خواتین کے سر کی ننھی سرکار


\"\"

خواتین کتنی خوبصورت ہوتی ہیں۔ اف۔ سبحان اللہ۔ ماشااللہ۔ کہنے کو دل للچاتا ہوگا آپ کا؟ لیکن دل کی حسرتیں دل میں ہی رہ جاتی ہوں گی۔ جب آپ ان کی زلفوں میں ناچتی جوؤں کا رقص دیکھتے ہوں گے، جو مچل کر ہواؤں میں اڑنے کی خواہش لئے، صراحی جیسی نازک و نفیس گردن سے بغیر پیراشوٹ کے چھلانگ لگانے کو مچل رہی ہوتی ہیں۔ یقین کریں ان کا دل بھی آپ کے لئے بیتاب ہوتا ہے کہ کب آپ اپنی محبوبہ کی زلفوں میں ہاتھ پھیریں اور وہ محبت کی تاب نہ لا کر آپ کے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر اپنی جان دیں دیں۔ لیکن ایسا موقع بے چاریوں کو میسر نہیں آتا، انتظار ہی بے چاریوں کا ملال بن جاتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اگر بیگم بننے والی خاتون جوؤں کی فوج رکھتی ہوں تو آپ کی دو شادیاں ہوتی ہیں۔ پہلی اپنی ہونے والی بیگم سے جب کہ دوسری ان کے سر میں پائی جانے والی سپہ سالار جوؤں سے۔

آپ کی شادی جتنی قریب ہوتی جاتی ہے، جو ئیں بھی خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ آپ کیی شادی خانہ آبادی سے پہلے ان کی آباد کاری میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور وہ ننھے ننھے موتیوں کی لڑیوں کی شکل میں آپ کی ہونے والی بیگم کو دھکوں کا تحفہ دینے لگ جاتی ہیں۔ آخر ان کا بھی دل ہوتا ہے، ارمان ہوتے ہیں۔ آپ کو کیا پتہ جوئیں کتنا درد سہتی ہیں۔

آپ کی بیگم کھبر کھبر کر کے ان کو لہو لہان تو کردیتی ہیں، مگر نکالتی نہیں۔ کچھ خواتین کی تو زلفیں اتنی لمبی ہوتی ہیں کہ وہ کنگھی پھیرنے میں بھی الکساتی ہیں۔ سوچئے ذراکیا حال ہوتا ہوگا ننھی ننھی جانوں کا۔ جب آپ بیگم سے محبت کر سکتے ہیں تو اس کی جوؤں سے کیوں نہیں؟ آخر مرد بھی تو بیوی کے سر کی صفائی کرسکتا ہے؟ کیا یہ محبت نہ ہوگی؟ محبت تو محبت ہوتی ہے، پھر کیسا تکلف؟ کیسی شرم؟ بس کنگھی لیجیے اور شروع ہوجائیے، ورنہ ایسا نہ ہو کہ سر عام آپ کی صفائی ہورہی ہو۔

خواتین کی پلی پلائی فوج بستر پر بھی خوب مزے سے ایک تکیے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تکئے پر اپنے نئے شکاری کیی تلاش میں سرگرم رہتی ہیں، میں حیران پریشان ہوجاتی ہوں کہ بچے تو بچے ہوتے ہیں، اپنی صفائی کا خیال نہیں رکھ پاتے، سکول میں بچوں کو مختلف بچوں سے یہ جوئیں چڑھ جاتی ہیں، لیکن مائیں کیسے اتنی بے فکر رہتی ہیں۔

ایک مرتبہ میری امی نے مجھے بچپن میں ایک دوست کے ساتھ کھیلنے سے منع کردیا کے تم ہر روز جوئیں چڑھا کر آجاتی ہو، خبر دار جوو اب کھیلیں اس لڑکی کے ساتھ۔ دوست سے کہو کہ اپنی امی سے کہے کہ وہ اس کے سر کی صفائی کریں، جوئیں نکالیں، بری بات ہوتی ہے، اور یہ جملہ بھی امی کا یاد ہے جب میں جوئیں نکلواتے ہوئے روتی تھی کہ مجھے نہیں نکلوانی، درد ہوتا ہے، آپ بہت زور زور سے کنگھی کرتی ہیں، تو وہ مجھے یہ کہہ کر ڈراتی تھیں جو بچے جوئیں صاف نہیں کرواتے تو جوئیں ان کا سارا خون پی جاتی ہیں اور پھر بڑی ہوجاتی ہیں اور بچوں کوسمندر میں لے جاتی ہیں اپنے ساتھ۔

جب میں نے یہ سنا تو فوراً دوڑی دوڑی دوست کے پاس گئی اور بڑی محبت سے کہا’ جوئیں پکڑ کر سمندر میں لے جائیں گی، پاگل، میری امی نے آج بتایا ہے، تم بھی اپنی نکلوالو اپنی امی سے، آپ کو ہنسی آئے گی دوست کے جواب پر، اس نے کہا، میری امی جوئیں نہیں نکال سکتیں’ انہیں جوؤں سے ڈر لگتا ہے‘۔

میں بھاگی بھاگی اپنی امی کے پاس گئی اور بڑی حیرانی سے کہا کہ’امی وہ بے چاری جوئیں نہیں نکلواسکتی۔ اس کی امی کو تو ڈر لگتا ہے جوؤں سے، تو میری امی نے قہقہہ لگایا اور کہا اچھا میرے پاس لے آنا بیٹا میں صاف کردوں گی‘۔

آج بھی دوست کی امی کی بات یاد آتی ہے تو ہنسی آجاتی ہے، مگر بچپن الگ ہوتا ہے جوانی الگ، ہم اب بچے نہیں رہے جو سر میں جوؤں کی بارات لئے پھریں اور دھکیں موتیوں کی شکل میں چمکتی رہیں، صرف یہی نہیں ہم تبرک کے طور پر ٹپکاتے بھی پھرتے ہیں جوؤں کی فوج در موج۔ میں نہ جانے کتنی لڑکیاں ایسی دیکھ چکی ہوں جو بہت سلیقے طریقے سے آفس آتی ہیں۔ پڑھی لکھی ہوتی ہیں، خوش شکل، خوش گفتار ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے سر پر جوئیں ڈبل کیبن کی شکل میں چہل قدمی کر رہی ہوتی ہیں۔

سمجھ سے بالاتر کوئی بات ہے تو یہ کہ جو لڑکی میک اپ کی سمجھ رکھ سکتی ہے، فیش کرسکتی ہے وہ اپنا سر کیوں صاف نہیں کرسکتی؟ عجیب سی بات ہے کہ میک اپ کی دکان لئے لڑکیاں جوئیں ٹپکاتی پھرتی ہیں، ذرا بھی کراہت نہیں آتی آپ کو؟ لوگ کتنی گھن کھاتے ہیں آپ سے، اس بات سے بھی غافل ہیں آپ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔