متحدہ پنجاب کے سکھوں پر کیا گزری؟


\"\" مارچ 1947ء میں شمالی پنجاب میں کیا طوفان آیا؟ اور یہ سکھ کون لوگ تھے جن پر یہ قیامت ٹوٹی؟ یہ سکھ اسی زمین کے بیٹے اور بیٹیاں تھے جنہوں نے سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی میں سکھ مت قبول کیا۔ ہندو مت میں پائی جانے والی ذات پات کی جکڑ بندیوں کو مسترد کیا۔ زمین سے جڑے ہوئے یہ لوگ تمباکو نہیں پیتے، اپنی شناخت کے لیے بال نہیں کٹواتے۔ زندگی سے محبت کرتے تھے۔ کرتے تھے کیا، کروڑوں ہیں اور آج بھی کرتے ہیں۔ محبت اور دشمنی بلند آواز میں کرتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں ہندوستانی سپاہیوں کو جو تمغے ملے، ان میں سے آدھے سے زیادہ سکھ سورماﺅں کے حصے میں آئے۔ محنتی، دیانت دار اور سادہ دل ہیں۔ پنجاب کی زمین، پنجاب کے دریا، پنجاب کے کھیت، پنجاب کے موسم، سکھ مت کے پیرو کاروں کی شناخت ہیں۔ بیسویں صدی میں پنجاب کی خوشحالی سکھ بیٹے اور بیٹیوں کی محنت شاقہ کی مرہون منت تھی۔ سکھوں نے پنجاب کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں تین منزلہ مکان کھڑے کر دیے۔ پوری دنیا گھوم جائیے، اپنے سینے میں بے لوث دوستی کی گرمی رکھنے\"\" والا سکھ دوست جیسا کوئی اور ڈھونڈ لایئے۔ دنیا بھر کی کسی مذہبی عبادت گاہ میں ایسا نہیں ہوتا، مگر گرودوارے کی چاروں دیواروں میں دروازہ ہوتا ہے۔ جو چاہے جس سمت سے آئے، جو چاہے جس سمت کو جائے کہ سکھ دل کشادہ رکھتے ہیں۔

2 مارچ 1947ء کو پنجاب میں خضر حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد مسلم لیگ حکومت بنانے میں ناکام ہو گئی۔ عام تاثر یہ تھا کہ پنڈی اور اس کے گرد و نواح میں 4مارچ 1947ء کو شروع ہونے والے فسادات مسلم لیگ کی طرف سے اپنی سیاسی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش تھے۔ مسلم لیگی حلقوں کی طرف سے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کی دفعہ 93 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کو جواز بنایا گیا۔ اگرچہ گورنر کا یہ اقدام کسی بھی طرح پنڈی اور ملتان میں ہونے والے فسادات سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔

 4 مارچ 1947ء میں پنڈی، جہلم، چکوال، ٹیکسلا، واہ اور گوجر خان میں سکھ مت کے پیرو کاروں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ انہیں قتل کیا گیا۔ زندہ جلایا گیا۔ ان کے بال کاٹے گئے۔ سرعام ان کے ختنہ کیے گئے۔ انہیں اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ سکھ خواتین کی بے حرمتی کی \"\"گئی۔ خطہ پوٹھوہار کے کنوئیں سکھ بچیوں کی لاشوں سے اٹ گئے۔ صرف کہوٹہ گاﺅں میں 2000 سکھ زندہ جلائے گئے۔ وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے دوسری عالمی جنگ دیکھ رکھی تھی۔ جب اس نے مارچ 1947ء کے آخری ہفتے میں میں شمالی پنجاب کا دورہ کیا تو فوراً فیصلہ کیا کہ بٹوارے کے سوا ہندوستان کے مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ پوٹھو ہار پنجاب کے فسادات روکنے کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح اور مہاتما گاندھی نے مشترکہ اپیل جاری کی تھی۔ آنکھ کے آنسو اور لہو کے قطرے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس میں ہندو، مسلم، سکھ یا عیسائی کی کوئی تمیز نہیں۔ سیاست کے خیمے میں مذہب کا اونٹ داخل ہوتا ہے تو انسانیت منہ لپیٹ کر باہر نکل آتی ہے۔

 متحدہ پنجاب میں مسلمانوں کی تعداد 55 فیصد، ہندوﺅں کی تعداد 25 فیصد اور سکھوں کی تعداد 20 فیصد تھی۔ پنجاب کی تقسیم کے اعلان سے سکھوں کو شدید صدمہ پہنچا۔ ان کی کل آبادی کا ایک تہائی پنجاب کے مغربی اضلاع میں آباد تھا جب کہ دوتہائی سکھ مشرقی پنجاب کے اضلاع میں آباد تھے۔ تاہم مغربی پنجاب کے اضلاع بالخصوص منٹگمری اور لائل پور میں زرخیز زرعی زمین اور قیمتی شہری جائیداد کا بڑا حصہ سکھوں کی ملکیت تھا۔ اگرچہ مسلم لیگ اور کانگریس کی قیادت نے تقسیم ہند کے منصوبہ \"\"میں پنجاب کے بارے میں ریڈ کلف ایوارڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن سکھ قیادت خود کو اس معاہدے کا پابند نہیں سمجھتی تھی۔ انہیں خدشہ تھا کہ پنجاب کی تقسیم میں ان کی آبادی 33 فیصد اور 66 فیصد کی نسبت سے دونوں ملکوں میں بٹ کر رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ سکھ مارچ کے پنڈی فسادات کا بدلہ لینے کے لیے بھی بے چین تھے جو دو سے تین ہفتے تک جاری رہے تھے اور جن میں مرنے والے قریب قریب سو فیصد سکھ تھے۔ ماسٹر تارا سنگھ ایک جذباتی رہنما تھے جنہوں نے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر اپنی کرپان لہراتے ہوئے نعرہ لگایا تھا کہ ’جو پاکستان مانگے گا اسے قبرستان دیا جائے گا‘۔ مارچ کے فسادات میں ٹیکسلا کے قریب ماسٹر تارا سنگھ کی والدہ ان خواتین میں شامل تھیں جنہیں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ سکھ قیادت نے پاکستان اور بھارت میں سے بھارت کا انتخاب کیا تھا چنانچہ انہیں خدشہ تھا کہ مغربی پنجاب میں رہ جانے والے سکھوں کا کماحقہ تحفظ نہیں ہو سکے گا۔ سکھ قیادت کی طرف سے تقسیم پنجاب کے منصوبے کی مخالفت غیر منطقی اور جذباتی تھی۔ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا مطالبہ مسلم لیگ نے نہیں بلکہ کانگرس کی قیادت نے کیا تھا۔ اب اس تقسیم کے نتیجے میں سکھ کمیونٹی کا دو حصوں میں بٹ جانا ناگزیر تھا۔ برطانوی حکومت جون 1948ء کی بجائے اگست 1947ء ہی میں ہندوستان کو آزادی دینے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ اس موقع پر سکھ رہنماﺅں \"\"کی طرف سے پنجاب کی تقسیم کی مخالفت لاحاصل تھی۔ اس مرحلے پر تقسیم ہند یا تقسیم پنجاب کے منصوبے میں کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں تھی البتہ اس بارے میں شعلہ بیانی سے فساد برپاہونا ناگزیر تھا۔ تاہم سکھ قیادت اپنی سیاسی بے بسی نیز راولپنڈی کے قتل عام کا انتقام لینے کے لیے اتاولی ہو رہی تھی۔ خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق سکھ مئی کے مہینے میں جوابی کارروائی کی تیاریاں کر چکے تھے تاہم مئی تک سول انتظامیہ اور دوسرے ادارے بڑی حد تک فعال تھے چنانچہ قتل اور لوٹ مار کی سازشیں بے نقاب ہوتی رہیں لیکن جولائی کے آخر اور اگست کے ابتدائی ہفتوں میں انتظامیہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر بری طرح منقسم ہو چکی تھی۔ خفیہ اطلاعات کا انتظام درہم برہم ہوچکا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی ہند کی سول سروس میں بھرتیوں کا معیار بھی گر گیا تھا کیونکہ بہتر صلاحیت رکھنے والے نوجوان فوج میں شامل ہو رہے تھے۔ ایک طرف ہندوستان کے مسلم اور غیر مسلم ماتحت سرکاری افسروں کو معلوم ہوچکا تھا کہ برطانوی حکمران بہت جلد رخصت ہونے والے ہیں چنانچہ اب ان سے ترقی، تعیناتی یا انعامات کی صورت میں فوائد ملنے کی توقع عبث تھی۔ دوسری طرف انگریز حکام کو معلوم تھا کہ ہندوستان میں ان کا قیام چند ہفتوں سے زیادہ باقی نہیں رہا۔ قدرتی طور پر ان کی مستعدی میں فرق آیا۔\"\"

انتظامی افراتفری کا ایک زاویہ یہ بھی تھا کہ سرکاری افسروں کی بڑی تعداد کا مذہبی بنیاد پر پاکستان یا ہندوستان منتقل ہونا ناگزیر ہو چکا تھا۔ مستقبل قریب میں نقل مکانی کے امکان کے باعث بھی انتظامی اہل کاروں کے احساس ذمہ داری، نظم و ضبط یا محکمانہ سرزنش کے خوف میں کمی آ گئی۔ متحدہ پنجاب میں انتظامی طور پر لاہور کو مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ تمام اہم سرکاری دفاتر، بینک، ریلوے، ٹیلی فون، ریڈیو اور سڑکوں کا نظام لاہور میں مرتکز تھا۔ بدقستی سے مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں فرقہ وارانہ مار دھاڑ کے واقعات کا منبع لاہور تھا۔ متحدہ پنجاب میں لاہور اور امرتسر کی حیثیت جڑواں شہروں کی سی تھی۔ دونوں شہروں میں جغرافیائی قربت کے علاوہ سماجی، ثقافتی اور تہذیبی رویوں میں بڑی مماثلت تھی۔ فرق یہ تھا کہ لاہور مسلم تہذیب و ثقافت کا مرکز سمجھا جاتا تھا تو امرتسر سکھ معاشرت کی نمائندگی کرتا تھا۔ وسط جولائی 1947ء کے بعد یہ دونوں شہر قتل وغارت کی ایسی اندھی دوڑ کاحصہ بن گئے، جسے بربریت کی جگل بندی کہا جا سکتا تھا۔ سکھ اور مسلم رہنماﺅں کی غیر ذمہ دارانہ شعلہ بیانی اپنے عروج پر تھی۔ امرتسر سے مسلمان مقتولین کے کٹے ہوئے اعضا پیتل کے برتنوں میں بھر کر لاہور بھیجے جاتے تھے (مختون اعضا سے مرنے والوں\"\" کی مذہبی شناخت واضح تھی ) تو دوسرے ہی روز لاہور کے سورما اسی نوع کے تحائف امرتسر روانہ کرتے تھے۔ مشرقی پنجاب سے آنے والے مسلمان مہاجرین کی ایک ٹرین کو امرتسر میں تہہ تیغ کیا گیا تو اگلے ہی روز گوجرانوالہ اور لاہور کے درمیان غیر مسلم شرناتھیوں کی ایک ٹرین کاٹ ڈال گئی۔ لاہور میں غیر مسلم بچیوں کو ہوسٹل سے نکال کر ان کا برہنہ جلوس نکالا گیا تو اگلے ہی روز امرتسر کی سڑکوں پر مسلمان بچیوں سے یہی سلوک کیا گیا۔ امرتسر میں مسلم اکثریتی محلے جلائے گئے تو لاہور میں غیر مسلم آبادیوں کو جلانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایک سے زیادہ مسلمان مصنفین نے اپنی کتابوں میں کسی تاسف یا افسوس کے بغیر بلکہ کسی قدرتفاخر سے بیان کیا ہے کہ لاہور کے غیر مسلم اکثریتی محلے شاہ عالمی میں، جو طرز تعمیر کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا، ہندوﺅں نے بلوائیوں کے ممکنہ حملے کے خلاف اپنی حفاظت کا خاصا انتظام کر رکھا تھا لیکن کچھ مسلمان نوجوان زیر زمین نالوں کے راستے شاہ عالمی جا پہنچے اور جلد ہی لکڑی کے خوبصورت مکانوں سے بنا ہوا یہ محلہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

متحدہ ہندوستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آکن لیک نے فسادات پر قابو پانے میں سول انتظامیہ کی ممکنہ بے اختیاری کے پیش نظر \"\"پنجاب باﺅنڈری فورس تشکیل دی جس کے سربراہ دوسری عالمی جنگ کے نامور کمانڈر میجر جنرل تھامس ونفورڈ ریس تھے۔ انہیں پاکستان کی طرف سے بریگیڈیئر ایوب خان اور بھارت کی طرف سے بریگیڈیئر برار کی مشاورت حاصل تھی۔ یہ باﺅنڈری فورس یکم اگست 1947ء سے 31 اگست 1947ء تک پنجاب کے 12 اضلاع میں مستعد رہی۔ یہ بارہ اضلاع لاہور، امرتسر، گورداسپور، ہوشیار پور، جالندھر، لدھیانہ، فیروز پور، گوجرانوالہ، منٹگمری، لائل پور، شیخوپورہ اور سیالکوٹ تھے۔ ان بارہ اضلاع کا مجموعی رقبہ 37 ہزار 6 سو مربع میل اور ان کی مجموعی آبادی ایک کروڑ پینتالیس لاکھ تھی۔ مجوزہ ریڈ کلف لائن کے دونوں طرف آباد یہ اضلاع 1947ء کے نصف آخر میں فسادات کا مرکز تھے۔

میجر جنرل ریس نے پنجاب باﺅنڈری فورس کے ختم ہونے کے بعد یکم ستمبر 1947ء کو اپنے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل آکن لیک کو جو رپورٹ پیش کی، وہ بے حد چشم کشا ہے۔ اس رپورٹ کا اصل نسخہ برمنگھم یونیورسٹی برطانیہ کے شعبہ مخطوطات میں موجود ہے۔ ایک جگہ پر میجر جنرل ریس لکھتے ہیں کہ ”متحدہ پنجاب کی پولیس میں اسی فیصد نفری مسلمان تھی۔ تاہم غیر مسلم پولیس حکام نے 15 اگست 1947ء پولیس کے مسلم جوانوں کو غیر مسلح کرنے کا حکم دے دیا۔ ان حالات میں غیر مسلح مسلم سپاہیوں \"\"نے اپنے فرائض ادا کرنے سے انکار کر دیا اور پاکستان چلے گئے۔ “ اگرچہ ان جوانوں کو غیر مسلح کرنے کے پس پشت محرک ان کا ممکنہ طور پر جانبدار ہونا ہو سکتا ہے تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ قابل غور ہے کہ غیر مسلح پولیس فسادات میں اپنے فرائض کس طرح ادا کرتی؟ میجر جنرل ریس کے مطابق ”15 اگست کو صرف جالندھر ڈویژن میں پولیس کی تعداد اصل نفری سے سات ہزار کم ہوچکی تھی کیونکہ مسلمان پولیس اہلکار پاکستان جا چکے تھے۔ تحصیل امرتسر میں 600 کی بجائے صرف دو سو پولیس اہل کار باقی تھے۔ یہی صورت حال دیگر اضلاع میں تھی“۔ اس میں یہ اہم پہلو بھی

مدنظر رکھنا چاہیے کہ دوسری عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد جنگی تربیت یافتہ سکھ فوجی اپنے گھروں کو واپس آ چکے تھے۔ ان تجربہ کار فوجیوں کا مقابلہ ہتھیار بند پولیس بھی نہیں کر سکتی تھی، عام شہری تو ان کے سامنے گاجر مولی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ یہ فوجی انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔ مسلم اور غیر مسلم اعلیٰ حکام پوری طرح جانب دار ہو چکے تھے۔

بھاگل پور کے اسسٹنٹ کمشنر قدرت اللہ شہاب نے اپنی تصنیف شہاب نامہ میں اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سرکاری مراسلت قائد \"\"اعظم محمد علی جناح کو پہنچانے کا ذکر بڑے فخر سے کیا ہے۔ چوہدری محمد علی نے اپنی تصنیف Emergence of Pakistan (ظہورِ پاکستان) میں صاف اقرار کیا ہے کہ 1946ء میں مسلم لیگ کی قیادت کو وزارت خزانہ قبول کرنے کا مشورہ انہوں نے دیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ کانگرسی وزارتوں کو ناکوں چنے چبوا دیں گے۔ آل انڈیا ریڈیو کے سرکردہ افسر ذوالفقار علی بخاری کی خود نوشت ’سرگزشت‘ پڑھ کر ان کی فرقہ ورانہ غیر جانبداری کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ حالات و واقعات کے تناظر میں یہ قیاس کچھ ایسی دور کی کوڑی نہیں کہ غیر مسلم حکام کانگرس کی قیادت بالخصوص ولبھ بھائی پٹیل کے ساتھ ایسی ہی ریشہ دوانیوں میں شریک تھے۔ اس ضمن میں دہلی کے اس وقت کے ہندو ڈپٹی کمشنر رندھاوا کا نام تو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

 

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں