یونیورسٹیوں کا آدھا تیتر اور آدھا بٹیر


\"\"

اس سلسلے کا پہلا مضمون ” کیا ہماری یونیورسٹیاں ہمیں دھوکہ دے رہی ہیں“ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تحقیق کا میدان بہت اہم ہے اور اس کی ترویج اور پرورش کے لیے جامعات سے بہتر اور کوئی ادارہ ممکن نہیں ہے۔ تاہم تحقیق کے نام پر تحقیق ہی ہونی چاہیے، آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش نہیں۔

تحقیق کو ناپنے کا ایک پیمانہ حقوق دانش بھی ہیں۔ بلکہ ایک تیسری دنیا کے ملک کی ترقی کا انحصار بڑی حد تک نئے جقوق دانش کا حصول ہے۔ انگریزی میں ہم اسے intellectual property rights کہیں گے۔ اس مضمون کا دائرہ اگرچہ سوشل سائنسز کے گرد گھومتا ہے لیکن بنیادی سائنس کے مضامین میں بھی ہماری حقوق دانش کی شماریات قابل رحم ہیں۔

انگریزی میں ایک اور اصطلاح union ticket استعمال ہوتی ہے۔ اس کا مطلب کسی ایسی صلاحیت یا شناخت سے ہے جو آپ کے لیے کچھ مخصوص دروازے وا کر دیتی ہے۔ تعلیمی اداروں کی دنیا میں پی ایچ ڈی کو یونین ٹکٹ کہا جاتا ہے یعنی خواہ آپ کا مقصد جامعاتی سطح پر تعلیمی ادارے سے جڑنے کا ہو یا وہاں اپنا مستقبل تعمیر کرنے کا، دونوں صورتوں میں یہ محض اس وقت ممکن ہے جب آپ ایک پی ایچ ڈی ہوں۔ اصولی طور پر بنیادی سائنسز کے لیے یہ شرط خاصی اہمیت رکھتی ہے اور اس کے پس منظر کو مسترد نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا مطمع ایک ایسی جامعہ کی تعمیر ہے جہاں ہمہ وقت محقق علمی ذخیرے میں اضافہ کر رہے ہوں۔ یہ پہلا زینہ ہے۔ اگلا زینہ وہ ہے جہاں اس علم کو طالب علم تک منتقل کرنا ہے۔ اس کے لیے جو صلاحیتیں درکار ہیں وہ ایک استاد کی ہیں نہ کہ ایک محقق کی۔ ایک محقق اچھا استاد ہو سکتا ہے لیکن یہ ہمیشہ حتمی نہیں ہوتا۔ آئیے ان دونوں باتوں کو کچھ امثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہماری جامعات میں کچھ مستثنیات کے ساتھ نوکری پانے کی شرائط کی رو سے ایک یسا شخص جس کے پاس پی ایچ ڈی نہ ہو وہ زیادہ سے زیادہ لیکچرر یا اسسٹنٹ پروفیسر بن سکتا ہے۔ اس سے آگے کا راستہ صرف پی ایچ ڈی رکھنے والوں کے لیے کھلا ہے۔ ایسوسی ایٹ یا فل پروفیسربننے کی شرائط میں پانچ سے پندرہ مقالوں کا چھپنا ضروری ہے لیکن ان مقالوں کے معیار پر کوئی بات کہیں نہیں کی گئی۔ اور یہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ مقالوں کی دنیا کیسے کام کرتی ہے۔ اسلام آباد کی کم ازکم چار نیم سرکاری اور نجی جامعات کے سربراہان تک کے مقالے چربہ نکلے۔ کچھ جامعات کے کرتا دھرتا کی پی ایچ ڈی ہی جعلی نکل آئی۔ اب بھی بہت سے ایسے لوگ تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں جن کی پی ایچ ڈی جاری کرنے والے ادارے ایک لیٹر پیڈ یا دو فون نمبروں سے بڑھ کر وجود نہیں رکھتے۔ خیر معیار کو ایک طرف رکھ دیں، صرف publish or perish والے فلسفے کا اتباع ہی دیکھ لیں۔

کچھ سال گذرے میں ایک جامعہ کے ایک قابل احترام سربراہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ بات گھومتے گھومتے اساتذہ کے کردار پر آگئی۔ میں نے طنزاً کہا کہ نئے آنے والوں کو تحقیق کا پہاڑہ پڑھانے والے ان سینئر اساتذہ کے بارے میں کیا خیال ہے جو ایک لکیر پر چلتے چلتے آج محض ایک ڈاکٹر نام کے ساتھ لگے ہونے کی وجہ سے فل پروفیسر بنے بیٹھے ہیں اور پچھلے دس سال میں ایک مقالہ بھی اپنے بل بوتے پر تحریر نہیں کر سکے۔ ایسا کیوں نہیں کیا جاتا کہ ہر وہ پروفیسر جو پچھلے پانچ سال میں آزادانہ تحقیق کے ساتھ کوئی مقالہ نہ چھپوا سکا ہو اس کی تنزلی کر دی جائے۔ اگر ترقی پانے کی شرائط ہیں تو اپنے مقام پر ٹکے رہنے کے بھی ضوابط ہونے چاہئیں۔ سربراہ ادارہ مسکرائے اور بولے ” میں پانچ سال کی اس شرط پر لوگوں کی تنزلی کر تو دوں پر اس کا کیا کروں کہ میں نے تو پندرہ سال سے ایک مقالہ نہیں لکھا“۔ ایک مشترکہ قہقہے کے ساتھ بات یہاں ختم ہو گئی۔

اس سے پہلے کہ بات اور آگے بڑھائی جائے، کچھ باتیں سمجھ لینا ضروری ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ہمارا موضوع سوشل سائنسز ہیں اور اس میں بھی عملی یا اپلائیڈ سوشل سائنسز جو ہمارے انسانی وسائل کے بہترین استعمال میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ بنیادی سائنسز ہمارا موضوع نہیں ہیں کیونکہ اس کی ضروریات اور تقاضے مختلف ہیں اور اپنی اصل میں یہ فرق سمجھنا اہم ترین ہے وگرنہ بگاڑ بڑھتا چلا جائے گا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس مضمون سے تحقیق اور محقق کے کردار کو محدود کرنا یا اسے کم تر ثابت کرنا مقصود نہیں ہے۔ تحقیق کے میدان میں ترقی سے اقوام کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے تاہم تحقیق کے معیار اور اس کی سمت کا صحیح تعین کیے بغیر اس میدان میں طبع آزمائی محض خانہ پری رہ جاتی ہے۔ ایک اور مقصد اس تمام بحث چھیڑنے کا یہ ہے کہ ان اسباب پر روشنی ڈالی جاسکے جس کی وجہ سے ہماری جامعات سے فارغ التحصیل طلباء عملی زندگی میں کامیابی کی داستانیں رقم کرنے سے عموماً معذور پائے گئے ہیں اور یہ بھی کہ ان میں بہت سے اپنی زندگی کے اہداف کے تعین میں ایک تباہ کن تشکیک کا شکار ہیں۔ اس بات کو واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ تعلیمی دنیا کے یہ مسائل محض پاکستان یا تیسری دنیا کے نہیں ہے بلکہ ترقی یافتہ دنیا کی جامعات بھی ان کا شکار ہیں اور وہاں بھی اس پر سنجیدہ مکالمہ کچھ وجوہات کی بنا پر پنپ نہیں سکا۔

ہمیں اس امر میں کسی شک کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری جامعات کا معیار کسی بھی طرح قابل رشک نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر جامعات محض گریجویٹ کی آبادی میں اضافے کی ذمہ داری نہیں اٹھاتیں۔ ان کا اصل میدان اعلی تحقیق، حقوق دانش میں خاطر خواہ اضافہ اور عملی دنیا سے ایک ہمہ وقت افادی رابطہ ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں ان تینوں مقاصد کی ترویج نہ ہونے کے برابر ہے۔ اعلی تحقیق نظریاتی بھی ہو سکتی ہے اور عملی بھی۔ نظریاتی تحقیق ترقی یافتہ اقوام کا اثاثہ ہوتی ہے اور تیسری دنیا کے ممالک نتائجی بنیاد پر نظریاتی تحقیق کی ریاضت کے متحمل نہیں ہوتے اور ان کی زیادہ تر توجہ عملی تحقیق کی طرف ہوتی ہے۔ ماضی قریب میں جنوبی کوریا اور ایشین ٹائیگر کہے جانے والی اقوام کے بلاک نے عملی تحقیق کو محور بنا کر قابل رشک ترقی کی۔ ہم اس دوران آدھے تیتر آدھے بٹیر بنے اپنی ترجیحات کے تعین میں مکمل ناکام رہے۔ نہ نظریاتی سطح پر ہماری جامعات اور ہمارے محقق کوئی کارنامہ انجام دے سکے اور عملی تحقیق میں ہماری تہی دامنی تو عیاں ہے ہی۔ اس ضمن میں کسی قومی پالیسی کی تشکیل نہیں کی گئی اور ہائی ایجوکیشن کمیشن کی توجہ صرف اس بات کے گرد گھومتی رہی کہ کس طرح ملکی آبادی میں پی ایچ ڈی کے حامل افراد کا تناسب بڑھایا جا سکے چاہے وہ جیسے بھی پی ایچ ڈی ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ملکی اور غیر ملکی وظیفوں کا جو بازار لگا وہ اپنی جگہ ایک الگ بحث ہے۔ پچھلے عشرے میں گرچہ یہ حقیقت رہی کہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے بہت سے لوگ ہماری جامعات کا حصہ بنے لیکن جامعات کے بین الاقوامی سطح پر معیار میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دی۔

(جاری ہے)

کیا ہماری یونیورسٹیاں ہمیں دھوکہ دے رہی ہیں؟

Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 53 posts and counting.See all posts by hashir-irshad