سائنس اور ا سلام کے مباحثہ میں علی گڑھ اسکول کا نقطۂ نظر (3)


\"\"اسماعیل فاروقی اس میدان میں دوسرا لیکن بہت بڑا نام اس لئے ہے کہ انھیں اسلامائزیشن آف نالج کے سلسلہ میں بے تحاشا وسائل ملے جن کے نتیجہ میں انسانی وسائل کی بھی کوئی کمی نہ رہی۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ خود ایک انتہائی معروف امریکی یونیورسٹی سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق کی دنیا مین بڑا مقام رکھتے تھے۔اس کے ساتھ نہ صرف یہ کہ وہ خود بلکہ ان کے بہت سے رفقاء ایسی تحریکوں سے متعلق تھے جوا پنے اپنے ملکوں میں اسلام کو سماجی اور سیاسی اعتبار سے غالب دیکھنا چاہتی تھیں اور اس اعتبار سے علم کی بہت سی شاخوں کو مجموعی اسلامی فکر اور کلچر سے ہم آہنگ دیکھنا ان کی ضرورت تھی۔اسماعیل فاروقی کی بنیادی کتاب یعنی Islamization of Knowledge : Work Plan سے ان کے پورے گروپ کا یہ بنیادی مدّعا نکل کر سامنے آتا ہے کہ اسلامائزیشن آف نالج، اسلام کو غالب کرنے کی راہ کا ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے۔

لیکن یہ یقین رکھنے کے باوجود کہ جدید سائنس قوت کا سرچشمہ ہے اُنھیں اسلامی فکر کے ساتھ سائنس کی ضروری ہم آہنگی کے بارے مین کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوا۔ چنانچہ یہ نتیجہ نکالنا صحیح ہے کہ وہ سائنس اور اسلام کو ہم آہنگ ہی سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں تصور کائنات،اقدار اور سائنسی تحقیق کی ترجیحات اور انھیں منطبق کرنے کے باب میں مروجہ رویہّ اسلام سے متغائر نہ تھے۔اسی بنا پر ان کی پوری توجہ سوشل سائنس تک ہی محدود رہی۔ چنانچہ Work Plan جن بارہ اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے وہ سب سوشل سائنسز ہی سے متعلق ہیں۔

اسماعیل فاروقی کی اس پوری کوشش میں یہ بات کہیں سامنے نہیں آتی کہ جس نالج کو وہ اسلامائزکرنا چاہتے ہیں اس میں غیر اسلامی کیا ہے؟ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے جس کے باب میں وہ بالکل خاموش ہیں۔ان کے مطابق علوم کے میدان میں ماضی کی اسلامی تہذیب میں کیا ہوا اس کی معلومات حاصل کرنا اور پوری طرح اس کا فہم حاصل کر لینا اور جدید علوم میں بھی مہارت حاصل کر لینا اسلامائزیشن کی بنیادی ضروریات ہیں۔ یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ ماضی کے علوم پر مہارت کی دور جدید میں کیا ضرورت ہے؟ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ موجودہ علوم کو چھانٹ پھٹک کر اسلامائز تو کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اسلامائزہو کر وہ کیا شکل اختیار کریں گے کہ اس بارے میں کوئی خاص بات نہیں کہتے۔ اس سے ملتا جلتا دوسرا سوال کہ اس نوع کے نئے علوم پیدا کیونکر ہوں گے اور کس طرح ترقی کریں گے ؟ اسماعیل فاروقی اس باب میں بالکل خاموش ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی علم میں اگر ارتقاء نہ ہو اور وہ آگے نہ بڑھ سکے تو اس کو اسلامائز کرنے سے کیا فائدہ ہو گا۔ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے اور شاید ان جیسے سوالوں کا خاطر خواہ جواب نہ ہونے کی بنا پر پوری تحریک اس وقت بے جان نظر آتی ہے۔

سائنس میں اقدار اور تصور کائنات کی اہمیت

 سائنسی عمل دراصل اس کائنات میں موجود ا شیاء اور مظاہر کے مطالعہ اور ماخوذ نتائج کے انطباق سے عبارت ہے چنانچہ اس عمل میں تصور کائنات اورانطباق کے با ب میں اقدار کی اہمیت واضح ہے۔ بالفاظ دیگر سائنس در اصل ایک تہذیبی عمل ہے اور جو نظریات و اقدارکسی تہذیب کی تشکیل کرتی ہیں وہی اس میں کارفرما سائنسی عمل کی تہذیب و تشکیل کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں۔ چنانچہ ہر تہذیب میں پائی جانے والی سائنس کی تاریخ کا مطالعہ اس میں موجزن نظریات و تصورات اور اقدار کی کار فرمائی کا پتہ دیتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر اصلاً ضیاء الدین سردار کا ہے اور اسی سلسلہ میں انھوں نے اسلامی تہذیب میں سائنس کے ارتقاء کے باب میں اُن تصورات اور اقدار کی نشاندہی کی ہے جو اسلامی معاشرہ میں سائنس کو ایک متحرک اور موثر سر گرمی کی حیثیت سے قائم کرنے کے ساتھ اس کے مسلسل ارتقاء کا باعث رہے ہیں۔ ضیا ء الدین سردار ان قدروں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں جو سائنسی سرگرمی کو کسی مخصوص رخ کی طرف لے جاتی اور دوسرے رخ پر جانے سے روکتی ہیں۔ چنانچہ ضیاء الدین سردار دوسرے مفکّروں کے مقابلہ میں سائنس کو ایسا میدان نہیں سمجھتے جو بیرون سے آیا ہو اوراسلام میں اس کی جگہ متعین کی گئی ہو۔ وہ دراصل سائنس کو اسلامی اور قرآنی فکر کا ایک حصہ تسلیم کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اسی پس منظر میں وہ جدید مغربی سائنس کی تنقید کرتے ہیں اورسائنس میں مسلمانوں کی زبوں حالی کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہیں۔ یہ تصورات اور قدریں ایک طرف ان اشیاء اور اقدار کے کے تئیں انسانی رویّوں کو متاثر کرتی ہیں تودوسری طرف ان کے انطباق کے لئے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔لیکن ایک دوسرا اہم پہلو سوال کے articulation ہے۔ہم جانتے ہیں کہ سائنس سوالوں کے سہارے آگے بڑھتی ہے۔

اگر سوال پیدا نہ ہو تو سائنس کا ارتقاء نہ ہوسکے گا اور جواب سوال کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ البتہ سوال ہو یا جواب دونوں ہی تصورِ کائنات سے تشکیل پاتے ہیں اور شاید اسی لئے ضیا ء الدین سردار کے یہاں اصل اہمیت تصور کائنات کی ہے۔جو تہذیب کی تشکیل کرتا اور تصورات اور اقدار سے ترکیب پاتا ہے۔

اس حقیقت کا انکشاف1960 اور 1970 کے زمانہ اس وقت واضح ہوا جب تاریخ سائنس پر بعض بنیادی اور اہم تخلیقات سامنے آئیں البتہ 1927 میں شائع ہونے والی جارج سارٹن کی معروف کتاب Introduction to the History of Science میں بھی یہ اشارے مل چکے تھے کہ مسلم تہذیب کے زیر سایہ سائنس میں زبردست کام ہوا تھا۔ لیکن بیسویں صد ی کے نصف آخر میں فوات سازگین نے جو تحقیقات پیش کیں ان کے نتیجہ میں دور اسلامی میں سائنس کی ترقی کے بارے میں بڑی مضبوط بنیادیں فراہم ہو گئیں۔ اور آج یہ خود ایک اہم مضمون کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ اسلامی تصوّر فطرت، علم اور اقدار کی یگانگت اور استصلاح کی بنیاد پر ایک جدید سائنس کس طرح پرورش پا سکتی ہے۔ 1984 میں ضیاء الدین سردار نے اپنی کتاب Touch of Midas میں ایک جدید اسلامی سائنس کا ابتدائی خاکہ پیش کیا تھا جسے بعد میں Explorations in Islamic Science (1984) واضح کیا۔ یہ تصورات قرآن کریم سے ماخوذ ہیں اور وہ بنیادی اقدار فراہم کرتی ہیں جو ایک جدید اسلامی سائنسی کلچر کی بنیاد رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ضیاء الدین سردار نے اس طرح کے کُل دس تصوّرات کی نشاندہی کی ہے جو توحید، خلافہ، عبادہ، علم، حلال، حرام، عدل،ظلم، استصلاح اور ذیاء پر مشتمل ہیں جو قدروں میں ڈھل کر ایک مکمل سائنسی ثقافت کے قیام کو جنم دیتے اور سائنسی تحقیق و جستجو کی تحریک برپا کرسکتے ہیں جہاں حقائق اور اقدار یکجا ہو کر ایسے ادارے تشکیل پاتے ہیں جن میں جوابدہی اور معاشرے کے تئیں ذمہ دارانہ رویہّ بالکل واضح اور ان کی شناخت بن کر ابھرتا ہے۔ یہ تصورات کسطرح سائنس اور ٹکنالوجی کو متاثر کرتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ توحید جو ایک اہم قدر ہے اس کا مذہبی تصور تو خدا کی وحدانیت ہے لیکن جب یہ معاشرہ کو متاثر کرتا ہے تو انسانیت، فرد اور فطرت کی وحدت یعنی ارتباط کے تصور کو ابھارتا اور علم و اقدار کو مربوط کرتا ہے۔خلافت کا تصوّ ر بھی توحید کا ہی شاخسانہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ انسان مکمل طور پر آزاد وجود نہیں بلکہ خدا کو جوابدہ ہے اور اپنی سائنس و ٹکنالوجیکل سرگرمیوں میں اس کا رویہ ذمہ دارانہ ہونا چاہئے۔ اسی طرح اس کے یہ معنی ہی نہیں کہ انسان اس سرزمین کی اشیاء پر مالکانہ استحقاق نہیں رکھتا بلکہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اس عارضی گھر کی تمام ان خصوصیات کو برقرار رکھے بلکہ اس کی ترقی کی کوشش کرے جن پر اسے پیدا کیا گیا اور جن کی بنا پر یہاں ہر نوع کی زندگی کی نمو ہو رہی ہے۔ اس طرح جب سائنسی عمل یا سائنسی تفکّر ایک عبادت بن جاتا ہے توانسان فطرت یا مخلوق کے تئیں تشدد نہیں اختیار کر سکتا۔ مزید یہ کہ انسان یہ کہہ کر بری الذمّہ نہیں ہوسکتاکہ میرا کام تو محض تحقیق کرنا تھا اس کے غلط اور نقصان دہ استعمال کا میں ذمّہ دار نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایک سائنسداں اندھا بہرا نہیں ہوتا بلکہ اس کا تفکّر و تدبّر تو دراصل عبادت اور اس کے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بن جاتے ہیں اسی طرح یہ دباؤ اور ظلم سے بھی بے بہرہ نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ایسے مقاصد کو اپنا سکتا ہے جو نقصان دہ یعنی حرام ہوں۔ حلال یعنی سودمند سرگرمیاں اور تخلیقات انسانی فلاح کے لیے ہیں اور معاشرتی و معاشی اور ثقافتی سطح پر عدل کی جویا ہیں۔

سائنس کے بارے میں اس نقطۂ نظر کی وضاحت ضیاء الدین سردار کرتے رہے ہیں اور اس گروپ کو خود انھوں نے اجمالی یعنی Holistic اپروچ کا حامل قرار دیا ہے

علی گڑھ اسکول

علی گڑھ اسکول کو سمجھنے کے لئے جہاں مذکورہ بالا فکری فضا کو سمجھنا ضروری تھا وہیں Centre for Studies on Science کے قیام اور اس کے پس منظر کو جاننا بھی ضروری ہے۔ابتداً یہ جان لینا چاہئے کہ اس ادارہ کا قیام ایک اجتماعی فیصلہ کا نتیجہ تھا جو 1981 میں Student Islamic Movement of India (SIMI) کی ایک شوریٰ کی میٹنگ منعقدہ لکھنؤ میں کیا گیا۔ یہ تنظیم انتہائی معروف جماعت اسلامی ہند کی نوجوان طلباء کا ایک غیر رسمی بازو تھی اور اسے اس جماعت کا ہر ممکن تعاون اور رہنمائی حاصل تھی۔کیونکہ جماعت اسلامی نے اپنے اہداف اور طریقۂ کار معروف اسکالر مولانا سید ابو الا علی ٰ مودودی کے تصورات اور ان کے تجزیہ کی روشنی میں طے کئے تھے اس لئے SIMI بھی مولانا مودودی کو ہی اپنا مینٹر تسلیم کرتی تھی۔ اسلام کیونکہ پورے زندگی پر حاوی ایک دین کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا اس لئے دانشوری کی روایت ہو یا سیاسی معاشرتی اور معاشی اہداف اسلام کا غلبہ ہر سطح پر پیش نظر تھا۔SIMI انھیں خیالات کو طلباء اور طلباء کے اداروں میں پھیلانے اور انھیں مقاصد کے حصول کے لئے طلباء کے ذہنوں کو تیار کرنے کا کام انجام دے رہی تھی۔ یہی مقاصد جماعت اسلامی کے بھی تھے لیکن SIMI نے 1980کے اوائل ہی میں یہ طے کر لیا تھا کہ اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھے گی اور بعض تجربات کرے گی۔ چنانچہ یہ طے ہو ا کہ جماعت اسلامی کے پیش نظر عمومی اہ گڑھ اسکول :اداف کے ساتھ ساتھ کچھ مخصوص اہداف کو بھی نشانہ بنا یا جائے اور ان کے حصول کے لئے مخصوص اور منفرد کوششیں کی جائیں۔ چنانچہ علم و عمل کے ان میدانوں کی نشاندہی کی گئی جو اسلام کے غلبہ میں اہم رول ادا کرسکتے تھے۔ نشاندہی کے اس عمل میں سائنس جو اس وقت کے فہم کے مطابق انسانی فلاح اور حصول قوت کا ایک جز بھی تھی۔ اپنی پوری اہمیت کے ساتھ سامنے آئی اور یہ طے کیا گیا کہ ایسی علمی و فکری کوششیں کی جائیں تاکہ موجودہ سائنس جو محض مادّی اخلاقیات پر قائم تھی اور ترقی پا رہی تھی وہ اسلام کی اخلاقی اور فکری بنیادوں سے ہم آہنگ ہوسکے۔ SIMI کی شوریٰ کی مذکورہ بالا میٹنگ کے دوران ان کوششوں کو منظم کرنے کی ذمہ داری راقم کو دی گئی جو اسوقت SIMI کاکل ہند صدر تو تھا ہی محض ایک سال قبل Indian Institute of Technology,(IIT) Delhi سے 1979 میں کیمسٹری میں Ph.D. بھی کر چکا تھا۔ ابتداء میں ادارہ کی شکل کو Science Cell کہا گیا لیکن 1982میں SIMI سے ریٹائرمنٹ کے بعد جب فراغت ملی تو اسے بتدریج ایک ادارہ کی شکل دی گئی اورCentre For Studies on Science کے نام کے ساتھ اسے Society کی حیثیت میں رجسٹر کرایا گیا۔

اس ابتدائی تعارف سے یہ اندازہ ہونا چنداں مشکل نہیں کہ CSOS کی تشکیل میں شامل افراد  اصلاً activists کا ایک منظم گروہ تھا جس کی فکری بنیادوں کا تذکرہ ہم اسلامایزییشن آف نالج کے تذکرہ میں مولانا مودودی کے حوالہ سے کر چکے ہیں۔ چنانچہ ابتدائی دور میں جو پروگرام تشکیل دیا گیا اس میں activism کا رنگ نمایاں ہے۔ مثلاً مختلف مقامات پر سیمیناروں اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد جن میں سائنس پر مختلف اسکالرز کے ذریعہ کی جانے والی معاشرتی تنقید اور اسلامی نقد کا تعارف کرایا جاتا تھا۔ یہ اصلاً ذہن سازی کا عمل تھا اور مقصد یہ تھا کہ سائنس کو neutral سمجھنے اور سمجھانے کی جو شعوری کوششیں ہوئی تھیں ان کا ناقدانہ جائزہ لیا جائے اور یہ بتا یا جائے کہ سائنسی ترقی اپنے ساتھ اپنی ایک خاص معاشرت بھی لاتی ہے۔اور کرنے اور سوچنے کا اس کا ایک اپنا ڈھنگ ہے جس کے سامنے دوسرے اور مقامی طریقے اپنی اہمیت بتدریج کھو دیتے ہیں۔

CSOS کے تحت کام کا آغاز ہوا تو تین نقطہ نظر متفق علیہ تھے جنھوں نے مستقبل کے کاموں کی تشکیل میں اہم رول ادا کیا ہے۔

(1) قرآن کریم عقل کو اپیل کرنے والی مذہبی کتاب ہے اور وہ سائنسی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

 (2) سائنس انسانی فلاح کا ذریعہ توہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ و ہ طاقت، غلبہ اور تشدّد کا ذریعہ بھی بن گئی ہے ۔

(3) جدید سائنس کا جس طرح سے ارتقاء ہوا ہے اس نے اسے اقدار سے خالی بلکہ قدروں کا مخالف بنا دیا ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر ذکی کرمانی 1950 میں بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ کیمسٹری میں اعلیٰ تعلیم پائی۔ ڈاکٹر کرمانی گزشتہ چار دہائیوں میں سائنس اور اسلام کی فکری بحث میں ایک اہم مفکر کے طور پر شریک رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا زیر نظر مقالہ اس موضوع پر خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی علمی افادیت کے پیش نظر اسے مکمل متن کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔  


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “سائنس اور ا سلام کے مباحثہ میں علی گڑھ اسکول کا نقطۂ نظر (3)

  • 13-01-2017 at 9:13 am
    Permalink

    لگے ھاتھوں یہ بھی واضح کردیں کہ “اسلام کا غلبہ” سےآپ کی کیا مراد ہے، اور اگر سائنس انسانی فلاح کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ تشدد اور جبر کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے تو اسلام یا کوئی اور مذہب اس امکان سے کس طرح پاک ہے۔

Comments are closed.