جب استاد دامن نے مشاعرہ لوٹا


حسن معراج نے افضال احمد سے دست بستہ عرض کی، کہ غموں کی پوٹلی سے محرومی کا کوئی لمحہ، ہم سب کے لئے۔ ۔ کہنے لگے۔ وہ میرا کشٹ ہے۔ تم استاد دامن کی کہانی سنو۔

ہم، اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ کل کی بات یاد نہیں رہتی اور یاد کی بات، کل کی لگتی ہے۔ شاید اسے ناسٹلجیا کہتے ہیں۔

سن 67 یا غالبا 68 کے موسم بہار کا واقعہ ہے۔ مختار مسعود، لائل پور کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ آپ خود بھی صاحب علم و ادب تھے اور اصحاب علم کے جوہر شناس بھی تھے۔ انتہائی نفیس، خوش لباس اور ملنسار۔ اگر یاد کا آئینہ دھندلا نہیں پڑتا تو ان دنوں ان کے پاس کالے رنگ کی ایک مورس بھی تھی۔ جس کا نمبر ایل وائے 1 ہوا کرتا تھا۔ زندگی اشرافیہ کے موجودہ پروٹوکول سے ناآشنا تھی۔ ایسے ہی ایک دن میں ان سے اپنا ڈومیسائل بنوایا تھا۔ سربازار خریداری کرتے اکثر ان کی گاڑی ریل بازار میں مراد کلاتھ ہائوس کے سامنے کھڑی نظر آ جایا کرتی تھی۔

میں ان دنوں بی کام سالِ اول کا طاب علم تھا۔ مسعود صاحب نے لائل پور میں عوامی مشاعروں کی باقاعدہ ابتدا کی۔ پہلا مشاعرہ، انہوں نے ضلع کونسل لائل پور کے سبزہ زار میں کروایا۔ ملکی سطح کے نامور شعرا کرام موجود تھے۔ ایک طرف احسان دانش صاحب بیٹھے تھے، ان سے پرے، قاسمی صاحب ٹویڈ کا کوٹ پہنے موجود تھے اور ان سے ذرا دور، ترمذی صاحب۔

چونکہ یہ، موجودہ میڈیائی شہرت سے پہلے کی بات ہے سو نہ تو پینا فلیکس کسی درخت کے آگے تن کر کھڑے ہوئے اور نہ ہی کسی اشتہار نے کسی کا راستہ روکا۔ بس انتہائی سادہ، مگر باوقار اور عوامی قسم کی نشست تھی جس میں لوگوں نے کھلے دل سے شرکت کی تھی۔ لان میں کرسیاں بچھی تھیں۔ پہلی صف میں ڈی سی صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے، کچھ فاصلے پہ سہگل خاندان کے لائل پور میں مقیم افراد بیٹھے تھے اور ایک طرف باقی انتظامیہ کے لوگ۔

نظامت، خلیق قریشی صاحب کی ذمہ داری تھی اور وہی اس مشاعرہ کے روح رواں بھی تھے۔ اس تقریب میں اس دور کے ان تمام شعرا کو سننے کا اتفاق ہوا، جن کا نام اب نصابوں سے بھی رخصت ہوتا نظر آتا ہے۔

قاسمی صاحب نے ”پتھر“ سے ابتدا کی اور پھر اپنی اس وقت کی تازہ غزل سنائی جس کا ایک شعر، مجھے آج بھی یاد ہے۔

صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگ
گٹھڑِیاں، سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی

اسی اثنا میں سٹیج پہ ہلکی ہلکی متبسم سرگوشیاں، دائرے کی صورت پھیلنے لگیں۔ غالبا مجمع کے آخری حصے میں کوئی معاملہ تھا۔ پھر کچھ دیر بعد اعلان ہوا کہ استاد دامن، تشریف لا چکے ہیں اور حاضرین کی آخری قطار میں موجود ہیں۔

سفید لٹھے کا تہمد، اسی لٹھے کا گول گلے اور باریک مغزی والا کرتا۔ کندھے پہ سفید صافہ، اور چہرے پہ ہنسی نما مسکراہٹ اور پہلوانی جثہ۔ استاد سٹیج پہ آئے تو بھر پور عوامی استقبال ہوا۔ کئی ثانیوں تک نہ تالیوں کا شور ٹھنڈا پڑا اور نہ استاد کی مسکراہٹ کا دل گیر الاؤ۔
ان دنوں، فلم مکھڑا کے ایک گانا بہت مشہور تھا۔

۔ ساڈا دل چناں کچ دا کھڈونا
ویکھیں اینوں توڑ نہ دویں

مگر گانے کے ساتھ ساتھ، استاد دامن کی یہ پیروڈی بھی بہت مشہور تھی۔

ساڈا پاکستان چناں، کچ دا کھڈونا۔
۔ ویکھیں اینوں کھا نہ جاویں

یہ مملکت خدا داد میں کرپشن کی ابتدا تھی۔ اور اس کا عوامی مزاج۔

سٹیج پہ آنے کے بعداور کلام سنانے سے پہلے، مشاعرے میں آمد کا تذکرہ کرتے ہوئے استاد نے اپنی آمد کا ایک واقعہ سنایا جو میری سماعتوں میں اب بھی استاد کے قہقہوں اور لہجوں سمیت محفوظ ہے۔ ایک مشاعرے کے سلسلے میں ان کا کسی مخلوط تعلیمی ادارے میں جانا ہوا۔ ان کے لباس پہ طالبات کے ایک گروہ نے طلبا سے پوچھا کہ۔ باقی سب تو شاعر ہیں، یہ کون جاٹ ہے۔
استاد دامن نے چوٹ کا جواب اسی محفل میں ایک قطعے کی صورت بے باک کیا

اے سکول اے کڑیاں منڈیاں دا۔
یا فیشن دی ایہہ کوئی فیکٹری اے
کڑی، منڈے دے نال وے انج پھردی،
جیویں الجبرے دے نال جیومیٹری اے۔

کوئی شعر سنائے بغیر، استاد مشاعرہ لوٹ چکے تھے۔


Comments

FB Login Required - comments

افضال احمد

افضال احمد گزرے ہوئے کل کے وہ آدمی ہیں جو آج میں زندگی گزارنے کو مجبوری کا لمحہ تصور کرتے ہیں اور آنے والے کل سے خوف زدہ ہیں۔۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان کا گزرا ہوا کل بھی کسی آسودگی اور آسائش کا معاملہ نہیں بلکہ رنج اور الم کی واردات ہے۔۔۔لیکن اس سب کے باوجود وہ کل ان کا اپنا ہے۔۔۔صرف اپنا۔

afzaal-ahmad has 2 posts and counting.See all posts by afzaal-ahmad

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *