سائنس اور ا سلام کے مباحثہ میں علی گڑھ اسکول کا نقطۂ نظر (1)


\"\"ڈاکٹر سٹیفنو بگلیارڈی (Dr. Stefeno Bigliardi) کی علی گڑھ آمد اور ان کے چند استفسارات نے بعض ایسے پہلوؤں کو شدت سے ابھارا جن پر ہم بہت زیادہ غور کرنے کے روادار نہیں تھے۔ مثلاً یہ کہ کیا سائنس اور اسلام میں ہم آہنگی کا مسئلہ واقعی اہم ہے؟ یعنی ہم آہنگی کی تلاش میں کیا ذہنی صلاحیتوں کو کھپانا چاہئے بھی کہ نہیں۔ یہ سوال کہ علی گڑھ اسکول ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ اور اِسی طرح علی گڑھ اسکول کی دوسرے مفکّرین سے کہاں یکسانیت اور کہاں اختلاف ہیں وغیرہ وغیرہ۔

علی گڑھ اسکول کی اصطلاح پہلی بار معروف مفکّر ضیاء الدین سردار نے اپنے ایک مضمون میں استعمال کی۔ سید حسین نصر نے یہ اصطلاح تو نہیں لیکن اسکالرزکے اس گروپ کو حوالہ کے طور پر اپنے اکثر مضامین میں پیش کیا۔ یہ گروپ چند افراد پر مشتمل تھا جن میں راقم الحروف کے علاوہ ڈاکٹر محمد ریا ض کرمانی، ڈاکٹر رئیس احمد اور ڈاکٹر کلیم الرحمٰن وغیرہ شامل تھے۔ان کے مضامین معروف جرنل آف اسلامک سائنس (Journal of Islamic Science) میں شائع ہوتے رہے تھے۔ مختلفApproaches  میں انفرادی شناخت تو فطری ہے ہی لیکن سائنس کے تئیں اجتماعی اپروچ میں یکسانیت نے بھی اسے ایک اسکول کی شکل عطا کی۔ اس کے علاوہ علی گڑھ اسکول کے نقطۂ نظر کے زبانی یا تحریری اظہار سے پہلے ایک ادارہ یعنی Centre for Studies on Science (CSOS) کی تشکیل اور ان افراد کی اس سے وابستگی نے بھی اسے ایک فکری اسکول کی حیثیت سے ابھارا تھا۔ دوسروں کی بہ نسبت جن کا فکری کام اصلاً انفرادی تھا اور ان کی شناخت کسی اسکول کی حیثیت سے نہیں بلکہ دانشور کی حیثیت سے تھی علی گڑھ اسکول نے پہلے ایک گروپ اور پھر ادارے کی شکل اختیار کی اور پھر تصنیفی کام شروع ہوا۔ چنانچہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ علی گڑھ اسکول میں مقاصد کسی حد تک پہلے سے واضح تھے لیکن علمی و تحقیقی کام بتدریج بڑھنا شروع ہوا تھا۔

1982 میں جب یہ کام شروع ہوا تو اسلام اور سائنس کے موضوع پر عالمی سطح پر سید حسین نصر اور ضیاء الدین سرادار کا بول بالا تھا۔ تقریباً اسی دوران اسماعیل راجی الفاروقی نے علم کی اسلامی تشکیل جدید کے اپنے عظیم منصوبہ کا آغاز کیا تھا۔ لیکن آگے بڑھنے سے قبل یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ مورِس بوکائے کی شہرۂ آفاق کتابThe Bible, the Quran and Science  شائع ہو کر عالم اسلام میں مقبول ہو چکی تھی۔ چنانچہ اسلام اور سائنس کے موضوع پر کام کے لئے مارس بوکائے کی اس کتاب نے ایک قسم کا پس منظر فراہم کیا اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ80 کے عشرے میں اِس کتاب نے کافی عرصہ تک ذہنوں کو نئی سمتوں میں چلنے سے مفلوج رکھا تھا۔

جب علی گڑھ اسکول کی اپنی پہچان ابھرنی شروع ہوئی تو اُس وقت یہی چار بڑے نقطہ ہائے نظر پائے جاتے تھے اور اِن چاروں نے اِس اسکول کے وابستگان کو کسی نہ کسی طرح متاثر کیا تھا۔ ہم اِن چاروں نقطہ ہائے نظر کا ایک مختصراً تجزیاتی تعارف پیش کرتے ہیں تاکہ علی گڑھ اسکول کی شناخت کا بہتر طور پر ادراک ہوسکے۔

مورِس بوکائے کی تصنیف اور اس کا پس منظر

مورِس بوکائے کی معروف تصنیف 80 کی دہائی میں شائع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے عالم اسلام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کر لی۔ نہ صرف مختلف زبانوں میں ترجمے شائع ہوئے بلکہ اس کے نتیجہ میں قرآن اور سائنس کے موضوعات پر تحقیق کو بڑی سطح پر تحریک ملی اور حکومتی سطح پر اِداروں کی تشکیل ہونے لگی اور کانفرنسوں اور سمیناروں کا سلسلہ چل نکلا۔ اِس کتا ب کی شہرت اور عوامی مقبولیت کی تین خاص وجوہات تھیں۔ پہلی یہ کہ عالم اسلام کی عمومی فکری و علمی پسماندگی کی فضا میں یہ ایک ایسا اعلان تھا جو قرآن جیسی اہم کتاب کے دعووں کی صحت کو سائنسی سطح پر صحیح ثابت کر رہا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ اعلان خاص علمی سطح سے بالکل علمی انداز میں ایک غیر مسلم مغربی سائنسی ماہر کی طرف سے ہوا تھاجومسلمانان عالم کے لئے اس زمانہ میں بڑے عظیم علمی انبساط کا ذریعہ بنا۔ گرچہ مورِس بوکائے معروف معنیٰ میں کوئی سائنسدان نہ تھا وہ محض ایک غور و فکر کرنے والا ماہر معالج تھا اور اس نے نہ تو قرآن کریم کے اعزاز کی خاطر اور نہ ہی بائبل سے کسی قسم کے اختلاف کی بنا پر محض ایک علمی اور معروضی کام کیا تھا۔ تیسری اہم وجہ خالص نفسیاتی نوعیت کی تھی کہ ایک طرف عالمی غلبہ والی قوم یعنی عیسائیوں کی مذہبی کتاب کی علمی کمزوری کو سائنسی ثبوت مل رہے تھے اور دوسری طرف مسلمانوں کی کتاب کو علمی اعتبار حاصل ہو رہا تھا۔ اس سے قبل بھی اس نوع کے کام ہوتے رہتے تھے۔ ترکی، ہندوستان اور مصر کے بعض علماء قرآن کریم کو جدید علوم کی بنیاد پر سمجھنے کی خاصی وقیع کوششیں کر چکے تھے اور اپنے اپنے ملکوں میں ان کو پذیرائی بھی ملی تھی۔ لیکن یہ کتاب کیونکہ ایک سائنسی طور پر ترقی یافتہ مغربی ملک یعنی فرانس کے ایک عیسائی عالم کا کارنامہ تھی اس لئے اِس کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ دوسرے یہ کہ علمی انداز بالکل جدید نوعیت کا تھا اور عصری سائنسی علوم کی روشنی میں اس تصنیف کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ قرآنی حقائق کو سائنس کی زبان میں سمجھنے یا سائنسی حقائق کو قرآنی آیات کی روشنی میں صحیح ثابت کرنے کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا تھا اور اس سلسلہ میں علامہ طنطاوی کی مشہور تفیسر خاصی پہلے سامنے آ چکی تھی۔ اسی طرح سر سید احمد خان اُس وقت کی سائنسی معلومات کی روشنی میں قرآنی تفسیرانیسویں صدی میں ہی کر چکے تھے اور متعدد قرآنی تصورات کو سائنسی زبان میں بیان کرکے خاصی تنقید و مخالفت مول لے چکے تھے۔ مورِس بوکائے کے بعد بھی ایک بنگلہ دیشی سائنسداں کے زیر نگرانی انگریزی زبان میں ایک وقیع کام ہواجس میں متعدد قرآنی آیات کو سائنس کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی اور اِس طرح ترکی کے نورباقی نے بھی کتابی شکل میں ایساہی کام کیا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  ٹیچرز کیسے ہونے چاہیئیں؟

چنانچہ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ مورِس بوکائے کی کتاب آنے سے قبل بھی اور اس کے بعد بھی اس نوع کا کام جاری رہا اور اسے عوام میں کسی حد تک مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔لیکن اس Approachکی بڑی وقیع تنقید بھی ہوئی ہے۔ذیل میں ہم اس تنقید کا تجزیہ کرتے ہوئے بتانے کی کوشش کریں گے کہ اِس کام کے پیچھے کیا محرکات ہوسکتے ہیں ؟

(1) مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی حیثیت انتہائی بنیادی ہے۔ اُن کی علمی، فکری، روحانی، اور عملی زندگی میں قرآن کی جو حیثیت ہے وہ دنیا کی کسی اور کتاب کو حاصل نہیں۔ اُس کی ہر ہدایت اور نقطۂ نظر یا حکم وقت کے علمی و فکری معیار پر اور تجربہ کی کسوٹی پر اصولاً کھرا اترنا چاہئے۔ یہ خواہش اُن کے عقیدہ کا نتیجہ ہے لیکن قرآن کیونکہ1400برس قبل نازل ہوا تھا اور اُس زبان میں نازل ہوا جو آج علمی یعنی سائنسی زباں نہیں رہی اور مزید یہ کہ نزول کے وقت کے اثرات بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اِس لئے بہت سے مقامات کو جدید ذہن اور جدید فکر کی روشنی میں سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اس سے اختلاف نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ہر قاری کی ایک فطری ضرورت ہے۔ اِنسانی فہم کی اِس نارسائی کے نتیجہ میں ایک طر ح کےتناؤ کا موجود رہنا فطری ہے۔ بوکائے کی Approach نے مسلمانوں کی اس ضرورت کو کسی حد تک پورا کیا۔

(2) جدید علوم بالخصوص سائنس کیونکہ ایک غالب علم ہے اور وقت کی تمام تر قوتوں اور ترقیوں کا انحصار اِسی پر ہے اور انکشافات کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ہمہ وقت ہمارے مشاہدہ اور استعمال میں رہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کے ذریعہ سائنسی حقائق اور انکشافات کی تصدیق مسلمانوں کو ایک ایسی خود اعتمادی سے سرشار کر دیتی ہے جو قرآن کی حقانیت پر ان کے عقیدہ کو مضبوط تر کر دیتی ہے۔ اِسی طرح وہ قرآنی بیانات جو عموماً عقیدہ کا حصہ ہوتے ہیں اور عام انسانی عقل کے حصار میں نہیں آتے اگر اُن کو بھی عصری علوم کی روشنی میں سمجھایاجا سکے تو اِس اعتماد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  شریف خاندان تقسیم ہو چکا۔ مگر۔ ۔ ۔

(3)  لیکن مذکورہ دونوں اپروچ کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ عقیدہ اپنی کسوٹی کے لئے سائنس کا محتاج ہو جاتا ہے اور اس طرح عقیدہ عقیدہ نہیں رہتا۔ اِس اپروچ کو بوکائے اِزم کا نام پہلی بار معروف اسکالر ضیاء الدین سردارنے دیا اور یہ بتایا کہ اِس رویہ کا حامل فرد یا افراد در اصل دو مالکوں کی بیک وقت غلامی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ قرآن کی پیروی چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی سائنس سے انکار کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنس کی پیروی کرنے میں اُنھیں قرآن کریم کے احکامات یا اس کے نقطۂ نظر سے اختلاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں سائنسی ترقی کے نتیجہ میں قرآن کے متعدد بیانات کی زیادہ بہتر تفہیم سامنے آ سکے۔ لیکن بوکائے ازم سے یہی نتیجہ سامنے آتا ہے چنانچہ فی نفسٖہ یہ اپروچ صحیح نہیں۔ سائنس اصلاً تو مشاہد ہ اور تجربہ پر مبنی علم ہے جبکہ قرآن جس طر ح کا علم پیش کرتا ہے وہ بنیادی طور پر عقل کو اپیل کرنے والا ہے۔عقیدہ کی حقانیت دو اور دو برابر چار کی مانند اِنسان کے سامنے نہیں آتی۔ چنانچہ اِن دونوں کا مقابلہ کرنے کے دوران ہم مادّی معیار سے غیر مادّی عقیدہ کو جانچنے کی غلطی کرتے ہیں، غیر مادّی عقیدہ کے علم کے معیار پر ہم مادّی علوم پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اِس طرح ہر دو میں سے کسی ایک علم کی ترقی کا معیار فروتر ہوتا جاتا ہے۔

مورِس بوکائے اور اِس قبیل کے وہ دانشور جو ان سے پہلے یا ان کے بعد اس طرح کا کام کرتے رہے ہیں وہ نہ تو سائنسی افکار میں کسی طرح کی ترقی کا ذریعہ بنے ہیں اور نہ ہی قرآن کے فہم کے باب میں کوئی گرانقدر اضافہ کرسکے ہیں۔ ہمارے دور میں نور باقی ہو یا ہارون یحیٰ اِن حضرات نے مسلم معاشرہ میں سائنس یعنی آفاق وانفس میں وسعت پذیر مظاہرِ فطرت اور اشیاء پر غور و خوض اور فکر و تدبر کے لئے راہ ہموار نہیں کی۔ بلکہ ایک ایسی فضاء پیدا کی ہے جو بتدریج فکر و تدبر کے دروازے بند کر تی چلی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر ذکی کرمانی 1950 میں بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ کیمسٹری میں اعلیٰ تعلیم پائی۔ ڈاکٹر کرمانی گزشتہ چار دہائیوں میں سائنس اور اسلام کی فکری بحث میں ایک اہم مفکر کے طور پر شریک رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا زیر نظر مقالہ اس موضوع پر خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی علمی افادیت کے پیش نظر اسے مکمل متن کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔