بھی وہ ٹھیک ہوئے تو میں تقریب میں ضرور حاضری دوں گا۔ ایرج مبارک خود بھی حلقہ فنون لطیفہ کی ماہانہ نشست میں ادبی گپ شپ کا انتظام کرتا ہے۔ جس میں انتظار حسین محفل کی جان ہوتا تھا عموماً وہ اس نشست کا صدر ہی ہوتا تھا۔ جہاں گفتگو کا سلسلہ ایرج مبارک، شفیق احمد خان، جمیل احمد عدیل ، وجاہت مسعود، ڈاکٹر غافر شہزاد، اکرام اللہ، زاہد ڈار، اور مسعود اشعر وغیرہ سے ہوتا ہوا انتظار حسین پر آکر ختم ہو جاتا۔ دو مہینے قبل اسی محفل میں انتظار حسین کے یار غار جناب احمد مشتاق پر ڈاکٹر غافر شہزاد نے اپنا تنقیدی تحقیقی مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں انہوں نے بہت سے سوال بھی اٹھائے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انتظار حسین اپنے دیرینہ دوست اور خود پر تنقید نہ سن سکیں گے۔ مگر انہوں نے نہایت انہماک سے نہ صرف مضمون سنا بلکہ مضمون نگار کو سراہا بھی۔ کہنے لگے میاں بہت عرق ریزی سے لکھا ہے۔ اسی نشست میں جمیل احمد عدیل جو کہ خود بھی بہت اعلیٰ پائے کا افسانہ ، ناول اور کالم نگار ہے ، کو سن کر انتظار حسین بہت خوش ہوا اور اسے مزید تاکید کی کہ اس ماہانہ نشست میں آیا کرے۔ جمیل احمد عدیل اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس بزم میں تشریف لے ہی آئیں گے مگر ان کا شکوہ بجا کہ اے انتظار حسین مجھے بلا کے خود اگلا سفر پسند کیا۔ کیا کوئی اپنے چاہنے والوں سے یوں بھی کرتا ہے؟ یوں تو ایرج کی محفل میں سب ہیں بس انتظار حسین نہیں ہیں ، مگر سب دیگران کی موجودگی میں سب دیگر ان سے زیادہ ذکر انتظار حسین ہی کا ہے۔

آج بھی ایرج مبارک کی ماہانہ ادبی بیٹھک جمی ہے۔ موضع سخن انتظار حسین ہی ہے۔ لوگ ایرج سے اس کی باتیں کر رہے ہیں۔ اپنی یادداشتیں شیئر کررہے ہیں۔ وہ ایرج مباک سے انتظار حسین کے آخری لمحات کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ ایرج بولنے سے پہلے سوچ رہا ہے کہ

لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے
میں کیسے بات کروں کہاں سے لاؤں اسے

لوگوں کے سوال پر انتظار حسین کے ساتھ وہ بیتے ہوئے ماہ و سال کی باتیں کرنے گا، اس کے اچھے برے دنوں کے قصے سنانے لگا۔ باتیں کرتے کرتے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ لگ رہا ہے انتظار حسین ہمارے سامنے ہی بیٹھا ہے ، ہم سب کے ساتھ انتظار حسین کی آنکھیں بھی بھیگ گئی ہیںکہ ہ ایرج کی محفل میں خوش تھا۔ شاید وہ اس محفل سے جانا بھی نہ چاہتا ہو۔ جہاں گیا ہے یقیناً اسے اس کے سارے دوست مل گئے ہوں گے۔ وہ فراق، فیض، کرشن چندر، منشی پریم چند، فراز، احمد ندیم قاسمی ، منیر نیازی وغیرہ سب سے معانقہ کر رہا ہو گا اور پھر ناصر کاظمی اسے ایک جانب لے گیا ہو گا جہاں وہ بیتے دنوں کی داستانیں ایک دوسرے کو سنا سنا کر خوب مزے لے رہے ہوں گے۔ مگر ان دوستوں کے ساتھ اس کی معاصرانہ چشمک بھی ہو گی۔ یہاںوہ اکیلا راجا تھا اور ہم سب محبت بھرے جذبات سے اس کے مرید بن کر اس کی خدمت کرتے تھے۔ ایرج مبارک نے انتظار حسین کی ایک تصویر بھی فریم کرائی ہے جو پاک ٹی ہاﺅس میں لگانی ہے۔ آج وہ تصویر محفل کے عقب میں کارنس پر رکھی تھی۔ ادیب اس سے باتیں کر رہے تھے۔ اس کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور وہ مسکرا رہا تھا۔

اسی طرح نیرنگ آرٹ گیلری میں نیر علی دادا اپنے دوستوں میں ایک انتظار حسین کی خالی کرسی دیکھیں گے تو کس قدر ملول ہوں گے۔ اپنی گیلری میں انہوں نے ایک اور گوشہ بنا دیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے شہزاد احمد کی یاد میں ایک گوشہ بنا رکھا ہے جہاں پر ہر ماہانہ نشست میں شہزاد احمد کے بیٹے بھی آکر بیٹھتے ہیں۔ دونوں ماہانہ ادبی بیٹھکوں میں انتظار حسین کا خلا کون پر کرے؟ انتظار حسین بہت یاد آﺅ گے….

اجڑتی جاتی ہے چوپال اور نہیں معلوم
کہاں گئے جو یہاں داستاں سناتے تھے

حلقہ ارباب فنون لطیفہ میں انہوں نے اب اپنی زندگی کی آخری شرکت کی تو میں نے اس کو حلقہ ارباب ذوق کی کتابیں پیش کیں۔ پہلے تو کہنے لگاکہ یہ اتنی موٹی موٹی آپ کی کتابیں ہیں ؟میں نے بتایا کہ یہ حلقہ ارباب ذوق کی وہ تاریخی دستا ویز ہیں جو پچھلے دو سالہ حلقہ ارباب ذوق کی انتظامیہ کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس پر کہا کہ یہ تو بہت بڑا کام کیا گیا ہے۔ میں نے اثبات میں تعریف سمیٹی تو وہ حسب معمول وہیں کھڑے کھڑے ان کتابوں کی تھوڑے وقت کے لیے ورق گردانی کرنے لگا کہ اسے گھر چھوڑنے کے لیے ایرج مبارک کی گاڑی آگئی۔ جاتے جاتے اس نے مسکرا کر میری جانب دیکھا اور کتابوں کو بغل میں دبا کر بولا کہ میں ان شااللہ ان کو پڑھوں گا۔ وہ ان کتابوں کو گھر لے گیا۔ حلقہ ارباب ذوق کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انتظار حسین کے آخری دنوں میں حلقہ ارباب ذوق کی یہ دو برسوں کی کمائی اس کے زیر مطالعہ رہی۔

انتظار حسین نے جی بھر کے اس صدی اور پچھلی صدی کی ادبی دنیا پر حکومت کی۔ اس نے اپنا اسلوب وضع کیا اور کرافٹنگ سے اپنی الگ شناخت بنائی۔ اس نے اپنے ڈھنگ اوراپنے منفرد لہجے سے داستانی فضا بنائی۔ اس نے اپنے اسلوب اور اپنے کرداروں کو اپنے عصری تقاضوں کے مطابق برتا۔ ا س نے بڑی چابک دستی سے اپنی تخلیقات میںتوانایاں بھریںکہ صفِ اول میں سے نکل کر قائد ِ نثر بن گیاجہاں ہمیں ماضی کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے، اساطیری رجحانات بھی ہیں، ناسٹیلجیا بھی ہے، ماضی پر نوحہ گری بھی ہے ، ماضی پرستی بھی ہے، اقدار کے لٹنے اور بکھر نے کا ماتم اور سینہ کوبی بھی ہے، روایت میں سر چھپانے کی تڑپ بھی ہے، کلاسیک سے جذبات کی جڑت بھی ہے اور علامتی اور استعاراتی حسن بھی اپنی جمالیات سمیت موجود ہے۔
گویا کہ منظر نقوی کی زبان میںانتظار حسین یوں کہتے کہتے سو گیا کہ

حکایتوں کی روایت کے پاسباں ہم ہیں
ہماری فکر میں روشن ہیں رفتگاں کے چراغ

انتظار ان خوش نصیبوں میں سے تھا جس کا نام بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے اس کو کمال فن ایوارڈ سے نوازاجو کہ اکادمی ادبیات پاکستان کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ انتظار حسین وہ خوش بخت نثر نگار ہے کہ جس کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز جیسے بڑے اعزازسے بھی نوازا۔ آج اس کا دل نشین لہجہ بھی اس کے ساتھ ہی رخصت ہوا۔ بلاشبہ اس کے رخصت ہونے سے پاکستان کی ادبی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ :

درد آنکھوں میں بھر گیا سارا
جب یہ لفظوں میں ڈھل نہیں پایا


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

  • 13-02-2016 at 3:25 pm
    Permalink

    Bahut khoob likha hay. Marhoomeen ki liyay accha khiraaj e tehseen hay

  • 13-02-2016 at 9:20 pm
    Permalink

    میری سمجھ میں یہ بات نہیں اآتی کہ ہم ان شخصیات کے بار ے میں جو اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں تو تڑاخ سے کیوں بات کرتے ہیں جیسے کہ اس مضمون میں احمد ندیم قاسمی خوش قسمت تھا یا انتظار حسین مجلسی اآدمی تھا انتہائی کم گو تھا لیکن جب بولتا تھا تو خوب بولتا تھا۔ ۔۔یہ عجیب محبت اور قربت کا اظہار ہے۔
    کیا ہو گیا ہے ہمیں ؟ ہم نے اپنی تہذیب کے دامن تار تار کر دئے ہیں۔

    • 19-02-2016 at 9:12 am
      Permalink

      لفظ تو کا ستعمال ادب میں منع نہیں
      تو مالکِ کائنات
      اس کے محبوب نبی
      اور دیگر شخصیات کے لئے بھی مستعمل رہا
      جب آپ سے بات تو تک پہنچے تواس تعلق کے کیا کہنےاور یہ وہی آدمی لکھ سکتا ہے جو اس تعلق تک پہنچا ہو

      ہمیں اس تحریر میں اور باتیں بھی ملتی ہیں ان سے بھی تعلق ظاہر ہوتا ہے
      عمدہ کالم لکھا مبارک جی

Comments are closed.