مندر کا شیر (2)


جب سورج کا آخری شعلہ بھی پہاڑیوں کی اوٹ میں چھپ گیا تو اس کے ساتھ ہی وادی میں چہچہانے والے ہزاروں پرندوں کی آوازیں تھم گئیں۔ شفق گہری ہونے کے ساتھ ہی پہاڑی کے اوپر ایک اُلّو بولنے لگا۔ چاند طلوع ہونے سے پہلے نیم تاریکی کا ایک چھوٹا سا وقفہ آیا۔ یہ وقفہ آتے ہی جھونپڑی کے مکین مُردوں کی طرح خاموش ہو گئے۔ میں نے مضبوطی سے اپنی رائفل پکڑ رکھی تھی اور اندھیرے میں دیکھنے کے لیے آنکھوں پر زور دے رہا تھا کہ شیر میرے درخت کے نیچے سے گزرنے کے بجائے پرے سے گزر کر اپنے گزشتہ شب والے شکار کے پاس گیا۔ اور وہاں فقط ہڈیوں کا ڈھانچہ دیکھ کر غصے میں آ گیا۔ وہ مدھم آواز میں گِدھوں کو برا بھلا کہنے لگا جو اس کے شکار پر ہاتھ صاف کر گئے تھے۔ وہ تین چار منٹ تک بڑبڑاتا رہا اور پھر اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ چاندنی لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہی تھی۔ چند منٹ بعد چاند سامنے والی پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا تھا۔ بیل کی ہڈیاں چاندنی میں سفید سفید چمک رہی تھیں۔ مگر شیر کہیں دکھائی نہ دے رہا تھا۔ شدّتِ احساس سے میرے ہونٹ خشک ہو گئے تھے۔ میں نے ان پر زبان پھیر کر انہیں نم دار کیا اور پھر آہستہ سے سیٹی بجائی۔ بالا سنگھ پہلے ہی چوکنا بیٹھا تھا۔ اس نے فوراً لالٹین روشن کر دی اور جھونپڑی کا دروازہ کھول کر باہر کھڑا ہو کر اگلے حکم کا انتظار کرنے لگا۔ جب سے میں اس درخت پر بیٹھا تھا اس سیٹی کے سوا میں نے کوئی آواز نہ نکالی تھی اور اب جو میں نے نیچے دیکھا تو شیر شفاف چاندنی میں درخت کے نیچے کھڑا تھا اور اپنے داہنے کندھے پر سے بالا سنگھ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میری بندوق کی نالی اور شیر کے سر کے درمیان پانچ فٹ سے زیادہ کا فاصلہ نہ تھا۔ میں جانتا تھا کہ اب شیر میری مُٹھّی میں ہے اور میری ایک ہی گولی اسے ٹھنڈا کر دے گی۔ میں نے بڑے اعتماد سے نشست باندھی اور رائفل کی لبلبی دبا دی۔ لبلبی میری انگلی کے دباؤ تلے دبتی چلی گئی اور کچھ بھی نہ ہوا۔

خدایا! میں کس قدر غیر محتاط واقع ہوا تھا۔ درخت پر بیٹھنے سے پہلے میں نے رائفل میں پانچ کارتوس بھرے تھے۔ کارتوسوں کو باہر نکال کر اس کا معائنہ کرنے کی غرض سے میں نے رائفل کھولی تو کارتوس اپنی جگہ بالکل فِٹ تھے۔ تو پھر کیا وجہ تھی کہ گھوڑا دبانے پر اس نے چلنے سے انکار کر دیا تھا؟ اس کی وجہ مجھے بہت بعد میں سمجھ آئی۔ اگر بندوق پرانی ہوتی تو میں اپنی غلطی کو فورا درست کر لیتا۔ بندوق کو دوبارہ راست کر کے میں نے ابھی اُس کا گھوڑا بھی نہ دبایا تھا کہ وہ خودبخود چل گئی۔ ایک زور دار دھماکا ہوا اور شیر ایک ہی چھلانگ لگا کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ میں نے جلدی سے بالا سنگھ کی طرف دیکھا تو وہ بھاگ کر جھونپڑی کے دروازے کے اندر داخل ہو رہا تھا۔

اب درخت پر بیٹھنا فضول تھا۔ میں نے بالا سنگھ کو آواز دی تاکہ وہ درخت سے اترنے میں میری مدد کرسکے۔ جھونپڑی میں آ کر میں نے جو رائفل کا بغور معائنہ کیا تو جس دکان سے میں نے اسے خریدا تھا اس دکاندار کی مجھے ایک نصیحت یاد آ گئی جو اس رائفل کے متعلق اس نے مجھے کی تھی۔ وہ دُہرے سسٹم والی رائفل تھی اور جب تک اس کے دونوں تالے نہ کھولے جائیں وہ چل نہ سکتی تھی۔ یہ نقطہ میرے ذہن سے بالکل نکل گیا تھا اور جب میں نے اپنی ناکامی کی وجہ بالا سنگھ کو بتائی تو وہ خود کو ملامت کرنے لگا۔ “اگر آپ کی بھاری رائفل اور سُوٹ کیس دونوں یہاں اٹھا لاتا تو ہرگز ایسا نہ ہوتا۔ ” اس وقت میں اُس سے متفق ہو گیا۔ لیکن بعد میں جب دن گزرتے گئے تو مجھے یقین ہو گیا کہ اگر اُس شام میرے پاس بھاری رائفل بھی ہوتی تو شاید پھر بھی میں اُس شیر کو شکار نہ کر پاتا۔

اگلی صبح میں شیر کے متعلق کوئی نئی خبر حاصل کرنے کی خاطر بڑی دیر تک نواحی علاقوں میں پھرتا رہا۔ اور جب ریسٹ ہاؤس میں آیا تو ایک شخص بڑی بےتابی سے میرا انتظار کر رہا تھا۔ اس شخص نے بتایا کہ شیر نے ابھی ابھی اُس کی ایک گائے ہلاک کر دی ہے۔ اُس گائے نے نیا نیا بچھڑا جنا تھا اور اب دودھ نہ ملنے کی صورت میں بچھڑے کی موت کا بھی خطرہ تھا کیونکہ اس وقت اس کی اور کوئی گائے بھی دودھ نہ دے رہی تھی۔

گزشتہ شب شیر کو اس کی خوش قسمتی نے بچا لیا تھا۔ لیکن آخر کب تک قسمت اس کا ساتھ دی گی۔ ان سب شکاروں کا حساب اسے اپنی موت کی صورت میں دینا ہو گا۔ اِس پہاڑی علاقے میں مویشی پہلے ہی کم تھے اور ایک مویشی کا ہلاک ہو جانا بڑا سنجیدہ مسلہ تھا۔ اُس شخص کو اپنے دوسرے مویشیوں کا کوئی خطرہ نہ تھا۔ کیونکہ وہ بھاگ کر اُس کے گاؤں پہنچ چکے تھے۔ لہذا اُس نے مجھے کہا کہ میں بڑے آرام سے کھانا کھاؤں۔ دوپہر کے ایک بجے کھانے سے فارغ ہو کر میں اُس شخص کے ساتھ ہولیا۔ میرے دو آدمی مچان کا سامان اٹھائے ہمارے پیچھے چل رہے تھے۔

ہمارا قریبی راستہ پہاڑی کی چوٹی پر سے گزرتا تھا لیکن میں شیر کے کام میں مُخل نہ ہونا چاہتا تھا۔ لہذا ہم نے پہاڑی کے گِرد چکر کاٹ کر اُس جگہ پہنچنے کا فیصلہ کیا جہاں گائے ہلاک ہوئی تھی۔ راہ میں نم دار زمین پر بھگوڑے مویشیوں کے کھُروں کے گہرے نشان موجود تھے۔ ان پر چلتے ہوئے ہم جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ وہاں خون کا ایک تالاب تھا۔ اس کے اندر سے گائے کو گھسیٹنے کی کشادہ لکیر موجود تھی۔ یہ لکیر کوئی دو سو گز تک جا کر ایک ندی کے کنارے ختم ہو گئی تھی۔ وہاں گھنے درخت تھے۔ ندی میں پاؤں پاؤں پانی تھا۔ شیر اپنا شکار لے کر ندی کے کنارے انہی گھنے درختوں میں کہیں چھپا تھا۔

گائے صبح کے کوئی دس بجے کے قریب ہلاک کی گئی تھی۔ شیر کی اوّلین خواہش یہی ہو گی کہ اپنے شکار کو کسی ایسی جگہ چھپا دے جہاں اس کو کوئی نہ دیکھ سکے۔ لہذا وہ اپنا شکار درختوں کے جھنڈ میں چھپا کر ندی میں سے گزر کر وادی میں اتر گیا تھا۔ جیسا کہ اس کے پنجوں کے نشانات سے معلوم ہوتا تھا۔ ایک ایسا علاقہ جہاں انسان اور مویشی عام چلتے پھرتے ہوں وہاں اس قِسم کا اندازہ کرنا کہ شیر کہاں لیٹا ہو گا بعید از قیاس ہے کیونکہ ہلکی سی مدافعت سے بھی وہ اپنی جگہ بدل لیتا ہے۔ اگرچہ شیر کے پنجوں کے نشان وادی میں اتر گئے تھے لیکن میں اور میرے آدمیوں نے بڑی احتیاط سے ندی کے کنارے تک چل کر رک جانا مناسب سمجھا۔

یہ ندی کوئی دو سو گز شمال سے ایک ایسے تالاب سے شروع ہوتی تھی جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا رہتا تھا۔ یہاں کوئی پندرہ فٹ لمبا ایک گڑھا تھاجس کے دہانے پر گھاس وغیرہ اگی ہوئی تھی۔ ہمارا پہلا اندازہ غلط نکلا۔ شیر نے ندی کے کنارے درختوں کے جھنڈ میں اپنا شکار چھپانے کے بجائے مؤخر الذکر گڑھے میں چھپا رکھا تھا۔ اپنی گائے کو اپنے سامنے مردہ دیکھ کر اس دیہاتی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میرے پاس ہمدردی کے چند الفاظ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ شیر نے گائے کو ابھی تک چھوا نہ تھا۔ اس سے ظاہر تھا کہ شیر اسے بڑے آرام سے کھانا چاہتا تھا۔

ہمیں اب اس گڑھے کے پاس ایسی جگہ تلاش کرنی تھی جہاں آرام سے بیٹھا جا سکے۔ ندی کے دوسرے کنارے چند دیودار کے درخت تھے مگر وہ سب کے سب گڑھے سے دور تھے اور وہاں سے شیر پر ٹھیک سے گولی نہ چلائی جا سکتی تھی۔ علاوہ بریں ان پر چڑھنا مشکل تھا۔ گڑھے سے تیس گز کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا مضبوط درخت ندی کی بائیں سمت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں خاصی گھنیری تھیں۔ زمین سے صرف چھ فٹ اوپر جا کر درخت کا تنا دو شاخوں میں بٹ گیا تھا۔ جن کے درمیان میں آسانی سے بیٹھ سکتا تھا۔ یہ جگہ زمین کے اتنے قریب تھی کہ میرے ساتھیوں نے میرے وہاں بیٹھنے کے خلاف احتجاج کیا لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اپنے ساتھیوں کو وہاں سے روانہ کرنے سے پہلے میں نے انہیں ہدایت کی کہ وہ گزشتہ شب والی جھونپڑی میں واپس چلے جائیں اور وہاں اس وقت تک میرا انتظار کریں جب تک میں انہیں آواز نہ دوں یا ان کے پاس نہ چلا آؤں۔ وہ جھونپڑی وہاں سے زیادہ دور نہ تھی اور درختوں کی شاخوں میں سے صاف دکھائی دے رہی تھی۔

میرے ساتھی شام کے چار بجے کے قریب رخصت ہو گئے۔ میں درخت کی شاخوں میں چھپ کر آرام سے بیٹھ گیا۔ میں جانتا تھا کہ مجھے خاصی دیر انتظار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ تجربات سے مجھے معلوم تھا کہ شیر سورج ‏ غروب ہونے سے پہلے یہاں نہ آئے گا۔ میری بائیں سمت ندی کوئی پچاس گز تک دکھائی دے رہی تھی۔ جو میرے سامنے کوئی دس گز پر بہہ رہی تھی۔ یہ ندی دس گز گہری اور بیس گز چوڑی تھی۔ میرے سامنے درختوں سے خالی پہاڑی چٹانیں تھیں۔ میری دائیں طرف وہ گڑھا تھا جہاں شیر اپنا شکار چھپا گیا تھا۔ مُردہ گائے میری نظروں سے اوجھل تھی۔ کیونکہ لمبی لمبی گھاس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا۔ میری پشت پر لمبی لمبی گہری جنگلی گھاس تھی، جو میرے درخت تک آئی ہوئی تھی اور اسی گھاس نے گائے کو بھی چھپا رکھا تھا۔ شیر اپنا شکار یہاں چھپانے کے بعد ندی میں سے گزر کر وادی کی دوسری سمت چلا گیا تھا اور اس کی واپسی کا امکان بھی اسی راہ سے تھا۔ لہذا میں متواتر ندی کی سمت دیکھ رہا تھا۔ میرا خیال تھا کہ جونہی شیر ندی کے اس کنارے نمودار ہو اس پر فوراً گولی چلا دوں۔

میرے گرد و پیش کئی قسم کے جانور اور پرندے تھے جو مجھے شیر کی آمد سے مطلع کرسکتے تھے۔ لیکن میرا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ پرندوں اور جانوروں کی تنبیہی آواز سنے بغیر میں نے اچانک شیر کو اپنے شکار کے قریب غراتے ہوئے دیکھا۔ وہ میرے قریب سے گزرنے کے بجائے دوسری سمت سے وہاں پہنچ گیا تھا۔ لیکن اس سے مجھے کوئی تردّد نہ ہوا۔ میں تجربے سے جانتا تھا کہ شیر دن کے وقت اپنے شکار کے قریب جم کر کھڑا نہیں رہتا اور وہ تھوڑی دیر بعد ضرور کھلے میدان میں میرے سامنے آئے گا۔ اب وہ اپنا شکار کھا رہا تھا۔ ہڈیاں ٹُوٹنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ پندرہ منٹ گزر گئے۔ اچانک مجھے اپنی بائیں سمت سے ایک کالا ریچھ آتا دکھائی دیا۔ وہ بہت بڑا ریچھ تھا۔ اچانک وہ رک گیا۔ اور اپنی تھوتھنی ہوا میں بلند کر کے زور زور سے سونگھنے لگا۔ اس نے گوشت اور شیر کی بو سونگھ لی تھی۔ میں شکار کے دائیں سمت تھا۔ چونکہ ہوا شمال سے جنوب کو چل رہی تھی اسلیئے ریچھ میری بُو نہ سونگھ سکا۔ تب اچانک وہ زمین پر لیٹ گیا اور چند لمحوں کے بعد بڑی احتیاط سے آہستہ آہستہ شیر کی سمت بڑھنے لگا۔ وہ ایک سائے کی طرح حرکت کر رہا تھا۔ جوں جوں وہ گڑھے کے قریب آ رہا تھا، زیادہ محتاط ہوتا جا رہا تھا۔ جب وہ گڑھے سے چند ہی قدم کے فاصلے پر رہ گیا تو پیٹ کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔ پھر وہ رینگتا ہوا گڑھے کے کنارے پر پہنچ گیا اور اپنا سر اٹھا کر اس کے اندر جھانکنے لگا۔ شیر بڑے مزے سے اپنا شکار کھانے میں مصروف تھا۔ اب کیا ہو گا؟ شدّتِ احساس سے میرا جسم ایک تنے ہوئے رسّے کی طرح تھرّا رہا تھا اور میرے ہونٹ اور حلق سوکھ گئے تھے۔

میں سوچ رہا تھا کہ ریچھ اتنا احمق نہیں ہوسکتا کہ جنگل کے بادشاہ کے شکار میں مُخل ہو۔ لیکن ریچھ کی حرکات میری سوچ کو غلط ثابت کرنے پر تلی ہوئیں تھیں۔ چند لمحے ریچھ اسی طرح گڑھے کے اندر جھانکتا رہا۔ پھر اچانک وہ ایک زبردست چیخ مارکر گڑھے کے اندر کود گیا۔ اس چیخ کا مقصد میرے خیال میں شیر کو ہراساں کرنا تھا۔ لیکن اس کا الٹا اثر ہوا۔ شیر ایک دم مشتعل ہو گیا کیونکہ ریچھ کی چیخ کے جواب میں مجھے ایک تیز گرج سنائی دی۔

(جاری ہے)

(کرنل جم کار بٹ کی کتاب “Temple Tiger & More Man-Eater of Kumaon” کے پہلے باب “Temple Tiger” کا یہ ترجمہ انیس الرحمٰن صاحب نے کیا ہے اور اسے بزم اردو کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے)


Comments

FB Login Required - comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *