بھارتی اداکارہ ریکھا نے ماضی میں جنسی استحصال کی کہانی لکھ دی


\"\"بھارت کی لیجنڈ اداکارہ ریکھا نے اپنی سوانح عمری میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے کیرئر کی ابتدا میں جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ امور کے دوران اس زیادتی پر کسی نے ان کے حق میں آواز نہیں اٹھائی۔

یہ معاملہ ریکھا نے یاسر عثمان کی تصنیف کردہ سوانح عمری میں تکلیف دہ تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ یہ کتاب گزشتہ ماہ شائع ہوئی ہے۔ ریکھا نے بتایا ہے کہ ان کی عمر اس وقت صرف پندرہ برس تھی اور انہیں یہ آزمائش چپ چاپ برداشت کرنا پڑی۔

ریکھا نے بتایا ہے کہ وہ 1969ء میں اپنے کیریئر کی پہلی فلم \”انجانا سفر\” کے سیٹ پر موجود تھیں۔ بسوا جیت فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ بسوا جیت نے فلم کے سیٹ پر زبردستی پانچ منٹ تک ان کے ساتھ بوس کنار کیا۔ اس دوران ہدایت کار اس منظر کی فلم بندی کرتے رہے اور موقع پر موجود ہجوم سیٹیاں بجاتا اور تالیاں پیٹتا رہا۔

\"\"حیران کن طور پر اس واقعے کی تفصیلات 1972 میں بننے والی معروف فلم لاسٹ ٹانگو ان پیرس کے بارے میں سامنے آنے والے واقعات سے ملتی جلتی ہیں۔ اس فلم میں مرکزی کردار مارلن برانڈو ادا کر رہے تھے جن کی عمر اس وقت اڑتالیس برس تھی۔

ان کے مقابل اداکارہ ماریہ شنائیڈر کی عمر صرف انیس برس تھی۔ 2007 میں ایک انٹرویو کے دوران ماری شنائیڈر نے بتایا کہ اس فلم کا ایک بدنام منظر اسکرپٹ کا حصہ نہیں تھا۔

\"\"

درحقیقت ہدایت کار برناڈو برٹولوچی اور مارلن برانڈو نے ان سے اس منظر کی تفصیل خفیہ رکھی تھی۔ اگرچہ یہ منظر حقیقی نہیں تھا لیکن ماریہ نے اس پر اس قدر ذلت اور بے عزتی محسوس کی کہ وہ حقیقی طور پر آنسو بہا رہی تھیں۔ ماریہ کا کہنا تھا کہ انہیں مزید افسوس اس بات پر تھا کہ مارلن برانڈو نے بعد ازاں انہیں تسلی دینے یا معذرت کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی۔

شنائیڈر کے اس انٹرویو کے بعد ہدایت کار برٹولوچی نے کہا تھا کہ انہوں نے اداکارہ سے حقیقی تاثرات حاصل کرنے کے لئے انہیں تاریکی میں رکھا تھا۔ تاہم فلم سازی کے ماہرین نے اس جواز کو محض بہانہ سازی قرار دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں فلم کی دنیا میں اس قسم کے واقعات کو قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا تھا۔ عورتوں کے حقوق کے تحریک کے نتیجے میں جنسی ہراسانی کے بارے میں حساسیت پیدا ہوئی ہے۔ اب کسی اداکار کو اس کی واضح اور صریح رضامندی کے بغیر کسی منظر کی فلم بندی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔