لکھنے کی حماقت کرنے والوں کے لئے کچھ مفید مشورے


\"\"

اگر آپ اس فکر میں ہیں کہ پندرھویں صدی میں لیونارڈو ڈاونچی میلان میں کیا کر رہا تھا یا آپ تیرھویں صدی میں یورپ کے جنسی اخلاقیات کو پڑھ رہے یا آپ کو ویتنامی انقلابی ہوچی منہہ کے روس اور چائنا میں گزارے گئے وقت میں دلچسپی ہے تو یہ بے معنی باتیں ہے۔ ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ابن عربی منصب نبوت کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا تھا۔ ہمیں یہ فکر کیوں کھائے جا رہی ہے کہ مذہبی عبارت کے نقل میں تواتر کس چیز کو حاصل ہے اور کس چیز کو نہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ محمد علی چراغ کا ’تاریخ پاکستان‘ پڑھنے کے بعد ایک شخص سٹیفن کوہن کا ’تصور پاکستان‘۔ بھی پڑھے؟ اگر آپ اپنے فارغ وقت میں کتاب پڑھتے ہیں تو آپ غلط کرتے ہیں۔ آپ شہاب نامہ پڑھیں گے تو کسی وقت آپ کو عائشہ جلال کی جدوجہد پاکستان بھی پڑھنی پڑے گی۔ ٹھیک ہے آپ نے کسی اچھے وقت میں نسیم حجازی کو پڑھ لیا تھا لیکن منٹو پڑھنا کیا ضروری ہے؟ اگر آپ کو تاریخ سے دلچسپی ہی ہے تو ڈاکٹر صفدر محمود کو پڑھیے ڈاکٹر مبارک علی کو پڑھنا کیا ضروری ہے؟ دیکھیے آسان کر لیتے ہیں۔ یہ گوگل کا زمانہ ہے اور ضرورت کا تمام علم اس وقت گوگل پر دستیاب ہے۔ آپ سرچ کیجیے اور پیسٹ کیجیے۔ یہی زمانے کا چلن ہے۔ اس کے بعد اگر آپ کے پاس فارغ وقت بچتا ہے تو میں آپ کو چند مفید چیزیں سکھا سکتا ہوں۔

\"\"

آپ کے آس پاس ضرور کوئی لنڈا بازار، کوئی کباڑیا یا کوئی اتوار بازار لگتا ہو گا۔ آپ کسی فارغ وقت میں کسی بازار کا چکر لگائیں اور وہاں سے شیشے کے دو، چار جار خرید لائیے۔ ساتھ میں اگر ایک دو بڑے پیالے ملیں تو وہ بھی خرید لایئے۔ اب آپ کو ضرورت ہے کچھ کیکٹس کی اور موٹے پتوں والے پودوں کی۔ ان موٹے پتوں والے پودوں کو Succulent کہتے ہیں۔ یہ کسی بھی نرسری سے آرام سے مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ آپ کو رنگ دار ریت اور فرش میں استعمال ہونے والے مختلف رنگوں کے چپس کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان میں آپ کو رنگ دار ریت نہیں ملے گی اور چپس کے کاروباری حضرات کلو دو کلو کا چپس نہیں بیچتے۔ چپس کے لئے تو آپ یوں کیجیے کہ کسی ایکیوریم والے کی دوکان پر جائیں اور مختلف رنگوں کے چپس کے دو دو کلو خرید لیں۔ میرے پاس پچھلے سال سے پانچ سو روپے کا خریدا گیا چپس ابھی تک موجود ہے۔ رنگ دار ریت کے لئے ایک اور کام کیجیے۔ اپنے قریبی کریانے کی دوکان سے آیوڈین ملے نمک کے چار تھیلے خرید لیں اور اس سے زردے کے مختلف رنگ یا کوئی بھی مختلف رنگوں کا فوڈ کلر لے لیں۔ نمک کو چار یا چھ حصوں میں مختلف پلاسٹک کے شاپر میں تقسیم کر لیں۔ ہر شاپر میں ایک ایک رنگ کی شیشی انڈیل لیں۔ شاپر کا منہ بند کریں اور نمک کو آپس میں خوب رگڑ لیں۔ جب نمک رنگ جذب کر لے تو کسی اخبار یا کاغذ پر نمک کو دھوپ میں سکھانے کے لئے پھیلا دیں۔ ایک گھنٹے بعد آپ کا رنگ دار نمک تیار ہو گا۔

اسی بارے میں: ۔  سوشل میڈیا پر بہتان تراشی کا رجحان

\"\"

اب آپ شیشے کے جار میں کسی ایک رنگ کے نمک سے ایک انچ کی ایک ناہموار تہہ بنا لیں۔ اس کے بعد دوسرا رنگ، پھر تیسرا اور پھر چوتھا۔ جتنے رنگ آپ کے پاس ہوں گے آپ اتنی ہی تہیں بنا سکتے ہیں۔ مگر پہلے آپ آدھے جار تک تہیں بنا لیں۔ جار میں اتنی جگہ چھوڑ دیں کہ اس میں ایک گلاس کنارے تک سما سکے۔ اب کوئی بھی شیشے کا ایک عام سا گلاس لیں۔ گلاس کی تہہ میں ایک کوئلہ کوٹ کر ایک انچ کی ایک تہہ لگا دیں۔ اس کے بعد گلاس کو مٹی، گوبر یا ناریل کے بھوسے کے آمیزے سے بھر دیں۔ اگر آپ کے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں تو آپ نرسری والے سے گملوں کے لئے تیار کی گئی مٹی سے بھی کام لے سکتے ہیں۔ گلاس میں اپنی پسند کا ایک Succulent اور ایک کیکٹس لگا دیں۔ اب گلاس کو جار کے بالکل درمیان میں رکھ دیں۔ یہ خیال رہے کہ آپ نے جار میں رنگ دار نمک کی اتنی تہیں لگائی ہوں کہ گلاس جار کے کنارے سے ایک انچ نیچے رہے اور گلاس کے چاروں طرف اتنی جگہ ہو کہ اس میں مزید نمک گرایا جا سکے۔ اب جار میں رنگ دار نمک سے مزید تہیں لگا دیں۔ جب جار میں دو انچ کی جگہ بچ جائے تو اس کو اب اپنے پسند کے رنگ کے کسی بھی چپس سے بھر دیں۔ لیجیے آپ کے سینٹر ٹیبل یا سٹڈی ٹیبل کے لئے ایک خوبصورت Terrarium تیار ہے۔ خیال رہے کہ نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ گلاس میں پودے لگانے سے پانی نمک میں نہیں جائے گا۔ Succulent اور کیکٹس کو بہت کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ان کو دس سے پندرہ روز میں ایک بار پانی دیا کریں۔ اپنے پودوں کو پانی دیتے وقت کسی سرنج کا استعمال کیا کریں۔ پانی بالکل پودوں کی جڑوں کے قریب دیا کریں تاکہ وہ گلاس میں ہی جائے۔ گلاس میں کوئلہ ڈالنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ کا پانی زیادہ بھی ہو گیا تو کوئلہ اس کو جذب کر دے گا۔

\"\"

میرا ارادہ تھا کہ آپ کو پودوں والا فیری ہاؤس اور چکنی مٹی سے مجسمہ سازی کا طریقہ بھی سکھا دوں مگر چونکہ کالم کا دامن تنگ ہے اس لئے اس کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔ بلکہ مجسمہ سازی کو بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ اس سے بھی کچھ مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ البتہ اگلی بار میں آپ کو فیری ہاؤس اور بونسائی درخت بنانا سکھاؤں گا۔

اسی بارے میں: ۔  سیاستدان مریخ سے منگوائیں کیا؟

اس بیچ اگر آپ کو کتاب پڑھنے کی بیماری تنگ کرنے لگے تو آپ دوبارہ سے ابن صفی کی عمران سیریز پڑھ لیجیے۔ معافی چاہتا ہوں۔ مجھے کہنا چاہیے تھا کہ عمران سیریز پڑھ لیں۔ ممکن ہے آپ کو اشتیاق احمد کا طالبانی ریاست والا عمران پسند ہو۔ گاہے گاہے آپ کو آدرش، اصول، زندگی کا مقصد جیسی بے معنی باتیں یاد آئیں گی۔ تو آپ نذیر عباسی سے لے کر سلمان حیدر تک کچھ لوگوں کو یاد رکھیے گا۔ آپ کو شاید علم نہ ہو مگر میں آپ کو بتائے دے رہا ہوں کہ اس ملک میں سیکولر کا مفہوم لادینیت ہے۔ یہاں لبرل کا مفہوم مادر پدر آزاد معاشرہ کا قیام ہے۔ یہاں ملحد، لبرل، سیکولر، فاشسٹ، موم بتی مافیا سب ایک مفہوم میں لئے جاتے ہیں۔ مفہوم کا فرق اگر کوئی ہے تو وہ کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں میں ہے۔ یہ میرانہیں اس ملک کے وزیر داخلہ کا سینیٹ میں بیان ہے۔

\"\"

ایک بیان کل افراسیاب خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دیا تھا۔ فرمایا کہ پاکستان کے جمہوری نظام کو ایک چلینج درپیش ہے۔ ایک قانون ہے، آئین ہے جو ملک میں حکمرانی کا ایک طریقہ کار بتاتا ہے۔ اور ایک پاکستان کے اندر ایک ڈیپ سٹیٹ ہے جس کا اپنا ایک طریقہ کار ہے اختلاف رائے سے نمٹنے کا۔ وہ پہلے پرنٹ اور ٹی وی پر بندشیں لگاتا تھا اب سوشل میڈیا پر بھی بندشیں لگانا چاہتا ہے۔ اس ملک میں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ تو موجود ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور مافیا بھی موجود ہے جو خود کو ریاست کہتا ہے۔ تو بھائی یہ بھی افراسیاب خٹک کا بیان ہے میرا نہیں ہے۔ اب افراسیاب ایک سیکولر آدمی ہے تو لبرل بھی ہو گا۔ لبرل ہے تو ملحد یا مادر پدر آزاد سماج کا بھی قائل ہو گا۔ تو بھائی میں اور آپ تو پاکستان کے اسلامی تشخص اور نظریاتی اساس پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر آپ زید حامد کے فالور ہیں تو لکھتے رہیے لیکن اگر آپ کو انسانی آزادی یا سماج میں عقیدے، جنس، زبان اور ثقافت کی بنیاد پر برابری جیسی بیماریاں لاحق ہیں تو بھائی آپ اتوار بازار جائیے اور مطلوبہ سامان خرید لایئے، اگلی بار میں آپ کو فیری ہاؤس بنانے کا طریقہ سکھانے لگا ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 151 posts and counting.See all posts by zafarullah

One thought on “لکھنے کی حماقت کرنے والوں کے لئے کچھ مفید مشورے

  • 11-01-2017 at 8:37 pm
    Permalink

    مسلہ لکھنے سے نہیں ہے، سچ لکھے سے ہے۔ جھوٹ لکھو۔ اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کی طرح لکھو۔ اپنی تحریر سے لوگوں کی آنکھیں کھولو مت، مزید بند کر۔ اُمید اور محبت کی بات مت کرو۔ نفرت اور شدت پسندی کی بات کرو۔ یہ سب کروگے تو کسی کا باپ بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

    اگر جو لکھ رہے ہو وہی لکھتے رہے تو پھر مرنے کے لئے تیار رہو۔

    جھوٹ لکھ کر جینے سے سچ لکھ کر مرنا افضل ہے۔

    جو جاہل اور جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہے وہی مجاہد ہے۔

Comments are closed.