فوجی عدالتوں کا مستقبل


\"\"

ا س بات میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی جمہوریت پسند انسان، خاص طور پر ایک جمہوری اور منتخب حکومت کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کر سکتا۔ لیکن حالات غیر معمولی ہوں تو سوچ اور فیصلے بھی غیر معمولی ہونے چاہئیں۔

دو سا ل کے دوران فوجی عدالتوں نے 274مقدمات میں 161مجرموں کو سزائے موت سنائی جبکہ 113مجرموں کو قید کی مختلف سزائیں سنائی گئیں لیکن اپیل کا حق ہونے کی وجہ سے صرف بارہ مجرموں کو پھانسی دی جا سکی جبکہ باقی مقدمات ابھی تک اپنے منطقی انجام کے منتظر ہیں۔ دو برس کے لئے قائم ہونے والی فوجی عدالتیں اپنی مدت پوری ہونے پر ختم ہو چکی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ملک میں ایک بار پھر یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ہونی چاہیے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گرد حملوں کے خطرے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔

وزیر مملکت مریم اورنگ زیب کے بیان کے بعد پنجاب کے وزیرداخلہ رانا ثنا االلہ نے بھی سجدہ سہو ادا کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کی اہمیت تسلیم کر لی ہے اور حکومتی سطح پر بھی فوجی عدالتوں کی توسیع پر مشاورت کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس سلسلے کے پہلے اجلاس میں حکومت ایک طرف کھڑی نظر آئی جبکہ اپوزیشن سمیت حکومت کی حلیف سیاسی جماعتوں نے بھی بیک زبان فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر حمایت سے انکار کردیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی تو دلیل ہی سبحا ن االلہ کہ ایک ہی مکتب فکر کے لوگوں کو پھانسیاں دی گئیں۔ مکتب فکر؟ کیسا مکتب فکر؟ کیا دہشت گردوں کا بھی کوئی مذہب یا مسلک ہوتا ہے؟ دہشت گردوں کا صرف ایک ہی مکتب فکر ہے۔ وہ اپنی جہالت کو سماج کے ہرفرد پر تھوپنا چاہتے ہیں بصورت دیگر قتل وغارت کے سوا ان کا کوئی مکتب فکر، مذہب یا مسلک نہیں ہے۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے فوجی عدالتوں کی کارکردگی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد بارے بریفنگ دے۔ ظاہر سی بات ہے جب فوجی عدالتوں کے خلاف بات کی جاتی ہے تو اس کا سیدھا سا مطلب مروجہ عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے لیکن دوسرے ہی سانس میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مروجہ عدالتی نظام پر بھی اعتراض کرتے ہوئے یہ شکوہ کرتی ہے کہ اسے عدالتوں سے انصاف نہیں ملا۔ باوجود اس کے کہ پیپلزپارٹی کو پورے پانچ سال اقتدار میں رہنے کا موقع ملا اور مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے پیپلزپارٹی نے دانش مندی کے ساتھ اپنی آئینی مدت بھی پوری کی لیکن عدالتی نظام کی بہتری کے لئے وہ کچھ کرنے میں ناکام رہی۔ یہ بات درست ہے کہ دبنگ چیف جسٹس افتخار چودھری نے اپنی بحالی کے بعد جو رویہ روا رکھا اس سے تقریبا سبھی سیاسی اور سماجی حلقوں کو بہت سے اختلافات ہیں اور وہ بڑی حد تک بجا بھی ہیں، حتی کہ اسی عدالتی نظام کے تحت پیپلزپارٹی کے ایک وزیراعظم کو نا اہل بھی قرار دیا گیا۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ کوئی بھی سیاسی کارکن یا جمہورپسند انسان فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کرسکتا لیکن یہ فارمولہ یا قانون عام حالات میں روا رکھنا ہی مناسب ہے۔ جب روزانہ کی بنیاد پر آپ کے شہروں میں بم دھماکے ہو رہے ہوں اور آپ کے بچے، بوڑھے، جوان اورخواتین کو قتل کیا جا رہا ہوتو یہ حالات معمول کے اقدامات سے ہٹ کر غیر معمولی اقدامات اور قانون سازی کا تقاضا کرتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ بہترین پولیس اور عدالتی نظام موجودہونے کے باجود نائن الیون اور سیون الیون کے بعد انہیں خصوصی قانون سازی اور اقدامات کا سہار ا لینا پڑا۔

گزشتہ دور حکومت میں دہشتگردی اپنے عروج پر تھی لیکن سوات آپریشن اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ثمر سمیٹنے کے لئے حتمی اقدامات نہیں کیے گئے۔ بعد میں وقت نے بھی یہ ثابت کیا کہ فوجی آپریشنز کے دوران جو دہشت گرد مارے جاتے ہیں ان کا قصہ تو پاک ہو گیا لیکن جو دہشت گرد گرفتار ہوتے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے معمول سے ہٹ کر سرعت کے ساتھ غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ادھوری کامیابی کو مکمل کیا جا سکے اور دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مروجہ عدالتی نظام وقت کے ساتھ ساتھ مطلوبہ تقاضوں کو نبھانے کے لئے اقدامات نہ کیے جانے کے باعث اس قدر فرسودہ ہو چکا ہے کہ اس میں ایک بے گناہ کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے سے پہلے پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑتا ہے، بعد میں یہی عدالتیں فیصلے دیتی ہیں کہ پھانسی پر جھول جانے والا بے گناہ انسان اس نظام کی بھینٹ چڑھ گیا۔

اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اس کے ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی تک نہیں ہو پاتی۔ دوسری طرف اسی معاشرے میں بعض بارسوخ امرا اپنے اثر و رسوخ کی بدولت مروجہ عدالتی نظام کی کمزوریوں کو استعمال کر کے اپنی کرتوتوں کی سزا سے بھی بچ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وقت اور جمہور کے اصولوں کا بھی یہ تقاضہ نہیں کہ فوجی عدالتوں کی توسیع کی مخالفت کی جائے۔ کوئی ذی ہوش اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ فوجی عدالتوں کے قیام اور قتل وغارت میں ملوث افراد کو پھانسیاں دینے کے عمل کوا یک بار پھر جاری کرنے سے دہشت گردی کی لہر میں انتہائی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ کہاں وہ وقت تھا کہ دن نکلتے ہیں ٹی وی چینلز کے رپورٹر اس انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے کہ نہ جانے کس دھماکے کی کوریج کے لئے کہاں جانا پڑے اور کہاں یہ وقت ہے کہ ہفتوں گذر جاتے ہیں لیکن دہشت گردی کی کوئی واردات نہیں ہوتی۔ سو ان حالات میں فوجی عدالتوں کی مدت میں اس وقت تک توسیع کے لئے قانون سازی کرنی چاہیے جب تک کہ دہشت گردی کا ناسور اس معاشرے سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا اور پاکستان مکمل طو ر پر ایک پر امن ملک نہیں بن جاتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مروجہ عدالتی نظام کی اوورہالنگ نہ کی جائے۔ وقت آگیا ہے کہ مروجہ عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ پولیس کے نظام میں بھی ایسی کلیدی تبدیلیاں لائی جائیں اور تعلیمی نظام کو بھی یکساں بنیادوں پر اس طرح استوار کیا جائے کہ اس ملک اور معاشرے میں جرم و دہشت کی کہانی ایک بار پھر نہ دہرائی جاسکے اور نہ ہی حالات اس نہج پر جائیں کہ ہمیں فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں سوچنا بھی پڑے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “فوجی عدالتوں کا مستقبل

  • 12-01-2017 at 2:35 pm
    Permalink

    Well done..

Comments are closed.