ارسطو کو انتظار ہےاپنے پاپا کا


\"\"  پچھلے سال کے اواخر میں بہت سے مبصرین نے یہ تاثر دیا کہ پڑھنے لکھنے کا شوقین  ایک  مفکرجنرل  سپہ سالار بنا ہے– جنرل صاحب کے بیرسٹر صاحبزادے  نےبھی ایک انٹرویو میں  اپنے والد  کا انتہائی   خوش آئند نقشہ کھینچا– سبھی   ترقی پسند اور جمہور دوست حلقوں کو یہ گمان ہوچلا تھا کہ\’اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے \’ اور 2017اک نئے جمہوری پاکستان کی جانب سفر کا سال ہوگا -ابھی  نئے سال کی پوشاک میلی بھی نہیں ہوئی تھی کہ پاکستانی میڈیا میں خبر آئی کہ  سوشل میڈیا میں متحرک  سلمان حیدر ، وقاص گورایا اور کچھ دیگر  تعلیم یافتہ افراد کو جنوری کے پہلے ہفتے میں اغوا کرکے غائب کردیا گیا ہےاور جوں جوں یہ قیاس عام ہوتا گیا کہ یہ ریاستی  اداروں کی کارروائی ہے توسوچ و فکر والے حلقوں میں نوزائیدہ  امیدوں کی بجاے  مایوسی کا عفریت سر اٹھانے لگا –

اغوا کیے گئے پاکستانیوں  میں سے کسی فرد سے کبھی میری ملاقات نہیں ہوئی تھی لیکن سوشل میڈیا میں ان کے خیالات  سے آگاہی ہونے کی وجہ سے ان کو جانتا ضرور تھا –  سلمان حیدر تو  ایک مدرس  اور شاعرہونے کی وجہ سے ملک کا ایک معروف نام ہے لیکن وقاص گورایا  کوئی لکھاری یا  شاعر نہیں–اسلئے اس کا ذکر کچھ  عرصہ زیادہ نہیں ہوا – وقاص سے  چند سال پہلے ریشنلسٹ سوسائٹی پر شناسائی ہوئی تھی – قائد عظم یونیورسٹی  سے فارغ التحصیل اس نوجوان کو میں نے  معلومات کا انسایکلوپیڈیا پایا – سائنس کے مضامین ہوں کہ مذہبی معاملات ، تاریخ کا کوئی موضوع ہو یا    سماجیات کی بحث –  انتھروپولوجی میں اعلی تعلیمیافتہ  وقاص کے پاس ہر سوال کا مفصل اور اچھا خاصا مدلل جواب موجود  ہوا کرتا تھا –گھر کا سارا ماحول علم دوست تھا کہ  اس کی  شریک حیات بھی ہالینڈ میں  پی ایچ ڈی کر رہی تھی – وقاص کی جداگانہ  طبیعت اور گھرمیںفکر و نظر  کی اہمیت  کا اس سے اندازہ لگائیں کہ چندسال پہلے جب  اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا  تو اس نے بیٹے کا نام ارسطو رکھا – ہزار خوبیوں کے مالک وقاص میں بس  ایک خامی تھی  کہ وہ  بسا اوقات   اپنےجذبات کو قابو کرنے سے قاصر تھا –  اپنے ہمخیال دوستوں سے بھی اکثر ناراضگی ہوجاتی تھی  اور کچھ عرصہ  ریشنلسٹ سوسائٹی میں رہنے کے بعد مجھ سے ان بن کر کےاس نے  اپنی  رہ الگ کرلی –پھر کوئی دو سال سے مجھے کچھ خبر  نہیں تھی کہ وہ  سوشل میڈیا میں کتنا متحرک ہے – جب غائب کیے جانے والوں میں اس کا نام پڑھا تو افسوس بھی ہوا اور تعجب بھی کہ  یونانی فلسفہ کی زبان بولنے والا  قریب قریب ان پڑھ  اغواکاروں سے کیا بحث مباحثہ کر سکےگا –

مختلف علمی مباحثوں میں بطور طالب علم شرکت کرنے اور مختلف نظریات کےتانےبانےپرکھنے کے بعد میرے لئے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ  ہماری تمام سوچ  کی تعمیر کسی بنیادی  رویےپرمنحصر ہوتی ہے –جوسہل پسندسوچ کے حامل ہوں تو سماجی رویوں کی زنجیروں کو قبول کرکے ان  پر فدا ہوتے ہیں . وہ ملائیت کی اتھارٹی کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ شد ومد سے دفاع بھی کرتے ہیں – یہ افراد   اکثرجنونیت پر مبنی  قوم پرستی میں لذت پاتے ہیں اور ہر قسم کے قومی بیان کو قرآن و حدیث کےبرابر سمجھتے ہیں – ان لوگوں کے برعکس اگر آپ اتھارٹی کو ناپسند کرتے ہیں  تو پھر آپ ہر قسم کی اتھارٹی   کو رد کرتے ہیں.  اسلئے جو لوگ ملائیت  کے خلاف ہوں وہ اکثر دیگر طرز کےآمرانہ رویوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں –  وہ چاہے کسی کمسن بچی پر کسی جج کے گھر میں ہونے والا ظلم ہو  یا کسی سیاستدان کاہتکآمیز رویہ ہو  یا کسی پولیس کےکارندے  کی پولیس گردی ہو یا کسی جرنیل کی غیرقانونی حرکت ہو –   اگرعسکری  حلقوں  میں شدت پسندی کےخلاف خیالات فروغ پا رہے ہیں تو ان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ  ملک کے روشن خیال اور ترقی پسند  طبقے ان کے نظریاتی حلیف ہیں – اور اگر روشن خیال   کبھی عسکری اداروں پر تنقید کرتے ہیں تو ان اداروں کے بڑوں کو  دل بھی بڑا رکھنا چاہیے –

یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا  نے دنیا کوسکیڑ کر ہماری ہتھیلی پر رکھ دیا ہے – ہمارا ہر عمل اور بیان ساری دنیا دیکھتی اور سنتی ہے –   یہ قتل و غارتگری ، اغوا ، دھونس ، اور بندوق بازی  دہشت گردوں کو مبارک – ایک مہذب ملک میں نہ پولیس کو زیب دیتا ہے نہ کسی عسکری   ادارے کو کہ ان میں اور دہشتگردوں میں امتیاز کرنا مشکل ہوجاے –چند ماہ پہلے نوجوان صحافی سئرل  المیدانے خبر طشت از بام کی کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف  کارروائیاں کچھ اداروں  کی پشت پناہی  کی وجہ سے نہیں ہو  پارہیں-اس پر عسکری   اداروں  کے ردعمل سے یہ خبر اور بھی دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی –قمر باجوہ صاحب ایک نئی  ٹیم کے ساتھ آرمی کے سربراہ بنے ہیں –  وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر  ملک کو  ترقی کے راستے پر آنا ہے تو پھر شدت پسندانہ سوچ سے جان چھڑانا  بھی ضروری ہے – ان کو چاہیے کہ پچھلے کچھ دنوں میں جو قابل مذمّت    کاروائیاں ہوئی ہیں ان کا وہ نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ نہ صرف پروفیسر سلمان حیدر واپس اپنی درسگاہ  پہنچیں بلکہ تمام مغوی افراد کو  با  عزت رہائی ملے- امید ہے کہ قلم اور کاغذ کا راج ختم نہ ہوگا –  اور امید کی جاتی ہے کہ چند سالہ معصوم سا ارسطو جواپنے والد کی راہ تک رہا ہے اس کیلئے  یہ انتظار زیادہ طویل  ثابت نہیں  ہو گا-


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔