گورنر تبوک، تلور کا شکار اور جنرل راحیل شریف!


موسم سرما آتے ہی پرندے اپنے قوت بازو اور عربی شہزادے شاہی خرچے پر، ان پرندوں کا شکار کرنے پاکستان پہنچ جاتے ہیں۔ عربی شہزادے پرندوں کے شکار کے ساتھ ہی خشک میوے چلغوزوں سے بھی یقینا لطف اندوز ہوتے ہوں گے کیونکہ جب سے چلغوزے عربوں کو مرغوب ہوئے ہیں پاکستان میں چلغوزوں کی مانگ اور قیمت بہت بڑھ گئی ہے۔ پرندوں کے شکار کے لیے عرب شہزادوں کی جب آمد ہوتی ہے تو ان کو سرکاری مہمان کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ ملکی ادارے اور سرکاری اہلکار سب کچھ چھوڑچھاڑ کر ان کی خدمت میں لگ جاتے ہیں تاکہ مستقبل میں عربوں کا قرب حاصل رہے۔ مشاہدہ یہی ہے کہ عرب شہزادوں کو پاکستان میں جو بھی چیز پسند آتی ہے وہ پاکستان میں نایاب ہوجاتی ہے اور عام پاکستانی کی دسترس سے باہر ہوجاتی ہے۔ چاہے وہ عام استعمال کی اشیاءہوں یا ہنر مندو نیم ہنر مند افرادی قوت۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہوں یا پنے شعبے کے ماہرین۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی تو تلور کا شکار نہیں کھیل سکتے لیکن عربوں کو پاکستان میں یہ سہولت حاصل ہے۔
تازہ ترین خبر یہی ہے کہ قطری شہزادوں کے بعد گورنر تبوک، پرنس فہد بن سلطان تلور کے شکار کے لیے صوبہ بلوچستان کے ایٹمی مقام ضلع چاغی پہنچ گئے ہیں اور سرکاری حکام ان کی خدمت میں لگ گئے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ سابق آرمی چیف، جنرل راحیل شریف سعودی عرب پہنچ گئے ہیں اور وہاں بھی ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ 39 اسلامی ملکوں پر مشتمل فوجی اتحاد کی کمان جنرل راحیل شریف کو سونپی جائے گی۔ سابق جنرل راحیل شریف کے سعودی عرب پہنچنے کے بعد، گورنر تبوک کی تلور کے شکار کے لیے پاکستان آمد یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ سعودی شاہی خاندان ا ب مطمئن ہے اور کسی قسم کا اندرونی اور بیرونی خطرہ محسوس نہیں کررہی۔ گورنر صاحب تو چاغی میں تلور کا شکار کھیلیں گے۔ سابق جنرل راحیل شریف 39 ملکی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے بعد کیا کریں گے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *