دہشت گردی ، فرقہ پرستی اور ہمارے وزیرداخلہ


\"\" آخر کار ہمارے وفاقی وزیرداخلہ نے اپنے دل کی بات کہہ دی ہے اور ایک زبردست بیان دیا ہے © ©”فرقہ وارانہ لڑائی کو دہشت گردی سے نہ جوڑا جائے“ایسی باریک بینی کا مظاہرہ یقینی طور پر کوئی وزیرداخلہ ہی کرسکتا ہے کسی دوسرے کی مجال نہیں۔یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہمارے ایک سابق وزیرداخلہ نے ہی کہا تھا کہ طالبان اپنے بچے ہیں جبکہ ایک دوسرے انتھک وزیرداخلہ نے فرمایا تھا کہ میں کسی مبینہ گستاخ کو خود قتل کردوں گا۔ریاست کے داخلی اُمور کی حفاظت کے لیے مامور کیے گئے وزرائے داخلہ سے بہتر کون جانتا ہے کہ دہشت گردی کیا بلا ہے اور اس کا سدباب کیسے ممکن ہے؟اگر وفاقی وزیرداخلہ کے اس تاریخی بیان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ،امریکہ،یورپ اور پاکستانی ریاست نے برسوں کے خونی تجربات کے بعد جن مسلح گروہوں اور تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا ہے،ان میں سے ایسے گروہ دہشت گرد نہیں جن کی شناخت فرقہ وارانہ ہے۔یقینی طور پر وزیرداخلہ کو اپنے اگلے خطاب میں یہ بتادینا چاہیے کہ فرقہ پرست گروہ کس طرح غلطی سے دہشت گردی کے الزام میں دھر لیے گئے اورپھر اِنہیں دہشت گرد قرار دے کر دنیا بھر میں بدنام کردیا گیا۔اس تاریخی بیان سے کم از کم پاکستان میں ایک بہت گھمبیر قانونی و آئینی کش مکش شروع ہوسکتی ہے کہ فرقہ پرست گروہ اگر دہشت گردنہیں تو اِن گروہوں کے ہزاروں کارکنوں پر کس طرح دہشت گردی کے مقدمات دائر کیے گئے،اِنہیں سزائیں سنائی گئیں،بعض کی سزاﺅں پر عمل درآمد بھی ہوچکا ہے جب کہ ہزاروں کارکن جیلوں میں قید ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ کی سربراہی میں پولیس کا ایک خصوصی شعبہ سی ٹی ڈی روزانہ ملک بھر کے مختلف اضلاع میںاِن فرقہ پرستوں جنہیں غلطی سے دہشت گرد قرار دیدیا گیا ہے، سے پولیس مقابلے کرتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیرداخلہ کا مذکورہ بیان محض سیاسی گپ بازی نہیں بلکہ ایک تلخ وضاحت ہے کہ پاکستان کی فرقہ پرست جماعتیں دہشت گردی میں ملوث نہیں بلکہ مذہبی جنگوں میں مصروف ہیں۔اگر وزیرداخلہ فرقہ پرست اکابرین کو اسلام آباد میں مدعو کرتے ہیں اورانہیں جلسے جلوسوں کی اجازت مرحمت کرتے ہیں تو یہ اصل میں سرکاری سطح پر اس اعلان کے مترادف ہے کہ مذکورہ جماعتیں اور تنظیمیںاُن کی حکومت کی نظر میں دہشت گرد نہیں۔فرقہ پرست گروہوں نے پاکستان میں اپنے مخالف فرقوں کے خلاف جنگ و جدل میں ایک اصولی مذہبی فریضے کے تقاضوں کے مطابق ہتھیار اُٹھائے ہیں،اس لیے اس قتل و غارت کو دہشت گردی کی پخ لگا کر گمراہی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔عین ممکن ہے وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد مذکورہ فرقہ پرست تنظیمیں حکومت پاکستان سے مطالبہ کریں کہ عدالتوں سے سزا پانے والے اِن کے ارکان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جائے اورزرتلافی بھی ادا کیا جائے کیوں کہ حکومت کے ایک انتہائی اہم عہدیدار نے اِنہیں دہشت گرد نہیں کہا بلکہ اِن کی جنگ کو مذہبی جنگ قرار دیا ہے۔

اگر تھوڑی دیر کے لیے وزیرداخلہ کے بیان سے صرف نظر کرلیا جائے اورپاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل وغارت کے مرتکبین کے درمیان تعلق کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو حیران کن نتائج سامنے آتے ہیں۔گذشتہ دوعشروں میں ریاست پاکستان میں دہشت گرد قرار دئیے گئے بڑے ناموں میں ایک بھی ایسا شخص شامل نہیں جس نے اپنی مسلح جنگ کا آغاز کسی فرقہ پرست گروہ کے پلیٹ فارم سے نہ کیا ہو۔وہ چاہے الیاس کشمیری ہو،ریاض بسرا،سلیم فوجی،ملک اسحاق، اکرم لاہوری ہو یا اس قبیل کو کوئی بھی فرد،اس کی نشوونما میں کالعدم قرار دی گئی فرقہ پرست تنظیموں اور گروہوں کا نمایاں عمل دخل ہے۔پنجابی طالبان کے عصمت اللہ معاویہ سے لے کر عدنان رشید تک ایسے سینکڑوں نام ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے قتل و غارت کا آغاز فرقہ پرست گروہوں سے کیا اور پھر عالمی سطح پر سرگرم عمل دہشت گرد جماعتوں اور گروہوں میں شامل ہوگئے۔پاکستان اور افغانستان میں پائی جانے والی دولت اسلامیہ کے سبھی ارکان معروف فرقہ پرست جماعتوں کے جانباز ارکان تھے اور آج بھی اِن کی واضح ہمدردیاں اِنہی جماعتوں کے ساتھ ہیں۔پاکستان میں پائے جانے والے طالبان گروپوں اور حقانی نیٹ ورک کے نمایاں ترین افراد بیک وقت فرقہ پرست گروہوں کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں اور عالمی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔سوائے ہمارے وزیرداخلہ کے کسی اور شخص کے بس کی بات نہیں کہ وہ اِن میں تخصیص کرسکے۔ یہ اعزاز چوہدری نثار علی خان کو حاصل ہے کہ اُنہوں نے انتہائی عرق ریزی کےساتھ اخذ کردہ نتائج کی بنیاد پر ایک بہت بڑے قضیے کی گتھی سلجھا دی ہے کہ جو ہزاروں مسلح افراد پاکستانی ریاست اورریاست کے شہری دیگر مسالک کے افراد کے خلاف سرگرم عمل ہیں، وہ اصل میں دہشت گرد نہیں بلکہ فرقہ پرست عناصر ہیں جو اپنی مذہبی جنگ لڑرہے ہیں۔

پاکستان میں جاری مذہبی دہشت گردی کی تاریخ کے سرسری جائزے سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ جہاں ملک میں دہشت گردی کے سدباب کے لیے جاری کوششیںقطعی نامکمل اور کمزور تھیں وہیں دہشت گردی کے بارے میں عمومی تصورات بھی بہت زیادہ دھندلائے ہوئے تھے۔ملک کے سول اور فوجی حکمران دہشت گردی کی تعریف اور تفہیم کے حوالے سے ہمیشہ تذبذب کا شکار رہے ہیں اور اس حوالے سے قومی موقف بھی موہوم رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ قومی سطح پر وہ لوگ دہشت گردی کی تعریف متعین کرتے رہے جو خود کسی نہ کسی حوالے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی معاونت کا کام سنبھالے ہوئے تھے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے فوجی جوانوں کی تضحیک کی جارہی تھی اور پاکستان میں وسیع پیمانے پر قتل عام کو اسلامی انقلاب کا نقیب قرار دیا جارہا تھا۔بعد میں اگرچہ پشاور سکول میں بچوں کے قتل عام کے بعد ایک نسبتاً استوار قومی موقف سامنے آیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایک بار پھر وہی اذہان دہشت گردی کی تعریف نو کرنے میں جت گئے ہیں۔پاکستان کا المیہ دہشت گرد واقعات سے زیادہ دہشت گردی کی تفہیم میں موجود الجھاو ہے۔اگر وزیرداخلہ یہ سمجھتا ہے کہ ہزاروں افراد کی قاتل فرقہ پرست تنظیمیں دہشت گرد نہیں تو باقی ماندہ ریاستی ذمہ داروں کی اہلیت کے بارے میں آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس صورت حال میں بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا،پولیس کے خصوصی شعبہ سی ٹی ڈی،ایف آئی اے،رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی کارکردگی کیسی ہوگی جب اُن کے سربراہ وفاقی وزیرداخلہ کی یہ حالت ہے کہ وہ دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کو (جو ہزاروں افراد کو قتل کرچکی ہیں) مذہب کے نام پر مقدس جنگ میں مصروف گروہ قرار دے رہے ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments