ضلع اپر سوات


\"\"گزشتہ دنوں خیبرپختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک اعلیٰ افسرنے کہا کہ اگر سوات کے لوگ متفق ہوئے تو موجودہ سوات کو انتظامی لحاظ سے تقسیم کرکے حکومت تین مہنیوں میں ایک نیا ضلع بناسکتی ہے۔ اس کا مطلب میں نے یہ لیا کہ حکومت سوات کو مزید دو ضلعوں میں تقسیم کرنے پر نہ صرف سوچ رہی ہے بلکہ اس سلسلے میں تیار بھی ہے۔
خود سوات کے عوام میں یہ مسئلہ گزشتہ ہفتوں سے زیر بحث ہے اور اس سلسلے میں خوازہ خیلہ میں کئی جرگے بھی ہوچکے ہیں۔ ایک طرف اگر یہ جرگے سوات میں سے اپر سوات نام سے ایک الگ ضلعے کی حمایت کرتے ہیں تو دوسری طرف سوات میں کچھ حلقے اس کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان مخالفین میں صوبے میں برسراقتدار موجودہ حکومت کے کچھ اہم نمائندے بھی شامل ہیں۔ اسی طرح مرکزی سوات میں تجارتی برادری اور سول سوسائٹی سے منسلک چند افراد بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں سوات ہی کے بعض سرکردہ سیاست دانوں کی خاموشی کو بھی لوگ محسوس کر رہے ہیں۔
سوات کے ان سرکردہ رہنماؤں کے بارے ملکی سطح پر جرا ت کی کئی کہانیاں بھی عام ہیں۔ بلاشبہ چند افراد نے انفرادی طور پر سوات میں شورش کا خوب مقابلہ کیا اور نام کمائے لیکن جس بات کا افسوس کیا جاتا رہا ہے وہ سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوکر اپنی دھرتی کے امن و خوشحالی کو کبھی متفقہ مقصد نہیں بنا سکے۔ اس نفاق کی وجہ شاید ریاست کے دور میں یہاں کارفرما سیاست رہی ہے جب اس وقت کے حکمران، بقول والئی سوات میاں گل جہانزیب، سوات پر حکمرانی کے لئے لوگوں کو ’ڈلوں‘ (پارٹیوں یا گروہوں) میں تقسیم رکھتے تھے۔ یہی نفاق تھا کہ سوات میں شورش شروع ہونے کے وقت یہ سرکردہ رہنما عوام کو اس شورش کے کارندوں کے خلاف متحد نہ کر سکے۔ اس میں دوش ریاستی اداروں کا بھی ہے کہ جن کے بارے میں شورش والوں کی پشت پناہی کا الزام زبان زد عام ہے۔ تاہم ان اداروں کو بھی نکیل ڈالی جاسکتی تھی اگر سوات کے عوام ان سرکردہ سیاسی رہنماو¿ں کے پیچھے متحد ہوجاتے۔
سیاست اقتدار تک محدود ہوکر رہی ہے اور اس سے کوئی ایسی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سوات کو مزید دو ضلعوں میں تقسیم کرنے سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس سیاستدان اور کس سیاسی پارٹی کو اس سے کتنا فائدہ یا نقصان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپر سوات ضلع کے لئے اگر کوئی سیاستدان سرگرم ہے تو دوسری طرف دوسرے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
ایسے میں چند سوالات ابھرتے ہیں جن کا تجزیہ اگر کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ مثلاً یہ سادہ سوال بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ایسا کرنے کے فائدے یا نقصانات کیا ہوسکتے ہیں۔ یہ سوال اہم ہے کہ اپر سوات کی یہ بحث اس سے متعلق ہے۔
سوات ریاست کے زمانے میں ملاکنڈ، دیر اور چترال کے علاوہ پورے ملاکنڈ ڈویژن اور آدھے کوہستان (اباسین کوہستان) پر مشتمل تھا۔ اس میں موجودہ ضلع بونیر اور شانگلہ بھی شامل تھے۔ ریاست کے بعد پاکستانی دور میں سوات کو بتدریج ضلعوں میں تقسیم کیا گیا اور اسی سے ضلع بونیر اور شانگلہ الگ ہوئے۔
موجودہ سوات کی آبادی پاکستانی ادارے (پی پی اے ایف PPAF) کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2014 ءتک 2,137,000 (اکیس لاکھ سینتیس ہزار) تھی۔ سوات کا رقبہ 5337 مربع کلومیٹر ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق سوات میں آبادی میں اضافے کی شرح 3.37 فی صد ہے۔
رقبے کے لحاظ سے سوات خیبر پختون خوا میں چترال، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہستان کے بعد چوتھے نمبر پہ ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے یہ ضلع پشاور اور مردان کے بعد تیسرے نمبر پہ ہے۔ ثقافت و تمدن کے لحاظ سے بھی سوات کافی متنوع ہے۔ یہاں کی بڑی آبادی پشتونوں پر مشتمل ہے البتہ بالائی سوات میں توروالی، گاؤری، گجر اور اشوجو قومیں بھی آباد ہیں۔ مردم شماری سوات میں پشتو کو ننانوے فی صد سے زیادہ لوگوں کی مادری زبان بتاتی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ مردم شماریوں میں عموماً دوسری زبانوں کے لئے مختص خانے نہیں ہوتے اس لئے اس پر مامور اہلکار سب کی زبان پشتو اور نسل افغانی ڈال کر جان چھڑاتے ہیں۔ اگر صحیح طور پر مردم شماری کی جائے تو سوات کی موجودہ اکیس لاکھ آبادی میں سے چھ لاکھ کی آبادی غیر پشتون ہوگی جو کہ توروالی، گاؤری اور گجر وغیرہ پر مشتمل ہے۔
سولہویں صدی میں پختون عالم شیخ ملی نے پورے سوات بشمول دیر اور مالاکنڈ کو ’کوہسار‘\’ کہا تھا جبکہ چارسدہ، مرادن اور صوابی کی وادیوں کو’سمہ‘ لکھا تھا۔ تاہم موجودہ سوات وادی کو جغرافیائی اور موسمیاتی لحاظ سے تین خطوں لوئر سوات، اپر سوات اور سوات کوہستان میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ لوئر سوات مالاکنڈ ایجنسی سے سوات کے بارڈر سے شروع ہوکر چارباغ تک ہے۔ اپر سوات چار باغ سے اوپر مٹہ اور خوازہ خیلہ سمیت مدین تک ہے اور سوات کوہستان مدین، کالام اور بحرین کی وادیوں پر مشتمل ہے۔ سوات کوہستان رقبے میں ان دونوں خطوں سے بڑا ہے۔ یہی علاقہ سیاحت کے لئے بھی زیادہ مشہور ہے۔
گزشتہ دور میں سوات دو تحصیلوں پر مشتمل تھا۔ اب اس کی سات تحصیلیں بنائی گئی ہیں۔ پورے ضلعے میں دو قومی اسمبلی کی اور سات صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہیں۔ سوات ضلعے کا ہیڈ کوارٹر پورے مالاکنڈ ڈویژن کا بھی ہیڈ کوارٹر ہے جس کے دفاتر سیدو شیریف اور مینگورہ میں ہیں۔
مینگورہ شہر نہ صرف سوات بلکہ پورے خیبر پختون خوا کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اس شہر کی سڑکیں انیس سو پچاس کی ہیں اور ان پہ ٹریفک نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سمیت اکیسویں صدی کی ہے۔
سوات کی آبادی، رقبے اور مالاکنڈ میں اس کی مرکزی حیثیت کو سامنے رکھ کر بہتر انصرام کے لئے سوات کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنا اچھا اقدام ہوگا۔ اس سے بظاہر سوات کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
مینگورہ اور سیدو شیریف کی اہمیت یوں ہی برقرار رہے گی کیوں کہ اپر سوات کے سارے راستے یہیں سے گزر کر ملک کے دوسرے حصوں میں جاتے ہیں۔ اس کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ رہے گی کہ گندھارا تہذیب اور ریاست سوات کے سارے آثار یہیں پائے جاتے ہیں۔ لوئر سوات ضلعے کے ساتھ بھی سیاحتی مقامات مالم جبہ اور مرغزار کی صورت میں رہیں گے۔ اپر سوات ضلعے سے خوازہ خیلہ یا مٹہ کی مارکیٹیں مزید بھریں گی تو اس کا بھی براہ راست اثر سوات کی مین مارکیٹ پر پڑے گا کہ یہاں سے ہی ان مارکیٹوں کو مال جاتا ہے۔ اسی لئے مرکزی سوات کے تجارتی حلقوں کو اس پر تحفظات نہیں ہونے چاہئیں۔
سیاست دانوں کے تحفظات کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے شاطر قسم کے سیاستدان بننا پڑے گا۔ واللہ مجھے اپرسوات ضلعے پر ان بعض سیاستدانوں کے تحفظات کی وجوہ کا پتہ نہیں۔ پتہ نہیں یہ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اگر موجودہ ناظم اعلیٰ ایسا کوئی خدشہ رکھتا ہے تو عرض ہے کہ وہ نئے ضلعے میں بھی ناظم اعلیٰ ہی ہونگے۔
رہ گئی بات فوائد کی تو حکومتی انصرام میں بہتری اور رویے میں تو فرق آنے والا نہیں اور نہ ہی نئے ضلعوں کے بننے سے ایسی کوئی امید ہمیں ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ دو ضلعوں سے دفتری کام نمٹانے میں بہتری آسکتی ہے کہ ایک افسرکے مقابلے میں دوافسر ہوں گے۔ اپر سوات کو ہیڈ کا کوارٹر قریب تر ہونے کی وجہ سے آنے جانے میں دشواری کم ہوگی۔ مینگورہ شہر پر ٹریفک کا دباو¿ کم ہوگا اور اس طرح آلودگی بھی شاید کم ہوجائے۔ وہاں کے شہریوں کی تکالیف شاید اس طرح کم ہوسکیں۔
نئے ضلعے میں سوات کوہستان کے لوگوں کی اہمیت شاید کچھ بڑھ جائے۔ سوات کوہستان کے لوگوں کو کبھی بھی ضلعے کے معاملات میں وہ اہمیت نہیں ملی جو ان کو کم از کم ان کے خوب صورت علاقے اور قدرتی وسائل کی وجہ سے ملنی چاہئے تھی۔ پورے سوات کو جنگلات کے انصرام کے لحاظ سے دو ڈویژنز میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی سوات فارسٹ ڈویژن اور کالام فارسٹ ڈویژن۔ پہلے میں پورا سوات آتا ہے جبکہ دوسرا سوات کوہستان کے جنگلات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سے سوات کوہستان کے قدرتی وسائل کا اندازہ ہوسکتا ہے۔
سیاسی لحاظ سے سوات کوہستان کبھی اتنا مضبوط نہیں رہا۔ مثال کے طور پر یہ علاقہ قومی اسمبلی کی نشست نمبر 30 میں آتا ہے لیکن یہاں سے کبھی بھی قومی اسمبلی کے لئے کوئی شخص نہیں جاسکا۔ موجودہ ایم پی اے کے اس علاقے سے انتخابات جیتنے کی یہ دوسری باری ہے۔ اس سے پہلے جب ان کی اپنی پارٹی کی حکومت تھی موصوف ایم پی اے ہی تھے۔ سوات کے اس وقت کے سارے ایم پی ایز میں یہ حضرت پڑھے لکھے تھے لیکن ان کو صوبائی کابینہ میں نہ لیا گیا کیوں کہ یہ کوئی خانوادہ نہیں ہے اور اس کے ووٹرززیادہ تر کوہستانیوں اور گوجروں پر مشتمل ہیں۔
سوات کوہستان کو پسماندہ رکھنے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ صرف تعلیم کو ہی لیں۔ اس پورے علاقے میں کالج نہیں بن سکا۔ لڑکیوں کے لئے ایک آدھ ہائی سکول ہی قائم ہے۔ یہاں خواندگی کی شرح شرم ناک حد تک کم ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر یہاں کے لوگ یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ اگر نیا ضلع بن گیا تو شاید ان کی طرف بھی کوئی توجہ کرے۔
اب اپر سوات کے لئے جو جرگے خوازہ خیلہ میں ہورہے ہیں ان میں بھی سوات کوہستان کے لوگوں کو بلانے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ سوات کو دو ضلعوں میں ضرور تقسیم ہونا چاہئے لیکن اس کے ساتھ چند باتوں پر غور اور ان کے لئے کوشش لازمی ہے۔
ایسے کسی مشورے میں سوات کوہستان یعنی مدین، بحرین اور کالام کے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے ورنہ یہاں کے لوگ اپنے لئے سوات کوہستان کے نام سے ایک الگ ضلعے کا مطالبہ کرکے اپر سوات کے اس مطالبے پر پانی پھیر سکتے ہیں۔
اس نئے ضلعے کے ہیڈ کوارٹر کے سارے دفاتر ایک ہی مقام پر قائم ہو تاکہ لوگوں کو ادھر، ادھر بھٹکنا نہ پڑے۔ اگر نئے ضلعے کے لئے سرگرم لوگ ان دفاتر کو خوازہ خیلہ اور مٹہ میں تقسیم کروانا چاہتے ہیں تو سوات کوہستان اور شین، فتح پور، سخرہ، لالکو اور میاں دم کے لوگ نئے ہیڈ کوارٹر کے لئے باغ ڈھیری کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ لوگ یہ مطالبہ بھی کرسکتے ہیں کہ نئے ضلعے اپر سوات کے ہیڈ کوارٹر کے چند دفاتر کو باغ ڈھیری میں قائم کیا جائے۔
نئے ضلعے کے مطالبے کے ساتھ سوات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی موجودہ نشستوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ اپر سوات ضلعے کو قومی اسمبلی کی دو جبکہ صوبائی اسمبلی میں چھ سیٹیں دی جائیں۔ اسی طرح لوئر سوات ضلعے میں بھی ان نشستوں کو بڑھایا جائے۔ سوات میں موجودہ قومی اسمبلی کے حلقے آبادی میں دس دس لاکھ سے زیادہ بنتے ہیں۔ ان کو کم کرکے پانچ پانچ لاکھ تک کیا جائے۔ ایسے میں اپر سوات ضلعے کا مطالبہ حق پر مبنی لگتا ہے۔ اس مطالبے پر جلد عمل در آمد کروایا جائے لیکن اس عمل میں سب کو شریک بھی کیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ضلع اپر سوات

  • 11-01-2017 at 12:28 am
    Permalink

    sahi kaha apnai laken yai gawry ,tourwaly ki jaga sirf kohistani b lekahai tu wo sub sai acha hoga our swat kohistan ka motaliba b teak kea hai ..thanks

  • 11-01-2017 at 12:15 pm
    Permalink

    ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اپنی محکومیت اور اپنے استحصال کا رونا رونے والے پشتونوں کے زیر نگین رہنے والی لسانی اور قومی اقلیتیں اس قدر ظلم و استبداد کا شکار ہیں۔ چترال ،کالام، ہزارہ اور سرائیکی بولنے والے سب پشتون سیاسی قیادت بشمول قوم پرستوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی تنگ نظری اور لالچ سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
    پشتون قوم پرستوں کو کم از کم اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اصلاح احوال کرنی چاہیے۔

Comments are closed.