سوال اٹھانے سے کسے خوف آتا ہے؟


\"\"سر زمین خدا داد کی تاریخ بھی ایسے ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں ’محب وطن‘ اور’ غدار وطن‘ کے دلدوز قصے تین نسلوں سے ڈسکس ہو رہے ہیں۔ مگر ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار وطن ہے۔ دونوں اطراف کے مائنڈ سیٹ ایک دوسرے سے عداوت رکھتے ہیں۔ بد گمانی اور نفرت کی یادداشتوں میں لتھڑے خیالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں پر مکالمہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس تناظر میں سوسائٹی کے مختلف طبقات میں عدم برداشت اور الزام تراشی کے رجحانات بڑی تیزی سے پنپ رہے ہیں جس کی وجہ شدت پسند نظریات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔
ریاستی اور سماجی ادارے بے اثر ہو رہے ہیں اور یہ ملک افرا تفری کی طرف بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے جہاں انارکی کے بیج پروان چڑھ سکتے ہیں اور اس فصل کو کاٹتے کاٹتے بہت وقت لگے گا کیونکہ مختلف طبقہ فکر اور نظریات کے لوگ اپنی اپنی سوچ کو حتمی سمجھتے ہیں اور اس کو سوسائٹی کے باقی ماندہ طبقات پر زبردستی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
صاحبو ہماری سوسائٹی لال دائروں میں قید ہوتی جا رہی ہے جس سے بہت خوفناک نتائج نکل رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں عام لوگوں کو مزید مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے کیونکہ سوسائٹی پر اثر انداز ہونے والے عوامل بہت گنجلک شکل اختیار کر چکے ہیں اور کوئی ادارہ یا فرد اب اس قابل نہیں رہا جس پر سب کو اعتبار ہو۔ جس کی وجہ سے سوسائٹی کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ اس بد گمانی کو کیسے اپنے اپنے مقاصد اور ایجنڈے کی تکمیل کے لئے استعمال کرنا ہے۔
سوسائٹی کی اس تقسیم کے پیچھے مختلف عناصر کارفرما ہیں جن کو مختلف لابیوں سے مبینہ طور پر جوڑ کر پراپیگنڈہ مہم چلائی جاتی ہے۔ مختلف گروہ آج کل ایک دوسرے کوکئی لابیوں سے منسلک کر کے زہر اگلتے ہیں جس کے باعث دن بدن سماجی تقسیم گہری ہوتی جا رہی ہے۔
مثال کے طور پر ان لابیوں میں سرگرم عناصر ایک دوسرے کو یہودی لابی، ایرانی لابی، سعودی لابی ، انڈین لابی، لادین لابی اور موم بتی مارکہ لابی کے القابات سے نوازتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عام آدمی کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس لابی کا حصہ بنے۔ یہ رجحان اپنے آپ میں منفی عمل ہے جو انسانوں کو بہت برے طریقے سے کمزور کر رہا ہے جس کا اثر بچے کھچے سماجی اداروں پر بھی منفی طور پر پڑ رہا ہے۔ اس اثر کی لپیٹ میں سیاسی پارٹیاں اور بیورو کریسی میں اہم اداروں کے افراد بھی آ چکے ہیں۔ اس سوچ کی وجہ سے شخصیات ، ادارے اور ریاست اپنے اپنے کردار میں متنازعہ سمجھے جانے لگے ہیں جو ہمارے سماج کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
کسی بھی تنازعے کے حل کیلئے مثبت مکالمہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے مگر یہ مکالمہ اس وقت تک کارگر ثابت نہیں ہو سکتا جب تک اعتبار کا رشتہ استوار نہ کیا جا سکے۔ اب یہاں پر سوال یہ کھڑا ہوجاتا ہے کہ اعتبار کس پر کیا جائے۔یہ مشکل مرحلہ اس وقت تک عبور نہیں کیا جا سکتا جب تک ریاستی سطح پر کچھ بنیادی اقدامات نہیں کئے جاتے۔
ان اقدامات میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ، ریاست کا بطور سیکولر کردار، اقتدار میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شمولیت کو یقینی بنانا، چھوٹے صوبوں اور کمزور قوموں کے مسائل کوتسلیم کرنا اور ان کے تدارک کیلئے لائحہ عمل تیار کرنا، گورننس کے نظام کو بہتر کر کے عام لوگوں کی وسائل اور سہولیات تک رسائی دینا، لوگوں کیلئے بہتر معاشی پروگرام تشکیل دینا اور ریاستی اداروں کی آپسی کشمکش کی روک تھام کیلئے قانون کی عمل داری کو ہر سطح پر لاگو کروا کر ریاست کی رٹ کو بحال کرنا۔
اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ہمارے مسائل شدت اختیار کرتے جائیں گے اور سوالات اٹھائے جائیں گے۔ یہ بنیادی سوالات پہلے بھی اٹھائے جاتے رہے مگر ان سوالات کا مناسب حل ڈھونڈنے کی بجائے ان کو طاقت کے زور پر دبا دیا گیا جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا کبھی ملک کی تقسیم کی صورت میں، کبھی صوبوں کی آپسی کشمکش کی صورت میں، کبھی مقامی سطح پر تحریکوں کی صورت میں، کبھی آمریت کو خوش آمدید کہنے کی صورت میں، کبھی تشدد پر مبنی رجحانات کی صورت میں، کبھی مذہب کے نام پر پر تشدد کارروائیوں کی صورت میں، کبھی فرقہ کی بنیاد پر قتل وغارت کی صورت میں، کبھی بنیاد پرستی کی صورت میں۔
جب مسائل بڑھ جاتے ہیں اور سوالوں کے جواب نہیں مل پاتے تو پھر آپریشنز کرنے پڑتے ہیں اب تک ہماری ریاست کو کتنے آپریشنز کرنے پڑے جیسے آپریشن سرچ لائٹ، آپریشن راہ حق، آپریشن راہ راست، آپریشن راہ نجات، آپریشن ضرب عضب یا کراچی آپریشن ‘ مگر ہمیں ملا کیا۔ کچھ کامیابیاں ضرور ملیں اور ہمارے سپاہیوں نے قربانیاں بھی دیں مگر کوئی پائیدار حل نہیں ڈھونڈا جا سکا۔
اب ہمیں سوچنا پڑے گا کہ ریاست کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے مختصر حکمت عملی اور طویل المدت حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے۔ ورنہ لوگوں کی اچھی اور بری آوازوں کو دبایا نہیں جا سکے گا۔ زندہ لوگ سوال کریں گے۔ مجھے سوال اٹھانے میں ڈر لگ رہا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ ہم ریاست کے ساتھ مل کر ان سوالوں کے جواب ڈھونڈیں اور تنازعات کو پرامن طور پر حل کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں ورنہ مایوسی پھیلتی رہے گی۔
میری اس بات کو مثبت طریقے سے لیا جائے، مثبت اور تعمیری مکالمے کی صورت میں ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے درپیش سوالات کا جواب ڈھونڈا جائے تاکہ وطن سے بے لوث محبت کو پروان چڑھایا جا سکے۔


Comments

FB Login Required - comments