آدرش اور حقیقت کے درمیان ’ہم سب‘


\"\"’ہم سب‘ کو ساتھ نبھائےایک سال مکمل ہوا۔ دوستوں نے ایک دوسرے پر خوب محبت نچھاورکی، خاکے لکھے بھی اور اڑائے بھی۔ راقم پر مشکل پسندی اور ادق زبان میں لفاظی کا الزام ہے لہٰذا کم از کم سالگرہ کے موقع پر طویل نظر خراشی کا ارتکاب نہیں کروں گا۔ گزشتہ سال پر محیط یہ سفر کئی ذاتی اور اجتماعی وابستگیوں کے حوالوں سے بہت خوبصورت رہا۔ ہمارے سماج میں دلیل، مکالمہ، مباحثہ، تنقید، تجزیہ اور اسی قسم کی دوسری اصطلاحات بہت پامال ہیں کیوں کہ کئی نفسیاتی مجبوریوں کے باعث اپنے من پسند مفروضوں کی تبلیغ و ترسیل کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ تمام اصطلاحات جو دراصل سماجی و سیاسی ابلاغ اور رائے عامہ کی ہمواری سے متعلق ہیں، بالآخر واضح طور پر اپنے ہی قائم کردہ آدرشوں پر سمجھوتے پر مائل نظر آتی ہیں کیوں کہ ان کی تہہ میں کچھ ایسے مفروضے کار فرما ہوتے ہیں جن پر آخری حد میں سمجھوتا ممکن نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر اگر سماجی تشکیل کے مفروضے منقول الہامی روایت سے اخذ کیے جارہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلسل مکالمے، مدلل مباحثے یا مجرد تجزیہ و تنقید کا عمل کسی فرد یا طبقے کو ان پر نظر ثانی پر آمادہ کر دے؟ دوسری طرف اگر یہ مفروضے انفرادی و اجتماعی تجربات کے کچھ معقول نتائج پر مبنی ایک طویل سفر کا نتیجہ ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی قسم کی تنقید مسافر کو واپس لوٹنے اور سفر از سرِ نو شروع کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو جائے؟

شطرنج کی اس معلق بازی میں ہمارا نتیجہ یہ ہے کہ میدان چاہے خالص علمی ہو یا سیاسی و سماجی، خواہ حق و باطل کو حتمی قطعیت کے ساتھ جان لینے کا زعم ہو یا حق و باطل کی جستجو یا تلاش کا دعویٰ، بہرحال عوامی رابطے کی یہ تمام صورتیں نظریاتی جبر کی جانب ہی بڑھتی نظر آتی ہیں۔ بار بار دہرایا جانے والا سادہ سا سوال یہی ہے کہ نظریاتی جبر کی منطق کیا ہے؟ تہہ میں اترنا ہو تو اس سوال کو یوں قائم کر لیجیے کہ اگر کسی بھی نظریاتی وابستگی کا اگلا منطقی پڑاؤ اس نظریے کی تبلیغ و ترسیل ہے اور اس کا حتمی پڑاؤ اطلاق ہےجو بظاہر طاقت کے بغیر ممکن نہیں، تو پھر کیا یہ منطقی نہیں کہ طاقت کی حصول کی کوشش کی جائے؟ ہماری رائے میں تجزیاتی تفصیلات کے علاوہ اس واقعے سے منطقی خدوخال میں کوئی تبدیلی نہیں آتی کہ طاقت کے حصول کے پیچھے کارفرما نظریہ الہامی ہے یا غیر الہامی۔ لہٰذا سماجی میدان میں تجزیہ و تنقید یا مکالمہ دراصل ایک اکثریت کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سیاسی جبر پر قائل ہو جائے اور یوں اس جبر کا سماجی اطلاق معقول ٹھہرے۔ یہ فلسفۂ سیاسیات کا ایک قدیم مسئلہ ہے جو فرد پر معاشرے کے جبر و اختیار سے تعلق رکھتا ہے اور اس پر کوئی رائے رکھنے کے لئے ہرگز کسی قسم کی فلسفیانہ لفاظی حتی کہ غیر رسمی تفلسف تک کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کی بنیادی اور خام آراء تو فی نفسہٖ ہمارے ذہنی میلانات اور انفرادی تجربات سے ہی پھوٹتی ہیں۔

اس پس منظر میں اِس طفلِ کج مج بیان کے لئے روزِ اول ہی سے’’ہم سب‘‘ میں صیغۂ جمع متکلم کا استعمال بہت معنی خیز ہے کیوں کہ یہ دفعتاًایک مجرد آدرش تک رسائی دیتا ہے۔ یہ مجرد آدرش مکالمے، مباحثے یا کسی خوبصورت ابلاغی نظریے کی وکالت نہیں بلکہ صرف اور صرف ایک عام انسان کو ایک عام سی ’’ گفتگو‘‘ کی اجازت ہے۔ یوں ’ہم سب‘ کسی بھی قسم کی سماجی تحدید سے بالاتر ہو کر مکمل سماج کو کسی نہ کسی تصوراتی اکائی میں سمو دینے کا استعارہ ہے۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟

ہماری رائے میں امکانی دائرہ مرتب کرنے کی خواہش رکھنے والا یہ سوال بذاتِ خود گفتگو کے سادہ سے آدرش میں پیچیدگی پیدا کر دینے بلکہ اس کی نفی کر دینے کی ہی ایک کوشش ہے۔ گفتگو کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ کسی خوف کے بغیر اس نیت سے بات کہہ دی جائے کہ دوسرا متکلم کی مراد سمجھ جائے۔ متکلم کی مراد سمجھنا اس کے مفروضوں تک رسائی ہے، اس کے مفروضوں تک رسائی کے نتیجے میں جبلی طور پر اپنے مفروضوں کا ردعمل لازمی ہےاور اس عمل ردعمل میں پھر وہی نظریاتی جبر پیش قیاس ہو جاتا ہے۔ اس تکرار سے بچنے کا ایک طریقہ تو یہی ہے کہ خاموشی کو ترجیح دی جائے اور معلق بازی کو یوں ہی چھوڑ کر کسی اور کھیل کا رخ کیا جائے۔ دوسری پیچیدہ صورت یہ ہے کہ ہار جیت سے بے نیاز ہو کر صرف اور صرف کھیلتے رہنے ہی کو آدرش مانا جائے۔ یعنی صرف اور صرف گفتگو۔ جو بھی آپ کے ذہن میں ہے بس کسی خوف کے بغیر کہہ ڈالیے۔ یقیناً کسی بھی آدرش کی طرح یہاں بھی کچھ سمجھوتے لازمی ہیں لیکن بہرحال حتمی منزل ایک ایسے ہی سماج کی تشکیل ہے جہاں کم از کم تحریر و تقریر پر کوئی پابندی نہ ہو۔ ان معنوں میں اگر ’ہم سب‘ کو ہمارے مکمل سماجی سفر میں ایک پڑاؤ سمجھا جائے تو وہ پڑاؤ گفتگو کے ایک ایسے افق کی تشکیل ہے جس کا تنوع نظری طور پر لامتناہی ہو۔ ’’ہم سب‘‘ کے معنوں میں کوئی نظریاتی تہہ نہیں۔ یہاں کوئی ایسی تہہ در تہہ گھتیاں نہیں جو سلجھائے جانے کی منتظر ہوں۔ آخر ہم سب کے معنی ہم سبھی کے علاوہ اور کیا ہو سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ ہمارے سماجی وجود کو تشخص عطا کر دینے والا استعارہ ہے۔

بہرحال آدرش پھر آدرش ہیں اور حقیقت سے ان کا ایک ناگزیر فاصلہ کسی نہ کسی صورت قائم رہتا ہے۔ لیکن ایک سال کے سفر کے بعد اگر بیان کردہ واحد آدرش کو پس منظر میں رکھتے ہوئے صرف یہ سوال قائم کر لیا جائے کہ کیا ’ہم سب‘ اپنی اپنی بات کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں تو پاکستانی سماج کا جواب ہاں میں ہی ہو گا۔ یہ بات کرنے کا ہی نتیجہ تھا کہ سوشل میڈیا کے ہائیڈ پارک میں ’ہم سب‘ کو بائیں جانب تصور کرتے ہوئے دائیں جانب مزید گوشے سامنے آئے۔ کئی دوستوں نے گفتگو کے اس آدرش کو مفید تسلیم کرتے ہوئے کچھ نئے گوشوں کی بنیاد ڈالی۔ ردعمل بھی سامنے آیا۔ کئی احباب نے ’ہم سب‘ کے صفحات ہی کو تنقید کے لئے منتخب کیا تو کئی نے اپنے انفرادی سوشل میڈیا صفحات کو۔ ’ہم سب‘ کی استعاراتی تحدید کرنے کی شدید خواہشات بھی سامنے آئیں اور ’وہ سب‘ کی پھبتی بھی کسی گئی۔ اشتراکیت پسند اور نیم اشتراکی فکر رکھنے والے دوستوں نے اسے ایک سرمایہ دارانہ لبرل پلیٹ فارم کہا تو مذہب پسند دوستوں نے سیکولرازم بمعنی لادینیت کی تہمت لگائی۔ ہماری رائے میں اس سارے طرزِ عمل کو سماجی تناظر میں دیکھا جائے تو نتائج نہایت ہی مثبت ہی نکلتے ہیں۔ اگر بات نہیں کہی جائے گی تو مفروضے سامنے نہیں آئیں گے اور اگر مفروضے سامنے نہیں آئیں گے تو ان کے ردعمل میں موجود مفروضے بھی سامنے نہیں آ سکیں۔ جب تک یہ تمام مفروضے اپنی تمام تر پیچیدگیوں، سطحیت، حسن و قبح اور صحت و سقم کے ساتھ سامنے موجود نہیں ہوں گے اس وقت تک ان میں ترجیح و انتخاب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکے گا۔ یہ ایک ربطِ مسلسل ہے جو تاحال ہمارے معاشرے میں اس حد تک قوت سے سامنے نہ آ سکا تھا۔ ہم باآسانی دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم پچھلے سال میں کم از کم ایک قدم آگے ضرور بڑھے ہیں۔

اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ ’ہم سب‘ کی حیاتیاتی زندگی کتنی ہو گی۔ پانچ سال، دس سال یا پھر پچاس سال لیکن کم از کم پاکستانی سوشل میڈیا صحافت کے اولین دور میں ’ہم سب‘ کا ایجاد کردہ آدرش ضرور لافانی ثابت ہو گا۔ یہ آدرش ایک عام پاکستانی شہری کو بات کرنے کا حق دینے اور اپنی بات دوسروں تک کسی بھی من پسند اسلوب میں بذریعہ متن پہنچا دینے کے زیادہ سے زیادہ امکانات فراہم کرنے کا سادہ سا آدرش ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 60 posts and counting.See all posts by aasembakhshi