میجر عامر کی وصی بابے کو ایک نصیحت


\"\"

پندرہ سال ہوئے جب ہم نے پشاور کا ایک ویب پورٹل بنایا تھا۔ وہ خود ہی ایک نیوز پورٹل بن گیا۔ حالانکہ ہم لوگوں نے اس میں سینکڑوں گانے اپ لوڈ کیے تھے۔ ہمارے ریجن کے لکھنے والے نامی لوگوں کی اکثریت اس پورٹل پر لکھنے لگ گئی تھی۔ پختون لکھاری ہوں یا ہندکو بولنے والے سب خود ہی آ گئے تھے۔

ویب سائٹ اک دن بند ہو گئی تھی۔ مالی انتظامی وجوہات کی بنا پر۔

ہمارے دفتر اور ہمارے شہر کے لوگ، ہمارے صوبے کے سیاستدان اور لکھاری ہماری حوصلہ افزائی کو آیا کرتے تھے۔ وزرا بھی آتے تھے اپوزیشن والے بھی اور وہ سب بھی جن کے پاس ہمیں خود چل کر جانا چاہیے تھا۔ گیان لینے کو۔ یہ ملاقاتیں اس ویب پورٹل کا تجربہ وہاں کی بنی ہوئی دوستیاں اک پیاری یاد ہیں۔

خالد سلطان ہمارے دوست بھی ہیں استاد بھی۔ تعلق ان کا پنج پیر صوابی سے ہے۔ پنج پیر کا مشہور مدرسہ مولانا طاہر نے قائم کیا تھا۔ مرحوم مولانا طاہر خالد سلطان کے سسر ہیں۔ مولانا طیب اور میجر عامر، مولانا طاہر کے فرزند ہیں۔ میجر عامر آئی ایس آئی میں رہے۔ مشہور بھی ہیں متنازعہ بھی ہیں۔ اسلام آباد میں ان کا گھر آج بھی وہ پاور ہاؤس ہے جہاں خبریں چل کر آتی ہیں۔ جہاں سے خبر نکلتی ہے تو ہر جانب پھیل جاتی ہے۔

ان دنوں ہم چاہتے تھے کہ میجر عامر بھی ہمارے دفتر آئیں۔ خالد سلطان اور سلیم صافی انہیں گھیر کر ہمارے دفتر لے آئے۔ ہمارے کام کو دیکھا ہماری تعریف کی۔ ہر قسم کے سرخ سبز لکھاریوں کے ہماری ویب سائٹ پر جمع ہونے پر اظہار حیرت کیا ہم لوگوں کو شاباش دی۔ اس شاباش اور ذاتی تعلق سے جرات پا کرہم سب نے انہیں باجماعت دعوت دی کہ آپ ہماری ویب سائٹ پر لکھیں۔ یہ سن کر میجر عامر ہنسنے لگے اور بولے کہ کیوں مرواتے ہو۔

انکی بات کچھ سمجھ آئی کچھ نہ آئی۔ ان پر دوسرا حملہ کیا عامر بھائی کسی اور نام سے لکھیں لیکن لکھیں۔ میجر عامر نے جواب دیا کہ یار جس بھی نام سے لکھوں لکھنا تو وہی ہے نہ جو میرا کام تھا۔ منٹ میں پہچانا جاؤں گا۔ کسی اور نام سے لکھنے کا تو مشورہ ہی دشمنی ہے۔ آپ لوگ جب اس فیلڈ میں آ ہی گئے ہو تو پھر اب گزارا کرنا بھی سیکھو۔

گزارا کرنا کی سمجھ نہ آئی تو انہوں نے ایک قصہ سنایا۔ میجر عامر نے کہا ایک آدمی تھا اس نے کوئی جرم کیا اسے قید ہو گئی۔ وہ جیل میں قیدیوں کو کہتا کہ جب میں رہا ہو جاؤں نہ تو میری جگہ کسی اور کو مت دینا۔ میں نے بس باہر جانا ہے۔ اپنے بقیہ دشمنوں کو ٹھکانے لگانا ہے اور واپس آ جانا ہے۔ دو چار دن میں واپسی ہو گی تو میری یہ جگہ کسی کو مت دینا۔

قیدی ہر وقت اس کی واپسی کے نعرے سن سن کر پکے ہو گئے۔ جب اس نعرے باز قیدی کی رہائی کا وقت آیا تو اپنے جیل کے ساتھیوں سے اس نے پھر پکے قول قرار کیے کہ میں بس گیا اور آیا۔ وہ باہر چلا گیا۔ کئی دن گذرے۔ ہفتے گذرے۔ اس کی واپسی نہ ہوئی۔ آخر جیل میں موجود اس کے ساتھیوں نے اس کو پیغام پہنچایا کہ کیا بنا۔ تمھیں دشمنوں کو ٹھکانے لگانے میں دیر ہو رہی ہے کیا۔ تمھاری جگہ ہم نے خالی رکھی ہوئی ہے۔ تمھارا بستر بھی ویسے ہی پڑا ہے۔

آزاد ہو جانے والے قیدی نے باہر سے پیغام بھجوایا کہ میرا بستر اور میری جگہ جس کو مرضی دے دو۔ میں نے اب گزارا کرنا سیکھ لیا ہے۔

دو ہزار آٹھ کے الیکشن میں آبزرور کی ڈیوٹی لگی۔ ہمارا ٹیم لیڈر ایرک تھا۔ وہ این انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کا ایشیا کے لئے چیف تھا۔ الیکشن کے دن ہم ہر اس جگہ صورتحال کا جائزہ لینے گئے جہاں جانے سے ہمیں منع کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی خدشات تب زیادہ تھے، ہم شکایت ملنے پر پولنگ کا دورہ کرتے۔ زیادہ تر شکایات ہوائی ہی ثابت ہوتیں۔

شام کو جب تھکے ہارے بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ایرک بولا دیکھو اپنے خیالات کا اظہار بھی ایک جنگ ہی ہوتا ہے۔ جنگ اہم ہوتی ہے لیکن زندہ رہنا اس سے بھی اہم ہوتا ہے۔ رسک لینا اچھا ہوتا ہے لیکن رسک کی اسیسمنٹ کرنا اس سے بھی اچھا ہوتا ہے۔ جب تم اپنے خیالات کے اظہار کو جنگ ہی سمجھتے ہو تو پھر زندہ رہنا، سامنے رہنا اور بات کہتے رہنا ہی سب سے زیادہ اہم ہے۔ اپنی بات ایسے کہنا سیکھو کے اگلے دن پھر کہہ سکو۔ ایسے مت کہو کہ ایک ہی بار کہہ کر کسی ردعمل کا شکار ہو جاؤ۔ ہمارے کچھ ساتھی بلاگر غائب ہو گئے ہیں۔ یہ سب جو ٹھیک سمجھتے تھے وہی کہتے تھے۔ ان کی ہم خیریت چاہتے ہیں۔ ان کے خاندان ہیں، دوست ہیں، جو ان کے لئے فکرمند ہیں۔

ایک افسوس ہے کہ ان سب کو وہ پیغام بروقت نہیں دے سکا۔ جو اس فیلڈ میں آتے وقت ہمیں ہمارے دوستوں نے بڑوں نے دے دیا تھا۔

ایرک ہو یا میجر عامر ہوں، ان کا اپنے دوستوں کے لئے پیاروں کے لئے پیغام ایک ہی تھا، ایک ہی ہے، اپنی بات کہنے کے لئے زندہ رہو۔ موجود رہو اور گزارا کرنا سیکھو۔ اپنی بات روز کہنے آؤ تاکہ اپنی آنکھوں سے اپنی خواب پورے ہوتے دیکھو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 244 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “میجر عامر کی وصی بابے کو ایک نصیحت

  • 13-01-2017 at 12:45 am
    Permalink

    سچ اچھا،
    پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا،
    تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پر چڑھو،
    خاموش رہو،
    حق اچھا،
    پر اس کے جلو میں زہر کا پیمانہ بھی
    پاگل ہو،
    کیوں نہ حق سقراط بنو،
    خاموش رہو.

Comments are closed.