نا انصافی کا رونا رونے والے


\"\"اس سے ملئے ، یہ صابرہ ہے ، اسمی ٰ با مسمی ٰ، اس کی صبح چھ بجے ہوتی ہے ، چار بچے ہیں ، ایک سند یافتہ نشئی خاوند ہے ، گالیاں بکنے والے ساس سسرہیں اور پانچ گھروں کا نہ ختم ہونے والاکام ہے ۔24/7کا کیا مطلب ہوتا ہے اسے کچھ نہیں پتہ مگر اس کی زندگی کے چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے سات دن عذاب میں گزرتے ہیں۔ یوں تو صابرہ کے چاروں بچے ہی غذائی قلت کا شکار ہیں مگر سب سے چھوٹا تو بے حد کمزور ہے ، حکیم صاحب نے صابرہ کوکہاکہ بچے کو بادام کھلاﺅ پھر اس کی صحت بہتر ہوگی ، صابر ہ غریب کی روٹی پوری نہیں ہوتی تھی بادام کہاں سے کھلاتی ، خیر کچھ مہینے میں اس نے ہزار روپیہ جمع کیا اور ایک باجی جس کے گھر کام کرتی تھی اس کی منّت کی کہ بادام لا دے ۔ باداموں کا لفافہ لے کر صابرہ اپنے پیر صاحب کے پاس گئی تاکہ انہیں دم کردیں ، پیر صاحب نے دم کردیا اور ایک تعویذ بھی دیا کہ اسے باداموں والے برتن میں رکھ دینا ، دونا اثر ہوگا۔ گھر میں وہ برتن اس کی ساس کے ہاتھ لگ گیا جس میں تعویذ دیکھ کر اُس نے آسمان سر پر اٹھا لیا ، صابرہ کو دو ہتڑ مارے اور الزام لگایا کہ تم میرے بیٹے کو قابو میں رکھنے کے لئے جادو ٹونا کرواتی ہو، واضح رہے کہ جس بیٹے کی یہاں بات ہو رہی بطور خاوند اس سے بڑی اذیت صابرہ کے لئے دنیا میں کوئی نہیں ، بہر حال اس کے بعد وہ برتن بحق ساس ضبط کر لیا گیا ۔ بچے اور صابرہ کا کیا حال ہوا ہوگا، یہ جاننے کے لئے ایک دن اُس ڈیڑھ مرلے کے گھر میں گذارنا ہوگا جس میں آٹھ لوگ رہتے ہیں۔

صابرہ کو اُس کے حال پہ چھوڑتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں ۔ یہ ہجرت پر مجبور ایک شامی خاندان ہے ، میاں بیوی اور تین بچے ہیں ، سب سے چھوٹی بچی ڈیڑھ برس کی ہے جو ماں کی گود میں ہے ، نیلی آنکھوں والی یہ بچی حیرت اور خوف سے اپنے ارد گرد تنی بندوقوں کو دیکھ رہی ہے ، ماں اسے بار بار پچکارتی ہے کہ کہیں بچی ڈر کے مارے رو نہ پڑے ، خاوندجو کبھی ایک تنومند شخص ہوگا اس وقت حسرت و یاس کی تصویر بنا ہے ، وہ اُن سینکڑوں مہاجرین کے ساتھ خاردار تاروں سے سیل کی ہوئی سرحد پار کرکے اپنے خاندان کو محفوظ مقام پر پہچانا چاہتا ہے مگر سرحدی محافظو ں کی بندوقیں بتا رہی ہیں کہ اگر اُس نے ایسی کوئی کوشش کی تو بے دریغ گولی مار دی جائے گی ، عورتوں اور بچوں کی پرواہ بھی نہیں کی جائے گی ۔بچے اپنے باپ کو عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے ہیں ، وہ باپ جس کی بازوﺅں میں آکر وہ خود کو اس کائنات میں سب سے محفوظ سمجھتے تھے ، وہ باپ جو ان کی ایک مسکراہٹ پر اپنی جان نچھاور کر دیتا تھا ، وہ باپ جو ان کے لئے کڑی دھوپ میں سائبان تھا ، آج اسی باپ کو مجبور ، بے یارومددگار اور بے بس دیکھ کر وہ خوف سے کانپ رہے تھے ، اِن بچو ں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ سڑک کے کنارے کسی خیمے میں سردی سے ٹھٹھررہے ہوں گے اور اُن کا باپ جسے وہ دنیا کا سب سے طاقتور انسان اور سب سے زیادہ محبت کرنے والاشخص سمجھتے تھے ، اُنہیں سردی سے کانپتا دیکھ کر کچھ کرنے کی بجائے خود بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے گا۔

اسی بارے میں: ۔  جمہوریت کے غبارے سے ہوا نکل گئی

اِس شامی خاندان کو بھی اِس کے حال پر چھوڑتے ہیں اور بھارت چلتے ہیں ۔ یہ ہندوستان کا ایک دور افتادہ گاﺅں ہے ، یہاں بھارت سرکار کا ”سمویدھان ‘ (آئین )نہیں چلتا ، یہاں جس کی لاٹھی اسی کی بھینس ہے ، نچلی ذات والوں سے جانوروں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا ہے ، معمولی بھول چوک پر اُن کے پاﺅں کے ناخن نوچ لیے جاتے ہیں ، ان کی لڑکیاں اٹھا لی جاتی ہیں ،اور جو بچ جاتی ہیں اُن کی زندگی جہنم سے بھی بری گذرتی ہے ، کئی کئی میل تک انہیں سر پر برتن اٹھا کر پانی بھرنے کے لئے چلنا پڑتا ہے ، پورے گاﺅں میں کوئی ہسپتال تو دور کی بات ڈسپنسری یا ڈاکٹر نام کی بھی کوئی چیز نہیں ، اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اسے ضلع کے ہسپتال لے جانا پڑتا ہے جو کئی میل کے فاصلے پر ہے جہاں پہنچنے کے لئے سواری نہیں ملتی۔اِس گاﺅں میں ایک غریب آدمی کی حاملہ بیوی پانی بھرتے ہوئے پھسل کر زخمی ہو گئی ،خاوند بیچارہ بھاگم بھاگ پہنچا اور اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر پاگل ہو گیا، جیسے تیسے اسے ایک کپڑے میں لپیٹا اور پھر کپڑے کے دونوں سروں کو ایک بانس پر باندھ کر پیادہ ایمبولنس بنائی ، ایک طرف سے خود اٹھا یا اور دوسری طرف سے اُس کے باپ نے اور کئی میل پیدل پہاڑ چڑھ کر وہ گھنٹوں بعد ضلع کے ہسپتال پہنچے ۔ بد قسمتی سے ڈاکٹر کوئی معجزہ نہیں دکھا سکا، غریب کی جورو مر گئی مگر ایک زندہ بچی پیدا کرگئی ۔وہ بچی بھی ایسے ہی جئے گی جیسے اس کی ماں جی رہی تھی اور پھر اُس کی بچی بھی اُس گاﺅں میں ویسی ہی زندگی گزارے گی جیسی اس کی ماں گزارتی تھی ۔ تین نسلوں کی یہ غلامی آج اکیسویں صدی میں بھی رائج ہے ۔

اسی بارے میں: ۔  حافظ سعید: قومی اثاثہ یا سلامتی کےلئے خطرہ

بھٹے میں کام کرنے والے بچے ، خاندانی غلام ، مردوں کے اس معاشرے میں پسی ہوئی عورتیں ، پچاس ہزار روپوں کے لئے بچوں کو گروی رکھنے والے والدین ، گھروں سے در بدر ہونے والے آئی ڈی پیز، کسی بم دھماکے میں مرنے والے کے لواحقین ، کسی لا پتہ فرد کے گھر والے ، کوئی جیل میں پستا ہوا بے گناہ قیدی ، دو وقت کی روٹی کے لئے سولہ گھنٹے کام کرنے والے…. صابرہ سے لے کر شامی خاندان تک ایک لامتناہی فہرست ہے اس سفاک دنیا میںبرپا ہونے والی نا انصافیوںکی۔ اگر مجھ سمیت آپ میں سے کسی کا یہ خیال ہے کہ دنیا نے ہمارے ساتھ بہت نا انصافی کی تو ایک مرتبہ اس فہرست کو اپنے ذہن میں دہرا لیں ، افاقہ ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 149 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada