افسوس ،نوٹس ،معطلی کے سوا کچھ نہیں ہوگا


\"\"حادثے یا سانحے سے بڑا سانحہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے کچھ سبق حاصل نہ کیا جائے۔غلطی ہونا اس بات کی سند ہے کہ آ پ کوشش کررہے ہیں مگر ہر بارایک ہی غلطی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ہسپتالوں میں علاج معالجہ نہ ملنے سے ہلاکتیں ،ٹرین حادثات،شہریوں کی پراسرار گمشدگی،انصاف میں تاخیر،پولیس گردی یہ اب معمول کی بات بن گئی ہے۔ان پرنہ تو ادارے حرکت میں آتے ہیں اور نہ ہی حکمرانوں کو حیا آتی ہے۔
قوم پر ایسے ایسے سانحے گزر گئے کہ اب علاج معالجہ کی سہولت کا نہ ملنا،دھماکے میں ایک دو افراد کی ہلاکت،شہریوں پر جھوٹے مقدمات خبرنہیں بنتے۔خبر تب بنتی ہے جب علاج معالجہ نہ ملنے سے کسی کی موت ہوجائے،ہلاکتوں کی تعداد 10سے بڑھ جائے ،جھوٹے مقدمے اور تشدد سے کسی کی ہلاکت ہوجائے۔ہم وہ غلام بنتے جارہے ہیں جن کو زنجیروں سے پیار ہوگیا ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے رہنما کرپٹ ہیں،قبضہ مافیا کے سرپرست ہیں،ڈاکوﺅں ،چوروں کے محافظ ہیں، ہم انہی کو ووٹ دیتے ہیں۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ موجودہ نظام میں ڈلیور کرنے کی سہولت نہیں ہے ہم نظام کو تبدیل کرنے یا نظام میں تبدیلیاں لانے کی بات نہیں کرتے۔
سانحہ ڈھاکہ ہماری مختصر تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔مگر ہم نے اس سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔سانحہ ڈھاکہ کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کو ختم کیا جاتا مگر ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔بلوچستان کے لوگ آج اسی احساس محرومی کا شکار ہیں جس کے تحت مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔سی پیک کے تحت لاہور میں اورنج ٹرین پر اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں مگر گوادر میں آج بھی پینے کا پانی میسر نہیں اور اگلے دو سال تک اس کی امید بھی نہیں۔بلوچستان میں لاوارث نعشیں ملنا معمول کی بات ہے۔پہلے ایک لاوارث نعش کا ملنا خبر ہوتا تھا اب صرف سالانہ رپورٹ آتی ہے کہ اس سال اتنی لاوارث نعشیں ملی ہیں۔
دو ماہ قبل کراچی کے لانڈھی ریلوے سٹیشن کے قریب زکریا ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کے ٹکرانے سے 21 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے تھے۔ ورثاءکو پیسے،چند افسران کو معطل اور وزیرریلوے کو کوسنے کے بعد یہ معاملہ دب گیا۔ اس کے بعد لودھراں میں ٹرین کی ٹکر سے ماﺅں کے6لخت جگر جان کی بازی ہارگئے ۔اس حادثے پر بھی وہی ہوا جو پہلے ہوا تھا۔اظہار افسوس کے بیان،معطلیاں،ورثا کو رقم کی ادائیگی اور کام ختم۔ٹرینوں کے حادثات کی بڑی وجہ ناقص حفاظتی انتظامات اور شکستہ بنیادی ڈھانچہ ہے مگر ہم اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ اس کے لئے سنجیدگی اور وقت درکار ہے اور ہمارے پاس دونوں چیزیں نہیں۔
جناح ہسپتال میں علاج معالجہ نہ ملنے سے معمر خاتون دم توڑ گئی۔حکومت نے اس پر ایم ایس سمیت 4ڈاکٹرز معطل کیے ،مرحومہ کے اہل خانہ کو عوام کے ٹیکس سے چند لاکھ روپے دیکر جان چھڑوالی۔مستقبل میں ایسے حادثے پر بھی ایسا ہی طرز تغافل برتا جائے گا مگر ہسپتال میں بیڈز کی تعداد اور ہسپتالوں کی تعداد بڑھانے کی غلطی نہیں کی جائے گی۔کیونکہ سب کو علاج معالجہ ملنے لگ گیا،تھانوں میں انصاف کا حصول ممکن ہوگیا،تعلیم عام ہوگئی،ہر شخص پڑھا لکھا ہوگیا نظام ٹھیک ہوگیا تو ہمارے حکمران کیا کریں گے؟وہ کس چیز کا نوٹس لیں گے؟اب تو ان کی سفارش سے تھانے میں انصاف ملتا،ہسپتال میں بیڈ ملتا،کالج یونیورسٹی میں داخلہ ملتا ہے،سرکاری ادارے میں میرٹ کے بغیر نوکری ملتی ہے۔جب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا تو پھر ایم این کے کہنے پر عام شہری پر تھانے میں تشدد نہیں ہوگا،ہسپتال میں ہر کسی کو علاج معالجہ ملے گا،نوکری اور داخلہ میرٹ پر ملے گا۔اس لئے سب کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔صرف افسوس ہوگا،نوٹس ہوگا،معطلی ہوگی اس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔