خاموش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبردار!


\"\"

خاموش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبردار!
یہ کون ہے جو کہہ رہا ہے دربارِ شاہ میں کہ شاہ کانوں سے بہرہ ہے!

یہ کس نے کہا کہ شاہ کی نظر کمزور ہے اور اسے دھندلا دکھتا ہے!

یہ کون ہے جو مسندِ شاہ کو کھینچ رہا ہے اپنی زباں کی جکڑ سے؟

گستاخ بھرے دربار میں رقصِ جنوں کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے اطلس و کمخواب کے اندر شاہ ننگا دکھ رہا ہے!

یہ کون ہے جو سرنگوں درباریوں کی جیبوں سے اشرفیاں نکال رہا ہے اور خدا کو دکھا رہا ہے کہ دیکھ تیرے اشرف المخلوقات لہو سے مایا بناتے ہیں اور وضو شاہ کی تھوک سے کرتے ہیں اور تجھے کہتے ہیں کہ تیرے سجدہ گزار ہیں!

نہیں نہیں، یہ مشرک و کافر ہیں، انہیں معاف مت کر، یہ تیرے نہیں شاہ کے وفادار ہیں

ان کے سجدے و تسبیح، وضو و فتوے، سب کاروبارِ دربار ہیں

یہ کون گستاخ و کافر ہے جو یہ سب کہتا جاتا ہے اور ہاتھوں سے پھسلا جاتا ہے؟

عالی جاہ!

یہ غدّار ہے ۔۔۔۔۔ غدّار ہے ۔۔۔۔ غدّار ہے

سب درباری و مداری اٹھو اور اسے پھانسی چڑھا دو

ممکن نہیں ہے عالی جاہ!

یہ جسم نہیں روح ہے اور ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں جسموں میں چکر کاٹتی رہتی ہے مگر پھانسی کے پھندے میں سماتی نہیں ہے


Comments

FB Login Required - comments

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 25 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

One thought on “خاموش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبردار!

Comments are closed.